ذیشان خان

Administrator
کیا بیٹا باپ سے پہلے حج کرسکتا ہے ؟

===============
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
شیخ مقبول احمد سلفی صاحب!
امید کرتا ہوں کہ آپ ودیگر تمام لوگ خیر وعافیت سےهوں گے شیخ میرا ایک سوال هے که زید کےوالد بکر بوڑھے هوچکے هیں چلنے پهرنےسے قاصرهیں اور بکرکی مالی حالت بھی سازگار نہیں ہے لیکن انکے بیٹے زید کے پاس مال و دولت هے اور زید حج کرنا چاہتا ہے تو کیا زید کا حج کرنا درست هے یا پھر زید پہلے اپنے باپ بکر کو حج کروائے گا، یاد رهے که بکر چلنے سے قاصر ہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں گے مہربانی ہوگی۔

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعون اللہ الوھاب
الحمد للہ !
اوپر جو صورت حال ذکر کی گئی ہے اس کی روشنی میں صرف بیٹے پر حج فرض ہے کیونکہ مالی استطاعت بیٹے کے پاس ہے۔ اللہ کا فرمان ہے :
{وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا وَ مَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ}(آل عمران:97)
ترجمہ: اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے جو اس کی طرف راستے کی استطاعت رکھتے ہوں اور جو کفر کرے تو بلاشبہ اللہ جہان والوں سے بے نیاز ہے۔
باپ کے پاس مالی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے اوپر حج فرض نہیں ہوتا اس وجہ سے بیٹا باپ کے بغیر اکیلا حج کرے گا ۔

واللہ اعلم

کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top