غلطی کا اعتراف اصلاح وخیر کا ضامن
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
------------------------------------------------

بحیثیت انسان ہر انسان خطا کار ہے، غلطیوں سے وہی معصوم ہیں جنہیں اللہ نے معصوم رکھا ہے اور وہ انبیاء و رسل کی جماعت ہے، غلطی کرنے والوں میں بہترین لوگ وہ ہیں جو غلطی کے بعد غلطی کا اعتراف کر کے احساس ندامت کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرتے ہیں، جیساکہ حدیث میں ہے:
كلُّ بني آدمَ خطّاءٌ وخيرُ الخطّائينَ التوّابونَ
(صحيح ابن ماجه ٣٤٤٧ • حسن • أخرجه الترمذي (٢٤٩٩)، وأحمد (١٣٠٤٩) باختلاف يسير، وابن ماجه (٤٢٥١) واللفظ له.)

جب بندہ غلطی کا اعتراف کر کے اللہ سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے، جیساکہ حدیث میں ہے، واقعہ افک کی مناسبت سے جب عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹا الزام لگایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تم بری ہو، بے قصور تو اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں بری اور پاک کر دے گا،اور اگر تم سے غلطی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کر دے گا، اسی موقع پر آپ نے فرمایا:
يا عَائِشَةُ، فإنَّه بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وكَذَا، فإنْ كُنْتِ بَرِيئَةً، فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ، وإنْ كُنْتِ ألْمَمْتِ بذَنْبٍ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وتُوبِي إلَيْهِ،
*فإنَّ العَبْدَ إذَا اعْتَرَفَ بذَنْبِهِ، ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عليه.*
(صحيح البخاري ٢٦٦١ )

غلطی کا اعتراف کرنے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے کہ میرے بندے کو یہ اعتراف ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور سزا دیتا ہے، جیساکہ حدیث میں ہے:
إنَّ اللهَ لَيعجبُ من العبدِ إذا قال: لا إلَه إلا أنت، إنِّي قد ظلمتُ نفسي فاغفرْ لي ذنوبي، إنَّه لا يغفرُ الذنوبَ إلا أنت، قال: عبدي عَرِفَ أن له ربًّا يغفرُ ويُعاقِبُ
(صحيح الجامع: ١٨٢١، السلسلة الصحيحة: ١٦٥٣)
اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے جب بندہ یہ دعا کرتا ہے:
*لا إلهَ إلّا أنتَ، إنِّي قد ظَلمْتُ نَفسي، فاغفرْ لي ذُنُوبي، إنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنوبَ إلّا أنتَ*
غلطی کا اعتراف کرنا یہ اللہ کے نیک وصالح بندوں کی صفت ہے، انبیاء و رسل کی پہچان ہے، تواضع و خاکساری کی علامت ہے، جبکہ غلطی کر کے غلطی پر اڑنا، غلطی نہ ماننا یہ ابلیسی صفت ہے، متکبروں کی علامت ہے ، جیساکہ ابلیس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کے لئے قیاس آرائی کر رہا تھا، جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسۡجُدَ إِذۡ أَمَرۡتُكَۖ قَالَ أَنَا۠ خَیۡرࣱ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِی مِن نَّارࣲ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِینࣲ﴾ [الأعراف ١٢]
اور ابلیس کے انکار کی وجہ اس کا تکبر اور غرور تھا، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ ٱسۡجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوۤا۟ إِلَّاۤ إِبۡلِیسَ أَبَىٰ وَٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَـٰفِرِینَ﴾ [البقرة ٣٤]
اس کے بالمقابل آدم وحواء علیہما السلام سے بھی غلطی ہوئی مگر انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اللہ کی بارگاہ میں غلطی کا اعتراف کر کے اللہ سے توبہ کر لئے تو اللہ نے انہیں معاف کر دیا، جیساکہ قرآن میں اللہ نے فرمایا:
﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَـٰسِرِینَ﴾ [الأعراف: ٢٣]
موسی علیہ السلام سے بغیر قصد وارادہ کے بنو اسرائیل کے ایک آدمی کا قتل ہو گیا، مگر فوراً غلطی کا احساس ہوگیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی، جیساکہ اللہ نے فرمایا:
﴿وَدَخَلَ ٱلۡمَدِینَةَ عَلَىٰ حِینِ غَفۡلَةࣲ مِّنۡ أَهۡلِهَا فَوَجَدَ فِیهَا رَجُلَیۡنِ یَقۡتَتِلَانِ هَـٰذَا مِن شِیعَتِهِۦ وَهَـٰذَا مِنۡ عَدُوِّهِۦۖ فَٱسۡتَغَـٰثَهُ ٱلَّذِی مِن شِیعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِی مِنۡ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَیۡهِۖ قَالَ هَـٰذَا مِنۡ عَمَلِ ٱلشَّیۡطَـٰنِۖ إِنَّهُۥ عَدُوࣱّ مُّضِلࣱّ مُّبِینࣱ . قَالَ :
*رَبِّ إِنِّی ظَلَمۡتُ نَفۡسِی فَٱغۡفِرۡ لِی*
فَغَفَرَ لَهُۥۤۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِیمُ
[القصص: ١٥- ١٦]
یونس علیہ السلام نے سمندر کی گہرائی میں رات کی تاریکی میں اور مچھلی کے پیٹ میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ کو پکارا، اللہ نے انہیں معاف کر دیا، جیساکہ قرآن نے اس نقشہ یوں کھینچا ہے:
﴿وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَـٰضِبࣰا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقۡدِرَ عَلَیۡهِ فَنَادَىٰ فِی ٱلظُّلُمَـٰتِ أَن:
*لَّاۤ إِلَـٰهَ إِلَّاۤ أَنتَ سُبۡحَـٰنَكَ إِنِّی كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِین.*
فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ وَنَجَّیۡنَـٰهُ مِنَ ٱلۡغَمِّۚ وَكَذَ ٰ⁠لِكَ نُـۨجِی ٱلۡمُؤۡمِنِینَ
[الأنبياء: ٨٧- ٨٨]
ملکہ سبا نے اللہ سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے دعا کی:
﴿قِیلَ لَهَا ٱدۡخُلِی ٱلصَّرۡحَۖ فَلَمَّا رَأَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةࣰ وَكَشَفَتۡ عَن سَاقَیۡهَاۚ قَالَ إِنَّهُۥ صَرۡحࣱ مُّمَرَّدࣱ مِّن قَوَارِیرَۗ قَالَتۡ رَبِّ إِنِّی ظَلَمۡتُ نَفۡسِی وَأَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمَـٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَـٰلَمِینَ﴾ [النمل ٤٤]

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب نبی کریم ﷺ سے نماز کی جانے والی کوئی خصوصی دعا کی درخواست کی تو آپ نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے اللہ سے استغفار کرنے کی تعلیم دی، جیساکہ حدیث میں ہے:
[عن أبي بكر الصديق:] عَلِّمْنِي دُعاءً أدْعُو به في صَلاتِي، قالَ: قُلْ:
اللَّهُمَّ إنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، ولا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلّا أنْتَ، فاغْفِرْ لي مَغْفِرَةً مِن عِندِكَ، وارْحَمْنِي، إنَّكَ أنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ
(صحيح البخاري: ٦٣٢٦ ،مسلم :٢٧٠٥)

سید الاستغفار جسے صبح وشام یقین سے پڑھنے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے والوں کو جنت کی بشارت سنائی گئی ہے، اس دعا کی بہت ساری خصوصیات ہے، اس میں ایک خاص بات یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی کمال عبودیت اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے:
سَيِّدُ الِاسْتِغْفارِ أنْ تَقُولَ:
اللَّهُمَّ أنْتَ رَبِّي لا إلَهَ إلّا أنْتَ، خَلَقْتَنِي وأنا عَبْدُكَ، وأنا على عَهْدِكَ ووَعْدِكَ ما اسْتَطَعْتُ، أعُوذُ بكَ مِن شَرِّ ما صَنَعْتُ، أبُوءُ لكَ بنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وأَبُوءُ لكَ بذَنْبِي فاغْفِرْ لِي؛ فإنَّه لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلّا أنْتَ.
قالَ: ومَن قالَها مِنَ النَّهارِ مُوقِنًا بها، فَماتَ مِن يَومِهِ قَبْلَ أنْ يُمْسِيَ، فَهو مِن أهْلِ الجَنَّةِ، ومَن قالَها مِنَ اللَّيْلِ وهو مُوقِنٌ بها، فَماتَ قَبْلَ أنْ يُصْبِحَ، فَهو مِن أهْلِ الجَنَّةِ.
(صحيح البخاري: ٦٣٠٦)

واضح رہے کہ غلطی کا اعتراف اس وقت مفید ہوگا جب ہم غلطی کے بعد فوراً دنیا ہی میں اعتراف کر کے معافی مانگ لیں ورنہ آخرت میں عذاب کو دیکھنے کے بعد اعتراف کرنے ،مہلت مانگنے اور حسرت وافسوس کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا، جیساکہ اللہ نے فرمایا:
فَٱعۡتَرَفُوا۟ بِذَنۢبِهِمۡ فَسُحۡقࣰا لِّأَصۡحَـٰبِ ٱلسَّعِیرِ.[الملك : ١١]
دوسری جگہ فرمایا:
قَالُوا۟ رَبَّنَاۤ أَمَتَّنَا ٱثۡنَتَیۡنِ وَأَحۡیَیۡتَنَا ٱثۡنَتَیۡنِ فَٱعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلۡ إِلَىٰ خُرُوجࣲ مِّن سَبِیلࣲ.[غافر:١١]

اہل ایمان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَءَاخَرُونَ ٱعۡتَرَفُوا۟ بِذُنُوبِهِمۡ خَلَطُوا۟ عَمَلࣰا صَـٰلِحࣰا وَءَاخَرَ سَیِّئًا عَسَى ٱللَّهُ أَن یَتُوبَ عَلَیۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمٌ﴾ [التوبة ١٠٢]
یہ آیت ان مخلص مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بغیر عذر کے محض سستی کی وجہ سے تبوک میں نبی ﷺ کے ساتھ نہیں گئے بلکہ بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگیا اور اعتراف گناہ کر لئے۔ (تفسیر احسن البیان)

جو لوگ دنیا میں اپنی غلطی کا اعتراف کرکے اللہ سے معافی مانگیں گے تو آخرت میں بھی وہ اعتراف کریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا، جیسا کہ حدیث میں ہے:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے نزدیک بلا لے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تجھ کو فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا فلاں گناہ تجھ کو یاد ہے؟ وہ مومن کہے گا ہاں، اے میرے پروردگار۔ آخر جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین آ جائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا۔ اور آج بھی میں تیری مغفرت کرتا ہوں، چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی، لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر گواہ (ملائکہ، انبیاء، اور تمام جن و انس سب) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔ خبردار ہو جاؤ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہو گی۔
(صحيح البخاري:/كِتَاب الْمَظَالِمِ/حدیث: 2441]

دنیوی اعتبار سے بھی اگر آپ دیکھیں کہ آپ کی طرف سے کسی پر غیر شعوری طور پر زیادتی ہوجائے اور آپ فورا اپنی غلطی کا اعتراف کر لیں، اپنی غلطی کو مان کر معافی مانگ لیں تو سامنے والے کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور وہ بخوشی معاف کر دیتا ہے، اس کے برخلاف اگر آپ غلطی کر کے اڑ جائیں تو معاملہ لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتا ہے، فتفكروا وتدبروا

لہذا ہمیں چاہئے کہ اگر ہم سے غلطی ہو جائے چاہے اس غلطی کا تعلق مخلوق سے ہو یا خالق سے ہم غلطی کا اعتراف کر کے معافی مانگ لیں، اس طرح سے ہم دنیا و آخرت دونوں جگہ کی رسوائی سے بچ سکتے ہیں۔ ان شاءاللہ

اللہ تعالیٰ ہمیں نیک توفیق دے، آمین
---------------------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
26/ستمبر 2021، بروز اتوار
 
Top