ذیشان خان

Administrator
حج سے پہلے دعوت پہ دعوت کرنا


===============
آج کل اگر کوئی حج پہ آتا ہے اس کے تعلق سے اس وقت سماج ومعاشرہ میں کافی رسم ورواج اور بدعات وخرافات انجام دئے جاتے ہیں ۔ حج پہ آنے والے کو بہت سارے لوگ الگ الگ دن متعین کرکے اپنے گھربلاکر دعوت کا اہتمام کرتے ہیں ،حاجی کی نظر میں وقار بناتے ہیں اور دوران سفر حج دعامیں یاد رکھنے کی گذارش کرتے ہیں ۔مستقبل میں حاجی کہے جانے والے بھی اکثر پورے گاؤں کو دعوت دیتے ہیں جس سے ان کے حج کا شہرہ گاؤں گاؤں اور شہر شہر پھیل جاتاہے ۔
اگر ہم نبی ﷺ کا اور صحابہ کرام کا حج دیکھیں تو اس قسم کی روایات کا کہیں اتہ پتہ نہیں چلتا۔ یہ نوایجاد خرافات میں سے ہے بلکہ یہ کہہ لیں اس قسم کی دعوت سے ریا کا ظہور ممکن ہے جس کی وجہ سے حج مقبول ہونے کی بجائے ، غیرمقبول ومردود ہوجائے گا۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ کل قیامت میں عالم کو ، شہید کو، قاری کو اور خرچ کرنے والے کو جہنم میں صرف اس لئے پھینک دیا جائے گا کہ انہوں نے شہرت کے لئے عمل کیاتھا۔ اس لئے خدارا اپنے عمل کو اکارت ہونے سے بچائیں اور جس راستے سے بھی عمل میں ریا کا امکان نظر آئے اس راستے کو بند کردیں ۔ سفر کے وقت ملناجلنا کوئی حرج کی بات نہیں مگر پرتکلف باری باری گاؤں کے سبھی افراد کا دعوت کرنا حج جیسے اہم فریضے کے لئے نامناسب عمل ہے ۔ نیز گاؤں میں جس نے حاجی صاحب کی دعوت نہیں وہ حاجی صاحب اور دوسروں کی نظر میں معیوب اور دعوت کرنے والا معتبرومحترم بن جاتاہے ۔ گویا اس عمل سےدعوت نہ کرسکنے والے غریب ولاچار لوگوں کی توہین بھی ہوتی ہے۔
اگر کسی کو اللہ نے ضرورت سے زیادہ پیسہ دیا ہے تو وہ بھوکوں کو کھلائے ، اس پیسے کو غریب ومسکین میں صدقہ کرے اور دین اسلام کی سربلندی میں صرف کرے ۔
اللہ تعالی ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطافرمائے ۔ آمین
آپ کا خیرخواہ
مقبول احمد سلفی
 
Top