اما بعد
اللہ کے بندو !
ہم میں سے ہر شخص کو اللہ رب العزت موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا، اور اس نے دینی و دنیاوی عمل جو کچھ کیا ہے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔
اسی طرح سے بندے سے اس کے اہل وعیال کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا کے کیسے اس نے پرورش کی، کہاں تک ان کی تربیت کی ، اسی کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”‏ كلكم راع، وكلكم مسئول عن رعيته، الإمام راع ومسئول عن رعيته، والرجل راع في أهله وهو مسئول عن رعيته، والمرأة راعية في بيت زوجها ۔

کہ تم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہو گا۔ امام نگراں ہے اور اس سے سوال اس کی رعایا کے بارے میں ہو گا۔ آدمی اپنے گھر کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔
اس لئے ضروری ہے کہ ہم بچوں کی تربیت کا اہتمام کریں،خاص کرکے لڑکیوں کی تربیت کا خیال رکھیں، تاکہ ان کی عظمت اور شان باقی رہے، کیونکہ عورت ہی سے اجتماعی اخلاق اور اچھے طریقے باقی رہتے ہیں، اس لئے کہ یہی لڑکی جب بڑی ہو گی تو بیوی بنے گی، ماں بنے گی، معلم وغیرہ بن کر بہترین اور صالح اولاد پیدا کر کے ایک اچھا معاشرہ قائم کر سکتی ہے۔
اور اگر اس کے اندر بگاڑ پیدا ہو گیا، تو بہت ساری چیزوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا، اور معاشرے کا امن سکون چھن جائے گا ۔
ہم جب قرآن کریم پر نظر دوڑاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کے زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کی پیدائش کو برا مانا جاتا تھا، ان کے پیدا ہوتے ہی غصے سے لوگوں کے چہرے بگڑتے تھے، اور شرم محسوس کرتے تھے کہ ہم قوم کے سامنے کیسے منہ ددکھائیں گے، پھر حالت یہ ہو جاتی تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں زندہ دفن کر دیتے تھے
اللہ تعالی نے ان کے اس برے عمل سے معاشرےکو پاک کرنے کا حکم دیا اور عورتوں کی عزت بڑھاتے ہوئے ان کے مقام و مرتبہ کا ذکر کیا۔
عورت کی مثال زمین کی طرح ہے ، جس طرح سے زمین سے پیداوار ہوتی ہے وہی مثال ایک عورت کی ہے، کہ اس کے ذریعہ سے ایک اچھا خاندان اور معاشرہ قائم ہوتا ہے
اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا:
يَهَبُ لِمَنْ يَشَاء إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاء الذُّكُورَ
وہ جس کو چاہتا ہے، لڑکیاں دیتا ہے، اورجس کو چاہتا ہے، لڑکے دیتا ہے۔
آپ اس آیت کریمہ میں غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالی نے پہلے عورت کا ذکر کیا اس کے بعد مرد کا ذکر کیا، پھر ہمیں ان کی تحقیر نہیں کرنی چاہیئے اور ان کے مقام و مرتبے کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔
کیونکہ لڑکی ہو یا لڑکا ہمیں نہیں معلوم کہ خیر اور بھلائی کہاں ہے، ہوسکتا ہے اللہ تعالی نے ہمارے لئے اسی میں بھلائی رکھی ہو،

عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تكرهوا البنات فإنهن المؤنسات، الغاليات، [الـمُجَهّزات]».

أخرجه أحمد والطبراني وغيرهما ، وأورده العلامة الألباني رحمه الله في الصحيحة حديث رقم -3206-

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکیوں کو ناپسند مت کرو، کیوں کہ وہ بہت انس و محبت والی، اور عظمت و قدر والی ہیں ۔
معلوم ہوا کہ بیٹیاں حقیقت میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہیں ۔
اسی طرح صالح اولاد بھی چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی وہ آپ کی ٹھنڈک ہوا کرتے ہیں ۔
اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے :
وَالَّـذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا (74)
اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔
اسی طرح سے لڑکیوں کا نان و نفقہ ان کی دیکھ بھال اور تربیت یہ سب اجروثواب کا باعث ہے اور جنت میں بلندیء درجات کا وسیلہ ہے ۔
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة انا وهو. وضم اصابعه".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دو بچیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، تو میں اور وہ روز قیامت اس طرح آئیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربت کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی انگلیوں کو ملایا۔

اسی طرح سے لڑکیوں کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہوجانا، یا کسی طرح کی مصیبت کا سامنا کرنا پڑے تو اس پر بھی اللہ کی طرف سے اجر و ثواب ہے ۔
حدیث شریف کے اندر ہے:
عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: دَخَلَت عَلَيَّ امرأَة ومعَهَا ابنَتَان لَهَا، تَسْأَل فَلَم تَجِد عِندِي شَيئًا غَير تَمرَة وَاحِدَة، فَأَعْطَيتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمتْهَا بَينَ ابنَتَيهَا وَلَم تَأكُل مِنهَا، ثُمَّ قَامَت فَخَرَجَت، فَدَخَل النبي -صلى الله عليه وسلم- علينا، فَأَخْبَرتُه فقال: «مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ هذه البنَاتِ بِشَيءٍ فأَحْسَن إِلَيهِنَّ، كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِن النَّار».
۔ ( متفق علیہ)

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن میرے پاس ایک عورت آئی۔ اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں بھی تھیں۔ اس نے مجھ سے مانگا، لیکن اُسے میرے پاس سے ایک کھجور کے علاوہ کچھ بھی نہ مل سکا۔ چنانچہ میں نے اس کو وہی ایک کھجور دے دی۔ اس نے اس کھجور کو اپنی دونوں بچیوں میں بانٹ دیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا۔ پھر وہ اٹھ کر چلی گئی۔ اتنے میں نبی ﷺ گھر تشریف لائے۔ میں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص ان بچیوں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لئے دوزخ کی آگ سے پردہ بن جائیں گی‘‘۔
خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹیو سے بڑا پیار کرتے تھے ۔
لہذا جب کبھی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ کے پاس آتیں تو آپ پیار سے کہتے (مرحبا بابنتی) کہ میری پیاری بیٹی میں آپ کا استقبال کرتا ہوں۔
ایسے ہی ایک مرتبہ آپ لوگوں کو صلاة پڑھانے کے لئے نکلے تو امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا بھی آپ کے ساتھ چلی گئیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو گود میں لئے صلاة پڑھا رہے ہیں ، آپ جب رکوع میں جاتے تو ان کو زمین پر رکھ دیتے، پھر جب کھڑے ہوتے تھے پھر آپ ان کو گود میں اٹھا لیتے ہیں۔
یہ ہے اسلام میں بیٹیوں کے ساتھ لطف و کرم ان سے محبت و مودت ان کی عظمت و قدر، اور ان کی پرورش اور تربیت کا مقام و مرتبہ اور اس کے بدلے میں جنت میں اعلی مقام ۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بیٹیاں اپنی بلوغت کی عمر تک پہنچ جائیں اور کوئی مناسب رشتہ مل جائے یعنی ایسا لڑکا جس کے دین سے، اخلاق سے، اس کی امانت سے مطمئن اور راضی ہو تو اس سے اس کا نکاح کر دیا جائے

اور بیٹیوں کے ساتھ عفو درگزر، ان کی عزت، ان کے ساتھ احسان، اور عدل و انصاف کا معاملہ کیا جائے، ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی سے بچا جائے

اللہ تعالی سے دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو اسلامی نے نھج پہ اپنی اولاد خصوصا بیٹیوں کی تربیت کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی
 
Top