ذیشان خان

Administrator
نیک بندے سے اللہ کی محبت کے ثمرات

تحریر: حافظ عبدالرشید عمری

اللہ تعالٰی نے جن و انس کو صرف اللہ ہی کی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے،
اللہ تعالٰی کی انسان پر بےشمار نعمتیں ہیں،
اور ہر دینی اور دنیاوی نعمت اللہ ہی کی عطا کی ہوئی ہے،
لیکن ساری نعمتوں میں سب سے عظیم الشان نعمت "اللہ پر ایمان لانے کی نعمت ہے" ،
اللہ پر ایمان لانے کے جامع مفہوم میں سارے ارکان ایمان اور ارکان اسلام بھی خود بخود شامل ہیں،
ان ارکان ایمان و اسلام پر ایمان لائے بغیر کسی بھی شخص کا ایمان صحیح نہیں ہوگا۔
اور اللہ تعالٰی ایمان کی نعمت سے اپنے انہیں بندوں کو نوازتا ہے،
جن سے وہ محبت کرتا ہے۔

اور ایک مسلمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ جب اللہ تعالٰی اپنے نیک بندوں سے محبت کرتا ہے،
تو نیک بندوں سے اللہ تعالٰی محبت کرنے کی صورت میں کون سے ایمانی اور اخروی ثمرات حاصل ہوں گے۔
إن شاء اللہ اس ایمان افروز جامع مضمون میں انہیں ایمانی اور اخروی ثمرات پر روشنی ڈالی جائے گی۔

*نیک بندوں سے اللہ کی محبت کے ثمرات درج ذیل ہیں:*

1) اللہ تعالٰی اپنے محبوب بندوں کو ایمان کی توفیق دیتا ہے
2) اللہ تعالٰی اپنے محبوب بندوں کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے
3) اللہ تعالٰی اپنے محبوب بندوں کو عمل صالح کی توفیق دیتا ہے اور نیک اعمال میں ثابت قدمی نصیب فرماتا ہے
4) اللہ کے محبوب بندوں کو اللہ کی محبت کے ساتھ فرشتوں اور اہل ایمان کی محبت بھی نصیب ہوتی ہے
5) اللہ تعالٰی اپنے محبوب بندوں کو دنیا سے اور اس کے شر سے بچاتا ہے
6) اللہ تعالٰی اپنے محبوب بندوں کے ہر معاملے میں نرمی پیدا کرتا ہے
7) اللہ تعالٰی اپنے محبوب بندوں کو موت سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطا فرماتا ہے
8)اللہ تعالٰی اپنے محبوب بندوں کو اخروی سزا بچانے کے کے لئے دنیا ہی میں گناہوں کی سزا دے دیتا ہے
9) اللہ تعالٰی اپنے محبوب بندوں کے جنت میں درجات بلند کرنے کے لئے دنیا میں ان کو مختلف قسم کی آزمائشوں سے آزماتا ہے
10) اللہ تعالٰی اپنے محبوب بندوں کو جھنم سے نجات دیتا ہے

نیک بندوں سے اللہ کی محبت کے ان چند اہم ثمرات کو صحيح احادیث کی روشنی میں جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
راقم سطور نے چند سال قبل قطر میں مذکورہ موضوع میں ذکر کردہ آٹھ ثمرات تو عربی خطبہء جمعہ میں سنا تھا،
اور راقم نے اس خطبہء جمعہ کی اردو ترجمانی بھی پیش کیا تھا،
مذکورہ موضوع میں دو ثمرات نمبر (2) اور نمبر (8) کا اضافہ راقم سطور نے اپنے علم و فہم کے مطابق کیا ہے،
اور تمام ثمرات سے متعلق دلائل صحيح احادیث سے راقم سطور نے جمع کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے۔
نیک بندوں سے اللہ کی محبت کے مزید ثمرات صحیح احادیث کی روشنی میں اور بھی ہو سکتے ہیں،
علماء کرام کو احادیث کے ذخیرہ سے ان ثمرات کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو قرآن و سنت میں وارد ان ایمانی اسباب کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،
جو ہم کو اللہ تعالٰی کی محبت کا مستحق بناتے ہیں۔

*نیک بندے سے اللہ کی محبت ثمرات*
مذکورہ ثمرات سے متعلق دلائل صحيح احادیث سے ملاحظہ فرمائیں:

(1) عن عبدِ اللَّهِ بنِ مسعودٍ قالَ إنَّ اللَّهَ قسمَ بينَكم أخلاقَكم كما قسَّمَ بينَكم أرزاقَكم وإنَّ اللَّهَ تعالى يعطي المالَ من أحبَّ ومن لا يحبُّ ولا يعطي الإيمانَ إلَّا من يحبُّ. فمن ضنَّ بالمالِ أن ينفقَهُ وخافَ العدوَّ أن يجاهدَهُ وهاب اللَّيلَ أن يُكابدَهُ فليُكثر من قولِ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وسبحانَ اللَّهُ والحمدُ للَّهِ واللَّهُ أَكبرُ

المصدر: صحيح الأدب المفرد
الصفحة أو الرقم: 209
خلاصة حكم المحدث: صحيح موقوفاً في حكم المرفوع
____________________________

(2) صحيح البخاري
71 سمعت معاوية - خطيبا - يقول : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : " من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين، وإنما أنا قاسم، والله يعطي، ولن تزال هذه الأمة قائمة على أمر الله، لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله ".
_____________________________

(3) صحيح البخاري
6502 عن أبي هريرة ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن الله قال : من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب، وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه، وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه، فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها، وإن سألني لأعطينه، ولئن استعاذني لأعيذنه، وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن نفس المؤمن يكره الموت، وأنا أكره مساءته ".
_____________________________

(4) صحيح البخاري
3209 قال أبو هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم - وتابعه أبو عاصم ، عن ابن جريج ، قال : أخبرني موسى بن عقبة ، عن نافع ، عن أبي هريرة - عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال : " إذا أحب الله العبد نادى جبريل : إن الله يحب فلانا فأحببه. فيحبه جبريل. فينادي جبريل في أهل السماء : إن الله يحب فلانا فأحبوه. فيحبه أهل السماء، ثم يوضع له القبول في الأرض ".
_____________________________

(5) سنن الترمذي
2036 عن قتادة بن النعمان ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " إذا أحب الله عبدا حماه الدنيا كما يظل أحدكم يحمي سقيمه الماء ".
حكم الحديث: صحيح
_____________________________

(6) إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ لَيُعطي على الرِّفقِ ما لا يُعطي على الخرقِ وإذا أحبَّ اللهُ عبدًا أعطاه الرِّفقَ ، ما من أهلِ بيتٍ يُحرَمون الرِّفقَ ؛ إلا حُرِموا الخيرَ ..

الراوي: جرير بن عبدالله
المحدث: الألباني
المصدر: صحيح الترغيب
الصفحة أو الرقم: 2666
خلاصة حكم المحدث: حسن لغيره.
_____________________________

(7) إذا أحبَّ اللهُ عَبدًا عسَّلَه . قالوا : ما عسَّلَه يا رسولَ اللهِ ؟ قال : يُوفِّقُ لهُ عملًا صالحًا بين يدَي أجلِه حتَّى يرضَى عنهُ جيرانُه أو قال : مَن حولَه ..
الراوي: عمرو بن الحمق
المحدث: الألباني
المصدر: صحيح الترغيب
الصفحة أو الرقم: 3358
خلاصة حكم المحدث: صحيح
_____________________________

(8) سنن الترمذي
2396 عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا أراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا، وإذا أراد الله بعبده الشر أمسك عنه بذنبه حتى يوافي به يوم القيامة ".
حكم الحديث: ( حديث : " إذا أراد الله... " ) حسن صحيح، ( حديث : " إن عظم الجزاء.. " ) حسن
_____________________________

(9) سنن الترمذي
2396 ( م ) عن أنس وبهذا الإسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " إن عظم الجزاء مع عظم البلاء وإن الله إذا أحب قوما ابتلاهم، فمن رضي فله الرضا، ومن سخط فله السخط ".
حكم الحديث: ( حديث : " إذا أراد الله... " ) حسن صحيح، ( حديث : " إن عظم الجزاء.. " ) حسن
_____________________________

(10)- واللهِ لا يُلقي اللهُ حبيبَه في النَّارِ.

الراوي: أنس بن مالك
المحدث: الألباني
المصدر: السلسلة الصحيحة
الصفحة أو الرقم: 2407
خلاصة حكم المحدث: صحيح على شرط الشيخين
التخريج : أخرجه أحمد (13467)، والبزار كما في ((مجمع الزوائد)) للهيثمي (10/386)، والحاكم (7347) واللفظ له.
 
Top