تعزیتی پیغام
(بروفات حسرت آیات فضیلۃ الشیخ صفی احمدسلفی مدنی ؍رحمہ اللہ)

گرامی قدر مکرم ومحترم جناب سعید احمدو خالد احمد ؍حفظہما اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کہ مزاج عالی بعافیت ہو!
آپ کے والد گرامی کے انتقال کی خبرمنتظمین جامعہ،اساتذہ،طلبہ وابناء جامعہ سبھوں کے لئے باعث رنج والم ثابت ہوئی،إنا للہ وإنا إلیہ راجعون ،طویل عرصہ سے آپ بیمار رہتے تھے ،بیماری اور جسمانی نقاہت کے باوجود دینی،دعوتی اور تدریسی کاموںمیں ہمیشہ مصروف رہتے تھے،آج صبح دس بجے اچانک وفات کی خبر پڑھ کر شدید صدمہ ہوا،دل اداس وبے قرار ہوگیا،ان العین تد مع والقلب یحزن ولا نقول الا مایرضی ربنا وانا بفراقک لمحزونون۔
صوبہ کرناٹک کا مشہور شہر ’’ رائچور ‘‘ آپ کی پیدائشی بستی ہے ،مگر فراغت کے بعد آپ نے حیدرآباد کو اپنا مرکز عمل بنایا،صوبائی جمعیت اہل حدیث متحدہ آندھرا پردیش کے سابق امیر اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے سابق رکن عاملہ وشوریٰ تھے،مجلس علماء صوبہ تلنگانہ کے صدر تھے ، مسجد محبوبیہ اہل حدیث چنچل گڈہ ،حیدرآباد کے مستقل خطیب تھے،شہری جمعیت اہل حدیث حیدرآباد وسکندرآباد کے داعی ،مربی اور مفتی تھے،الغرض آپ جماعت وجمعیت کے مختلف اہم وکلیدی عہدوں پر فائز رہے اور پوری زندگی بحسن وخوبی تمام ذ مہ داریاں انجام دیتے رہے ،اللہ تعالیٰ آپ کی مخلصانہ کوششوں کو قبول فرمائے ،آمین
آپ رحمہ اللہ انتہائی خلیق،متشرع ،ملنساراورمتواضع وسنجیدہ عالم دین تھے،ایک باکمال خطیب،مثالی داعی اور فعال ومتحرک منتظم تھے،جماعت وجمعیت کی تعمیر وترقی میں ہمیشہ کوشاں وفکرمند رہتے تھے،بالخصوص حیدرآباد اور اطراف واکناف میں آپ کی قابل قدرور وشن خدمات ہیں ،حیدرآباد میں جامعۃ السلفیہ کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا جس سے بہت سے طلبہ نے اکتساب فیض کیا،درجنوں کتابوں کے مؤلف ومترجم تھے ،خدابخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں،آپ کی رحلت قوم وملت اورجماعت وجمعیت کے لئے ایک عظیم حادثہ اور تعلیمی ودعوتی میدان میںعظیم خسارہ ہے ،اللہم أجرنا فی مصیبتنا وأخلف لنا خیراً منہ۔
شیخ محترم کا جامعہ سے قلبی لگاؤ تھا،متعدد بار جامعہ تشریف لائے ،پہلی مرتبہ جب ۱۹۷۹ء میں تشریف لائے اس وقت بانی جامعہ مولانا سید اسماعیل صاحب رائیدرگی ؍رحمہ اللہ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا، حیدرآباد میں فارغین جامعہ سے آپ بے پناہ محبت کرتے تھے اور انہیں مفید مشوروں سے نوازتے تھے،فجزاہ اللہ أحسن الجزاء۔
یقینا آپ فرزندان کے لئے اور آپ کے اہل خانہ کے لئے یہ عظیم صدمہ ہے ،اس المناک اور مشکل گھڑی میں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ،موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے ہرشخص کو گزرنا ہے،قضا وقدر پر ایمان رکھنا مومن کی پہچان ہے،اللہ کے فیصلے سے ہرحال میں راضی رہیںاور والد مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ولد صالح یدعو لہ کے مصداق بنیں، اللہ تعالیٰ آپ کو ،آپ کی والدہ اور جملہ اہل خانہ ومتعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین۔
اللہ تعالیٰ شیخ محترم کے حسنات وخدمات کو شرف قبولیت بخشے، بشری کوتاہیوں ولغزشوںکو معاف فرمائے،اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔آمین۔
قارئین سے شیخ کے حق میں دعاء مغفرت کی درخواست ہے۔
والسلام

ابوحمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ
۱۱؍جمادی الأخری ۱۴۴۲ھ،۲۵ ؍جنوری ۲۰۲۱ء بروز پیر
 
Top