قرض سے نجات کی دعائیں
ابو حمدان اشرف فیضی، رائیدرگ
----------------------------------------------
اسلام نے جہاں سودی نظام کو ختم کیا اور اس کی حرمت کا اعلان کیا وہیں قرض کے لین دین کو جائز ومشروع قرار دیا اور باقاعدہ اس کے اصول وآداب بھی مقرر کئے، قرض کے حوالے سے اسلام کی ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ قرض بوقت ضرورت و مجبوری لیا جائے ، ادائیگی کی نیت سے لیا جائے اور وقت مقررہ پر ادا کرنے کی مکمل کوشش کی جائے اور ساتھ ہی ادائیگی کے لئے دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، جیساکہ نبی ﷺ سے بہت سی دعائیں ثابت ہیں ان مسنون دعاؤں کا بھی سہارا لیں، بعض دعائیں ملاحظہ فرمائیں:

1- اللَّهُمَّ إنِّي أعُوذُ بكَ مِنَ المَأْثَمِ والمَغْرَمِ:
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا کرتے تھے، اللَّهُمَّ إنِّي أعُوذُ بكَ مِنَ المَأْثَمِ والمَغْرَمِ، اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے، تو کسی کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اتنا زیادہ قرض سے کیوں پناہ مانگتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: إنَّ الرَّجُلَ إذا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ، ووَعَدَ فأخْلَفَ.، آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔
(صحيح البخاري: ٢٣٩٧)

2- اللهمَّ إنِّي أعوذُ بك من غلبةِ الدَّينِ، وغَلَبَةِ العدِّو، وشماتَةِ الأعداءِ
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعے دعا کرتے تھے: اللهمَّ إنِّي أعوذُ بك من غلبةِ الدَّينِ، وغَلَبَةِ العدِّو، وشماتَةِ الأعداءِ،
اےاللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں قرض کے غلبہ سے، دشمن کے غلبہ سے، اور دشمنوں کے ہنسنے سے۔

3- اللَّهُمَّ إنِّي أعُوذُ بكَ مِنَ الهَمِّ والحَزَنِ، والعَجْزِ والكَسَلِ، والجُبْنِ والبُخْلِ، وضَلَعِ الدَّيْنِ، وغَلَبَةِ الرِّجالِ.
(صحيح البخاري: ٦٣٦٩)

اےاللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں غم اور فکر سے، عاجزی اور سستی سے، بزدلی اور بخیلی سے قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے

4- اللَّهمَّ اكفني بِحلالِكَ عن حرامِكَ، وأغنِني بِفَضلِكَ عَمن سواكَ
علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک مکاتب غلام آیا اور کہا کہ میں اپنی مکاتبت کی رقم دینے سے عاجز ہوں، آپ میری مدد کیجئے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تجھے وہ کلمات نہ سکھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائے تھے، اگر تیرے اوپر صیر پہاڑ کے برابر قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تیری طرف سے اسے ادا کردے گا (ادائیگی کے اسباب پیدا کر دے گا) ، یہ دعا پڑھو:
اللَّهمَّ اكفني بِحلالِكَ عن حرامِكَ، وأغنِني بِفَضلِكَ عَمن سواكَ
(صحيح الترمذي : ٣٥٦٣)
اےاللہ تو مجھے کفایت کر دے حلال دے کر حرام سے اور اپنا فضل نواز کو دوسروں سے مجھے بے نیاز کر دے۔

5-اللهمَّ مالكَ الملكِ تُؤتي الملكَ مَن تشاءُ، وتنزعُ الملكَ ممن تشاءُ، وتُعِزُّ مَن تشاءُ، وتذِلُّ مَن تشاءُ، بيدِك الخيرُ إنك على كلِّ شيءٍ قديرٌ. رحمنُ الدنيا والآخرةِ ورحيمُهما، تعطيهما من تشاءُ، وتمنعُ منهما من تشاءُ، ارحمْني رحمةً تُغنيني بها عن رحمةِ مَن سواك
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میں تمہیں ایک دعا نہ سکھاؤں جو تم کرو اور اگر تمہارے اوپر احد پہاڑ کے برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے تمہاری طرف سے ادا کر دے گا، یہ دعا پڑھو:
(اللهمَّ مالكَ الملكِ تُؤتي الملكَ مَن تشاءُ، وتنزعُ الملكَ ممن تشاءُ، وتُعِزُّ مَن تشاءُ، وتذِلُّ مَن تشاءُ، بيدِك الخيرُ إنك على كلِّ شيءٍ قديرٌ. رحمنُ الدنيا والآخرةِ ورحيمُهما، تعطيهما من تشاءُ، وتمنعُ منهما من تشاءُ، ارحمْني رحمةً تُغنيني بها عن رحمةِ مَن سواك).
(صحيح الترغيب ١٨٢١)

6-اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَواتِ وَرَبَّ الأرْضِ وَرَبَّ العَرْشِ العَظِيمِ، رَبَّنا وَرَبَّ كُلِّ شيءٍ، فالِقَ الحَبِّ والنَّوى، وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ والإِنْجِيلِ والْفُرْقانِ، أَعُوذُ بكَ مِن شَرِّ كُلِّ شيءٍ أَنْتَ آخِذٌ بناصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الأوَّلُ فليسَ قَبْلَكَ شيءٌ، وَأَنْتَ الآخِرُ فليسَ بَعْدَكَ شيءٌ، وَأَنْتَ الظّاهِرُ فليسَ فَوْقَكَ شيءٌ، وَأَنْتَ الباطِنُ فليسَ دُونَكَ شيءٌ، اقْضِ عَنّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنا مِنَ الفَقْرِ
ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم اپنے بستروں پر سونے جانے لگیں تو یہ دعا پڑھ لیں:
(مذکورہ دعا)
(صحيح مسلم: ٢٧١٣)
موجودہ صورتحال
آج سماج اور معاشرے کا حال یہ ہے کہ اکثر لوگ ضرورت اور مجبوری میں نہیں بلکہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے ، جھوٹی شان ظاہر کرنے کے لئے اور اسراف وفضول خرچی کے لئے بڑی بڑی رقم قرض لیتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے قرض واپس نہ کرنے کی صورت میں لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ،اور نفرت و عداوت تک کی نوبت آجاتی ہے، سماج میں رسوائی ہوتی ہے، بسا اوقات عزت و آبرو کے ساتھ گھر بار، زمین جائیداد سب لٹ جاتے ہیں،زندگی کا چین وسکون غارت ہو جاتا ہے،بعض لوگ خود کشی جیسے جرم عظیم کے مرتکب ہوجاتے ہیں،الامان والحفيظ
گزارش:
ہماری ہمدردانہ اپیل ہے کہ دلوں سے حرص و لالچ نکال دیں، طاقت سے بڑھ کر بڑے بڑے خواب نہ دیکھیں، قناعت کی زندگی گزاریں، اللہ تعالیٰ نے جس حال میں بھی رکھا ہے اپنے سے زیادہ کمزور ومجبور انسان کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کریں، خوشگوار وپرکیف زندگی نصیب ہوگی، ان شاءاللہ

اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائے، قناعت کی زندگی عطا فرمائے اور حرص و لالچ سے بچائے،آمین
----------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
31/اگست 2021، بروز منگل

 
Top