اللہ کے بندو!
جان لو اللہ رب العالمین نے تمام مخلوقات کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذریات۔ 56)
اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے۔
اور الله تعالی نے فرمایا:
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُـوْحِىٓ اِلَيْهِ اَنَّهٝ لَآ اِلٰـهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ (الانبیاء۔ 25)
اور ہم نے تم سے پہلے ایسا کوئی رسول نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں سو میری ہی عبادت کرو۔
عبادت ایک جامع نام ہے
اس کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں۔
عبادت کا ایک معنی توحید ہے
جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے
وَاعْبُدُوا اللّـٰهَ وَلَا تُشْـرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا
یعنی اللہ کو ایک جانو اور اس کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کرو۔
عبادت کا دوسرا معنی ہے:
اللہ کی اطاعت و بندگی ہے۔
جیسا کہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے :
اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يَا بَنِىٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ اِنَّهٝ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ (یس۔ 60)
اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تمہیں تاکید نہ کردی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
یہاں عبادت کا مطلب اطاعت و بندگی ہے ۔
معلوم ہوا کہ توحید سب سے اہم اور ہر چیز سے زیادہ ضروری ہے۔
صحیحین میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ
عن معاذ رضي الله عنه، قال: كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم على حمار، يقال له: عفير، فقال:" يا معاذ هل تدري حق الله على عباده وما حق العباد على الله؟، قلت: الله ورسوله اعلم، قال: فإن حق الله على العباد ان يعبدوه، ولا يشركوا به شيئا، وحق العباد على الله ان لا يعذب من لا يشرك به شيئا، فقلت: يا رسول الله، افلا ابشر به الناس، قال: لا تبشرهم فيتكلوا".

کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سوار تھے، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔“ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے۔ (اور نیک اعمال سے غافل ہو جائیں گے)۔“
(3417 - 2856بخاری و مسلم)

اور یہ توحید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت ہے امت کے لئے ۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پڑھنا چاہیے جس پہ آپ کا خاتمہ ہوا تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لے

قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ‌ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡئًـــا

آپ کہیے کہ آؤ میں تم پر تلاوت کروں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا چیزیں حرام کی ہیں یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دو۔
توحید بندے کے دل میں ایمان کو مضبوط کرتی ہے، دل کااطمینان نصیب ہوتا ہے، اور اللہ پر توکل و یقین مضبوط ہوتا ہے۔

مومنو! بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کے تعویز، گنڈے، کڑے چھلے اور دھاگے باندھنے سے، انسان نظر بد سے بچ جاتا ہے، بیماریوں سے شفا ملتی ہے، نقصانات سے بچاتی ہے، پھر اس کے بعد بچوں کو، جانوروں کو پہناتے ہیں، یہانتک کہ گاڑیوں پر بھی باندھتے ہیں۔
اور اس میں حروف مقطعات لکھے جاتے ہیں، اسی طرح سے بعض تعویز میں گنتیاں لکھی جاتی ہیں یہ ساری چیزیں شرک ہیں، اور شریعت کی مخالف ہیں، جنت سے محروم کردینے والی ہیں ۔
اور شرک کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
اِنَّهٝ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّـٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّـةَ وَمَاْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ (المائدہ۔ 72)
بے شک جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا سو اللہ نے اس پر جنت حرام کی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
اور اللہ کا فرمان۔
اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَقَدِ افْـتَـرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا (النساء۔ 48)
بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا جو اس کا شریک ٹھہرائے اور شرک کے علاوہ دوسرے گناہ جسے چاہے بخشتا ہے، اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا ہی گناہ کیا۔
عن عقبۃ بن عامر الجہنی أن رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم أقبل إلیہ رھط ، فبایع تسعۃ وأمسک عن واحد ، فقالوا: یا رسول ا للّٰه بایعت تسعۃ وترکت ھذا۔ قال: إن علیہ تمیمۃ۔ فأدخل یدہ ، فقطعھا ، فبایعہ ، وقال: من علق تمیمۃ فقد أشرک۔ ‘‘)) [1][’’ عقبہ بن عامر الجہنی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (۱۰) دس آدمی آئے آپ نے (۹) نو کی بیعت لی اور ایک کی بیعت نہ لی۔ تو انہوں نے کہا: آپؐ نے (۹) سے بیعت لی اور اس کو چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس پر تمیمہ ہے۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس کو کاٹ دیا۔ پھر اس سے بیعت لی۔ اور فرمایا: ’’جس نے تمیمہ لٹکایا اس نے شرک کیا۔ (رواہ احمد)
اسی طرح عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- فرماتے ہیں:

سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن الرقى والتمائم والتِّوَلَة شرك".
[صحيح.] - [رواه أبو داود وابن ماجه وأحمد.]
کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ فرما رہے تھے: ”منتر، تعویذ اور ٹوٹکے سب شرک ہیں۔
اسی لیے علماء نے سختی کے ساتھ ان چیزوں سے منع کیا ہے ۔
یہاں تک کہ علمائے احناف نے بھی اس سے روکا ہے اور اسے شرک کہا ۔
جیسا کہ امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمارے یہاں جو اس وقت بلاوں کے نازل ہونے سے پہلے اور مصیبتوں سے بچنے کے لئے لکھا جاتا ہے باندھا جاتا ہے، یہ حرام ہے، کیونکہ یہ شرک ہے ۔
اسی طرح سے الزیلعی حنفی رحمہ الله فرماتے ہیں گلے میں تعویذ لٹکانا ، یا ہاتھ میں دھاگے وغیرہ باندھنا، تاکہ مصیبت سے نقصان سے بچا رہے، ایسا کرنا حرام ہے اور اس روکا گیا ہے، کیوں کہ یہ جاہلیت کی چیزیں ہیں ۔

اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعویذ گنڈا ، چاہے وہ جس شکل میں ہو منع کیا ہے، اور پہننے والے کے لئے بد دعا دی ہے
جیسا کہ ۔
عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ تعلَّق تمیمة فلاَ أَتمَّ اللَّهُ لَه، ومَنْ تعلَّق وَدعةً فَلَا وَدَع اللّٰهُ له»
’’ جس شخص نے تعویذ لٹکایا اللہ تعالی اس کا بچاؤ نہیں کر ے گا اور جس نے گھونگا باندھا وہ اللہ کی حفاظت میں نہ رہا۔
اور اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے:
وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّـٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَـهٝٓ اِلَّا هُوَ ۖ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ بِخَيْـرٍ فَـهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (انعام۔ 17)
اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اور کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ رب العالمین ہمیں توحید کی حقیقت کو پہنچاننے کی توفیق بخشے، شرک کہ غلاظت سے محفوظ رکھے، اور ہر طرح کے آفات و مصیبت سے بچائے۔ آمین

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
 
Top