*" چاٸے سے زیادہ کیتلی گرم "*

ڈاکٹر ذاکر ناٸک حفظہ اللہ کے نام پر دو طرفہ حد جنوں کو پار کرجانے والی لا حاصل بحثوں کا سلسلہ جارہی ہے۔
بیشک ڈاکٹر صاحب کی خدمات، ان کی محنتیں قابل قدر ہیں، ڈبیٹ میں ساٸل کو عقلی و نقلی جواب سے مطمٸن کر دینا ان کا ایک منفرد فن ہے۔ جس کیلٸے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں.
مگر جس طرح سے شوشل میڈیا میں کچھ بے جا اور لغو تو تڑاکے اور اپنے ہی علما ٕ کی ہجو اور بے عزتی کا دور چل رہا ہے نہایت خطرناک اور بے جا گفتگو کا پلندہ ہے۔
شاید ذاکر ناٸک حفظہ اللہ بھی اگر سنیں گے تو اس سے برات کا اظہار کر دیں گے ۔
کیونکہ مخلص داعی ہر قدم پہ جس طرح دوسرے کی اصلاح کرتا ہے اسی طرح اپنی بھی اصلاح چاہتا ہے، اور علمی تنقید سے وہ مستفیدہ ہوتا ہے ۔
مگر مجھے افسوس ہوتا کہ کچھ اہل علم بھی اہل علم کی علمی تنقید پر اس طرح بپھر جاتے ہیں اور ایسی ایسی باتیں نام بنام لکھتے ہیں اور ایسے ایسے القاب سے نوازتے ہیں، گویا کوٸی پرانی دشمنی ہو، خیر خواہی کا جذبہ کہیں دور دور تک دکھاٸی ہی نہیں دیتا ۔
حد تو یہ ہے کہ اسلاف کرام کی بھی بے پرواٸی کیساتھ کھال کھینچنے لگتے ہیں۔
علمی لوگوں سے الگ دو گروہ ہیں جو ان کی شان میں غلو کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔
ایک گروہ ڈاکٹر صاحب کو جنون کی حد تک ایسے القاب سے نوازتا ہیں جو نا انصافی سے بھرا ہوتا ہے ۔
اور دوسرا گروہ تعریف میں ایسے القاب سے نوازتے ہیں جو غلو کی حد تک پہونچا ہوتا ہے ۔
ایسے ہی معوقع پر کہتے ہیں" چاٸے سے زیادہ کیتلی گرم "
معذرت!
چمن میں تلخ نواٸی مری گوارا کر

اللہ تعالی ہمیں لوگوں سے خیر خواہی کے جذبہ کیساتھ حق کو پھیلانے کی توفیق دے۔ آمین

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
بندی کلاں، مٸو، یوپی
 
Top