انتقال پر ملال
ابو عمار ابراهيم منور المدني رحمه الله

پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ اعلان تیزی سے گردش کر رہا تھا کہ *جامعۃ النسوان السلفیہ تروپتی کے شیخ الجامعہ شیخ ابو عمار ابراہیم منور مدنی* کی طبیعت ناساز ہے،شیخ کے حق میں دعاؤں کی پرخلوص گزارش ہے،آج جمعہ کی مناسبت سے خصوصی طور پر پرزور اپیل کی گئی تھی،بیماری کی اطلاع ملتے ہی طبیعت بے چین تھی،دل اداس تھا،کیونکہ کرونا کی اس مہاماری میں ہاسپٹلوں کے حالات انتہائی مایوس کن ہیں،خود مسلسل دعائیں کر رہا تھا اور احباب جماعت سے بھی کئی بار دعاؤں کی اپیل کیا،آج بھی بعد نماز جمعہ شیخ کے حق میں دعاؤں کی درخواست کی، سب نے جلد صحت یابی کی دعا کی مگر کسے معلوم کہ وقت موعود آچکا تھا، ابھی مسجد ہی میں بیٹھے تھے کہ ایک نوجوان نے افسوسناک اطلاع دی کہ شیخ کا انتقال ہوگیا ہے، انا لله وانا اليه راجعون،
یقیناً اس خبر نے ہمارے ہوش اڑا دئیے، بڑی ہمت سے اپنے آپ کو سنبھالا اور مغفرت کی دعا کی، *اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وادخله الجنة*
جوانی کی اس عمر میں اچانک وفات پاجانا اہل خانہ اور متعلقین کے لئے عظیم حادثہ ہے ،مگر رب العالمین کے ہر فیصلے سے راضی ہونا یہ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے،
إنَّ العَيْنَ تَدْمَعُ، والقَلْبَ يَحْزَنُ، ولا نَقُولُ إلّا ما يَرْضى رَبُّنا، وإنّا بفِراقِكَ يا إبْراهِيمُ لَمَحْزُونُونَ.
اس چھوٹی عمر میں شیخ موصوف کے کندھوں پر قوم وجماعت کی بہت ساری ذمہ داریاں تھیں، عالم اسلام کی معروف درسگاہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیدھے لڑکیوں کے مشہور اقامتی ادارہ جامعۃ النسوان السلفیہ تروپتی سے جوائن ہوگئے، منتظمین ادارہ نے آپ کی صلاحیتوں کو دیکھ کر آپ کو شیخ الجامعہ کی ذمہ داری سونپی، ذمہ داری سنبھالتے ہی ادارے کی تعمیر و ترقی میں لگ گئے، اولاً ملک کے کبار علماء ومتخصصین کے مشوروں سے تعلیمی نصاب مرتب کیا، مختلف مناسبتوں سے ماہرین فن کو مدعو کرکے علمی محاضرات کا انعقاد کیا، تعلیم وتربیت کا خوبصورت ماحول قائم ہوگیا، سرپرست ادارہ محترمہ آپا کی زندگی میں ناگہانی آفت اور آزمائش آنے کے باوجود اس مشکل گھڑی میں ادارے کو سنبھالا،
جماعت و جمعیت سے آپ کا بڑا لگاؤ تھا،بڑے فعال اور متحرک داعی تھے، مقامی جمعیت اہل حدیث ہندوپور کے سابق امیر اور صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھرا پردیش کے سابق نائب امیر تھے، ضلعی جمعیت اہل حدیث اننت پور کے تمام پروگراموں میں شریک ہوتے تھے اور اپنے گراں قدر خطاب سے سامعین کو مستفیض فرماتے تھے ، ابھی رمضان سے قبل بتاریخ 28/مارچ بروز اتوار جمعیت اہل حدیث کدری کے زیر اہتمام نصف روزہ اجتماع منعقد ہوا جس میں شیخ تروپتی سے بس کا سفر کرکے شریک اجلاس ہوئے اور خواتین کے موضوع پر دلنشین خطاب کئے،
شیخ موصوف بڑے خلیق، ملنسار اور متواضع تھے،ہر ایک سے خوشگوار تعلقات تھے،
*خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں*
اللہ تعالیٰ آپ کے حسنات کو قبول فرمائے، بشری لغزشوں کو معاف فرمائے، اہل خانہ، جملہ پسماندگان، متعلقین، محبین، معلمین، معلمات،اور طالبات جامعۃ النسوان کو صبر جمیل عطا فرمائے، جنت الفردوس میں جگہ دے، آمین

شریک غم
*ابو حمدان اشرف فیضی*
امیر ضلعی جمعیت اہل حدیث اننت پور
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
30/اپریل 2021 بروز جمعہ
 
Top