گرامی قدرناظم جامعۃ الحسنات بلہاری؍حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کہ مزاج گرامی بخیر وعافیت ہو!
خدمت عالیہ میں عرض اینکہ آپ کی طرف سے ارسال کردہ معلمین ومعلمات اور طالبات کے۱۹؍موضوعات تصحیح ونظر ثانی کے لئے موصول ہوئے،ادارے کی گوناگوںمصروفیات کی وجہ سے بڑی عجلت میں تمام موضوعات کا مطالعہ کیا،اثناء مطالعہ بعض مفید اور علمی ومعیاری تحریروں سے گزرہوا،دلی مسرت ہوئی ،بعض مقامات قابل اصلاح بھی تھے، حتی المقدور ان کی اصلاح بھی کیا،الحمدللہ جامعۃ الحسنات کے معلمین ومعلمات اور طالبات کی قلمی کاوشوں کا یہ حسین گلدستہ ہے، حالات حاضرہ کے مطابق متنوع موضوعات پر خامہ فرسائی کی گئی ہے،ہر موضوع میں خواتین اسلام کے لئے دردمندانہ ومخلصانہ پیغام ہے،امت کی خواتین کو ان شگفتہ تحریروں سے بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے،تمام موضوعات کے مطالعے سے معلمین ومعلمات اور طالبات کی جانفشانی کا اندازہ ہوا،طالبات ،اساتذہ اور ذمہ داران سب لائق مبارکباد ہیں،دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے قوم وملت کی بیش از بیش خدمت لے،اور آپ سب کی مخلصانہ کاوشوںکو شرف قبولیت بخشے ۔آمین
اس مناسبت سے طالبات کی خدمت میںصحافت کے چند رہنما اصول پیش کئے جارہے ہیں :
۱)کسی بھی دینی کام کے لئے اخلاص کا ہونا ضروری ہے،اس لئے سب سے پہلے ہر عمل میں مخلص ہو جائیں،جو بھی کام کریں اللہ کو راضی کرنے اورآخرت کو سنوارنے کے لئے ،اخلاص کی وجہ سے آپ کا ہر عمل اللہ کی پاس مقبول ہوگااور دنیا میں بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
۲)دور حاضر میں صحافت کی اہمیت وافایت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،اسی کے ذریعہ دین اسلام کا علمی سرمایہ محفوظ ہے ،اوریہ اللہ کے پیغام کواللہ کے بندوں تک پہنچانے کا عظیم ذریعہ ہے ،دشمنان اسلام کے باطل اعتراضات والزامات کا تشفی وتسلی بخش جواب دینے کا بہترین ہتھیار ہے ،بالخصوص دور حاضر کے پرفتن وپرآشوب دور میں،اس لئے درس وتقریر کے ساتھ اس اہم پہلو پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
۳)کسی بھی موضوع پر لکھنے سے پہلے موضوع سے متعلق محقق ومستند کتب ورسائل کا مطالعہ کریں،بالخصوص کبار علماء وفضلاء کی علمی تحریروں سے استفادہ کریں۔
۴)خوب مطالعہ کے بعد موضوع کو ذیلی عناوین میں تقسیم کردیں،اس طرح سے کہ اکثر معلومات کا احاطہ ہوجائے۔
۵)تفسیری روایات ،احادیث نبویہ اور اقوال سلف کے ذکر میں صحت کا پورا خیال رکھیں،ضعیف وموضوع روایات اور قصے وافسانے ہرگز نہ لکھیں ۔
۶)جو لکھیں حوالے کے ساتھ لکھیں،بالخصوص اقتباسات نقل کرنے میں امانت داری سے کام لیں۔
۷)لکھتے وقت متانت وسنجیدگی کو لازم پکڑیں،آپ کا انداز تحریر جارحانہ نہ ہوکہ کسی کی دل آزاری ہوجائے اور اصلاح کے بجائے افساد اور تعمیر کی جگہ تخریب کا معاملہ ہو جائے۔
۸)آپ جو کچھ لکھیں یا کہیںسب سے پہلے اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کریں،آپ کی تحریروتقریر اور عمل وکردار میں تضاد نہ ہو۔
۹)لکھنے کے عمل کو جاری رکھیں،صرف مدرسی زندگی میں سالناموں میں لکھ لینے سے فائدہ نہیں ہے بلکہ تحریری دعوت کا کام ہمیشہ جاری رہنا چاہئے،کسی بھی فن میں حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لئے عزم محکم اورسعی پیہم کی ضرورت ہوتی ہے،عارضی محنت سے منزل تک رسائی نہیں ہوتی۔
۱۰)ابتدائی مرحلے میںنامور صحافی وقلمکار حضرات کے علمی ومعیاری موضوعات کی تلخیص کریں ،تلخیص کے بعد اپنے باذوق اساتذہ سے اصلاح کرائیں اور وجہ اصلاح پر غور کریں۔
یہ چند گزارشات تھیں،امید کہ عملی جامہ پہنائیں،اللہ آپ سب کا حامی وناصر ہو،آپ کے نیک عزائم ومنصوبوں کو پورا فرمائے۔آمین
والسلام
خیر اندیش
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ،آندھرا پردیش
 
Top