اما بعد
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور جان لو! دنیا اگر فرحت کا سامان ہے تو اس میں مصیبت اور پریشانیاں اور تنگی بھی ہے، اور بے شک آخرت ہی ہمیشہ ہمیش کا ٹھکانا ہے۔
مسلمانو! لوگوں سے آپسی میل ملاپ سے ہی اخلاق کے جوہر کھلتے ہیں، اور اخلاق کے بغیر کسی بھی میدان میں آپ اختلاف کا، اور لوگوں کی نفرت کا شکار بن جائیں گے۔
کچھ لوگوں کے اندر فطری طور پر، اللہ کی طرف سے اخلاق و مروت اور نرم دلی عطا کر دی جاتی ہے، اسی طرح سے بہت سارے لوگ فطری طور پر اختلاف پیدا کرنے والے اور لڑائی جھگڑے کو جنم دینے والے ہوتے ہیں۔
یہ شیطانی عمل ہوتا ہے، اس سے لوگوں میں دشمنی، اختلاف، اور نفرت کی چنگاریاں پھیلتی ہیں۔
پھر اسی طرح سے دن و رات گزرتے رہتے ہیں، اور حالت یہ ہوتی ہے کہ، اس کے پاس اچھے اعمال کا کوئی ذخیرہ اکٹھا نہیں ہو پاتا، اللہ تعالی کے پاس ہی اتنی طاقت ہے جو حالات کو بدل سکتا ہے۔
مومن کی نشانی یہ ہے، کہ وہ خوش اخلاق، مبارک، خوشگوار اور نرم ہوتا ہے، اس کے پاس دھوکا دھڑی، ظلم اور سرکشی، اور اس کے دل میں حسد کا شائبہ تک نہیں ہوتا، مومن نیک طبیعت ، خوش حال، مضبوط ایمان والا، رب کا فرماں بردار ہوتا ہے، اور شیطان کی پیروی، اور نفس کی بری خواہشات سے کوسوں دور ہوتا ہے،
اسلام کے اندر عفو درگزر اور معافی، غصہ کو پی جانا،اور لوگوں پر احسان کی بڑی اہمیت اور اس کی قدر ہے ۔
اللہ تعالی قرآن کریم کے اندر فرماتا ہے:
وَسَارِعُوٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ (آل عمران 133)
اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور جنت کی طرف جس کا عرض (وسعت) آسمان اور زمین ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران۔ 134)
جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
ما زاد الله عبدا بعفو إلا عزا
یعنی معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت مزید بڑھا دیتا ہے۔
اس کے علاوہ بہت زیادہ احادیث کے اندر بندہء مسلم کو عفو درگذر، لوگوں سے اچھا معاملہ، اور برائی کو برائی سے نہ ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اور اگر کسی وجہ سے لڑائی جھگڑے کا کوئی معاملہ پیش آ جائے تو لوگوں اسے اچھی طرح سے ختم کرنے کا، اور برائی سے پیش آنے والے سے بھی اچھے انداز سے پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے۔
فرمان الہی ہے: وَلَا تَسْتَوِى الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ اِدْفَـعْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّـذِىْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٝ عَدَاوَةٌ كَاَنَّـهٝ وَلِـىٌّ حَـمِـيْـمٌ (فصلت۔ 34)
اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، (برائی کا) مقابلہ اس بات سے کیجیے جو اچھی ہو پھر ناگہاں وہ شخص جو تیرے اور اس کے درمیان دشمنی تھی ایسا ہوگا گویا کہ وہ مخلص دوست ہے۔
قرآن کریم میں اللہ رب العالمین نے تین جملوں کے اندر احکام کی پابندی اور اس کی منع کردہ چیزوں سے رکنے کا حکم دیا ہے۔
اس آیت میں تین مسائل بیان کئے گئے ہیں۔
*العفو* اس سے مراد رشتے داریوں کو کاٹنے والے لوگوں کو جوڑنا،
غلطی کرنے والوں کو معاف کرنا، مومنین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا ہے۔
٢- *امر بالمعروف* اس سے مراد رشتے داریوں کو جوڑنا، اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنا، نگاہوں کو جھکائے رکھنا، اور ساتھ ساتھ ہمیشہ کی زندگی یعنی آخرت کی تیاری کرنا یہ سب اس میں شامل ہیں۔
٣ ۔ *جاہلوں سے اعراض کرنا یعنی الجھنا نہیں۔*
اس کے ذریعے علم سے تعلق کو مضبوط کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور ظلم کرنے والوں سے اعراض کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اوربے وقوفوں سے پاکیزہ انداز سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح سے امیر غریب سب سے اچھے اخلاق سے پیش آنے کا
حکم دیا گیا۔
جعفر صادق رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے انبیاء کرام کو اچھے اخلاق کا حکم دیا ۔
قرآن کریم کے اندر تمام آیات میں اچھے اخلاق کو جمع کر دیا گیا ہے ۔
اللہ کے بندو !
عفو درگزر کے نتیجے اور ثمرات بہت ہی عظیم اور بہت برتر ہیں ۔
اور جو اللہ کے بندوں کو معاف کرے گا اللہ تعالیٰ اسے معاف کرے گا
فرمان باری تعالی ہے
فَمَنْ عَفَـا وَأَصْلَـحَ فَأَجْـرُهُ عَلَى اللَّهِ
جو معاف کردے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمـہ ہے ( الشوریٰ : ٤٠)
اسی لئے اللہ تعالی نے مومنو کو معافی اور درگزر کا حکم دیا ہے ۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا ۗ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّـٰهُ لَكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (النور۔ 22)
اور انہیں معاف کرنا اور درگذر کرنا چاہیے، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔

بلکہ ہمارے دین نے بیچنے اور خریدنے کے وقت بھی تاجر کو معافی کا حکم دیا ۔
عن ابی هريرة ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏كان تاجر يداين الناس، فإذا رأى معسرا قال لفتيانه تجاوزوا عنه، لعل الله أن يتجاوز عنا، فتجاوز الله عنه‏"‏‏.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا۔

اسی طرح سے عفو درگزر کا
فائدہ یہ ہے کہ اس سے سعادت و نیک بختی اور دلی سکون حاصل ہوتا ہے۔

عفو درگزر کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کے اس سے اختلاف ختم ہوتا ہے، امت کے اندر قوت بیدار ہوتی ہے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے :
وَاَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ ۖ وَاصْبِـرُوْا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ مَعَ الصَّابِـرِيْنَ (46)
اور اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر غورکیجیے کتنا حسین تھا کہ آپ نے کبھی اپنے نفس کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا، بلکہ ظلم کرنے والوں کے ساتھ بھی عفودرگزر کے ساتھ بھلائی اور احسان کا معاملہ کیا۔
عن عائشة -رضي الله عنها- مرفوعاً: «ما ضرب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- شيئا قَطُّ بيده، ولا امرأة ولا خادما، إلا أن يجاهد في سبيل الله، وما نيِل منه شيء قَطُّ فينتقم من صاحبه، إلا أن ينتهك شيء من محارم الله تعالى، فينتقم لله تعالى» رواہ مسلم
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ ہی کسی عورت کو، نہ ہی کسی خادم کو۔ اِلاّ یہ کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہوں۔ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ آپ ﷺ کو کوئی نقصان پہنچایا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس پر انتقام لیا ہو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی پر آپ ﷺ اللہ کے لیے انتقام لیا کرتے تھے۔
اللہ تعالی ہم سب کو عفو درگزر کی توفیق بخشے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کی توفیق ۔ آمین
صفی الرحمن ابن مسلم
 
Top