Md Mutahar Tahir

New member
بیمار پرسی کی فضائل و فوائد
---------------------------------------------------------
مریض کی عیادت کرنا ایک واجبی انسانی حق ہے،اخلاقی فریضہ ہے، متعدد احادیث میں نبی کریم ﷺ نے عیادت مریض کا حکم دیا ہے اور اس کے فضائل بیان کئے ہیں، جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے:
أَطْعِمُوا الجائِعَ، وعُودُوا المَرِيضَ، وفُكُّوا العانِيَ.
(صحيح البخاري: ٥٦٤٩)
بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو، قیدی کو رہا کراؤ۔
دوسری حدیث میں ہے:
أَمَرَنا النبيُّ ﷺ بسَبْعٍ: عِيادَةِ المَرِيضِ، واتِّباعِ الجَنائِزِ، وتَشْمِيتِ العاطِسِ، ونَهانا عن سَبْعٍ: عن لُبْسِ الحَرِيرِ، والدِّيباجِ، والقَسِّيِّ، والإِسْتَبْرَقِ، والمَياثِرِ الحُمْرِ.
(صحيح البخاري: كتاب اللباس:٥٨٤٩)
براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی عیادت کا، جنازہ کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کا جواب (یرحمک اللہ سے) دینے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم، دیبا، قسی، استبرق اور سرخ زین پوشوں کے استعمال سے بھی منع فرمایا تھا۔

نیز بحیثیت مسلمان ہم پر یہ حق ہے:
حَقُّ المُسْلِمِ على المُسْلِمِ سِتٌّ قيلَ: ما هُنَّ يا رَسولَ اللهِ؟ قالَ: إذا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عليه، وإذا دَعاكَ فأجِبْهُ، وإذا اسْتَنْصَحَكَ فانْصَحْ له، وإذا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ، وإذا مَرِضَ فَعُدْهُ وإذا ماتَ فاتَّبِعْهُ.
(صحيح مسلم: ٢١٦٢)
بوقت ملاقات سلام کرنا،دعوت قبول کرنا، خیر خواہی کرنا، چھینکنے والا الحمد للہ کہے تو اس کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے میں شریک ہونا۔
حكم:
بعض علماء کے نزدیک سنت موکدہ ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور شیخ ا بن عثیمین رحمہ اللہ نے فرض کفایہ قرار دیا ہے:
الاختيارات: ٨٥، الشرح الممتع: ٥/١٧٣)
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے: باب وجوب عيادة المريض.
کافر مریض کی عیادت کا حکم:
یہ ایک انسانی حق ہے، جس میں مسلم وکافر سب شامل ہیں، مصلحت کے پیش نظر اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی غلام کی عیادت کی اور اسے اسلام پیش کیا جو آپ کی خدمت کرتا تھا جب وہ بیمار ہوگیا ، اور وہ مسلمان ہوگیا، آپ کی عیادت اس کی ہدایت کا سبب بن گئی،حدیث میں ہے:
كانَ غُلامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النبيَّ ﷺ، فَمَرِضَ، فأتاهُ النبيُّ ﷺ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقالَ له: أسْلِمْ، فَنَظَرَ إلى أبِيهِ وهو عِنْدَهُ فَقالَ له: أطِعْ أبا القاسِمِ ﷺ، فأسْلَمَ، فَخَرَجَ النبيُّ ﷺ وهو يقولُ: الحَمْدُ لِلَّهِ الذي أنْقَذَهُ مِنَ النّارِ.
(صحيح البخاري :١٣٥٦)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مزاج معلوم کرنے کے لیے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مسلمان ہو جا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔ اس نے کہا کہ (کیا مضائقہ ہے) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں مان لے۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا۔

اسی طرح آپ کے چچا ابو طالب جب مرض الموت میں تھے تو آپ ان کی عیادت کے لئے گئے اور انہیں بھی کلمے کی تلقین کی مگر وہ کلمہ کے انکار اور باپ دادا کے دین پر وفات پائے، جیساکہ صحیح بخاری میں واقعہ مشہور ہے:
(صحيح البخاري: ١٣٦٠)

*فضائل:
عیادت مریض ایک مبارک وعظیم عمل ہے، بعض احادیث ملاحظہ ہوں:
ستر ہزار فرشتوں کی دعا:
حدیث میں ہے:
ما مِن مُسلِمٍ يعودُ مُسلِمًا غدوةً؛ إلّا صلّى عليهِ سَبعونَ ألفَ مَلَكٍ حتّى يُمْسِيَ، وإن عاد عَشيَّةً؛ إلّا صلّى عليهِ سَبعونَ ألفَ مَلَكٍ حتّى يُصْبِحَ، وكان لهُ خَريفٌ في الجنَّةِ.
(الألباني (ت ١٤٢٠)، صحيح الترغيب ٣٤٧٦ • صحيح • أخرجه الترمذي (٩٦٩)، وأحمد (٩٥٥) باختلاف يسير )

”جو مسلمان بھی کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور جو شام کو عیادت کرتا ہے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہو گا“۔
دخول جنت کی بشارت:
حدیث میں ہے:
إنَّ المُسْلِمَ إذا عادَ أخاهُ المُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ في خُرْفَةِ الجَنَّةِ حتّى يَرْجِعَ.
(صحيح مسلم: ٢٥٦٨ )
مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک وہ جنت کے تازہ پھلوں کے چننے میں مصروف رہتا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے:
من عاد مريضًا، أو زار أخًا في الإسلامِ، ناداه منادٍ: أنْ طبْتَ وطاب ممشاك، وتبوأتَ من الجنةِ منزلًا

(الألباني (ت ١٤٢٠)، صحيح الجامع ٦٣٨٧ • حسن • أخرجه الترمذي (٢٠٠٨)، وابن ماجه (١٤٤٣)، وأحمد (٨٣٢٥) باختلاف يسير.)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کی تو اس کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمہاری دنیاوی و اخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو، تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کر لیا“

ایک اور حدیث میں ہے:
مَن أصْبَحَ مِنْكُمُ اليومَ صائِمًا؟ قالَ أبو بَكْرٍ: أنا، قالَ: فمَن تَبِعَ مِنْكُمُ اليومَ جِنازَةً؟ قالَ أبو بَكْرٍ: أنا، قالَ: فمَن أطْعَمَ مِنكُمُ اليومَ مِسْكِينًا قالَ أبو بَكْرٍ: أنا، قالَ: فمَن عادَ مِنْكُمُ اليومَ مَرِيضًا قالَ أبو بَكْرٍ: أنا، فقالَ رَسولُ اللهِ ﷺ: ما اجْتَمَعْنَ في امْرِئٍ إلَّا دَخَلَ الجَنَّةَ.
(صحيح مسلم: ١٠٢٨)
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفلی روزہ،جنازے میں شرکت، مسکین کو کھانا کھلانا، اور مریض کی عیادت کو جنت میں لے جانے والے اعمال میں شمار کیا ہے۔
رحمت الہی:
حدیث میں ہے کہ جب بندہ بیمار پرسی کے لیے گھر سے نکلتا ہے تو وہ مریض کے پاس بیٹھنے تک اللہ کی رحمت میں ہوتا ہے:
مَنْ عادَ مَرِيضًا لمْ يَزَلْ يَخُوضُ في الرحمةِ حتى يَجْلِسَ، فإِذا جلسَ اغْتَمَسَ فيها
(الألباني (ت ١٤٢٠)، السلسلة الصحيحة ٢٥٠٤ • إسناده صحيح رجاله ثقات • أخرجه أحمد (١٤٢٦٠)، والبخاري في «الأدب المفرد» (٥٢٢)، وابن أبي شيبة في «المصنف» (١٠٩٣٩) واللفظ له)
جان بوجھ کر طاقت رکھنے کے باوجود عیادت نہ کرنے والے کا انجام:
حدیث قدسی میں ہے: نبیﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ روز قیامت فرمائے گا:
يا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، قالَ: يا رَبِّ كيفَ أعُودُكَ؟ وأَنْتَ رَبُّ العالَمِينَ، قالَ: أما عَلِمْتَ أنَّ عَبْدِي فُلانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أما عَلِمْتَ أنَّكَ لو عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟
(صحيح مسلم: ٢٥٦٩)
”اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہیں کی؟“ وہ کہے گا: اے پروردگار! میں تیری کیونکر عیادت کرتا تو تو پروردگار ہے سارے جہاں کا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھ کو معلوم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا لیکن تو نے اس کی مزاج پرسی نہیں کی۔ کیا تجھے علم نہیں تھا کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا، تو تو یقیناًمجھ کو پاتا اس کے نزدیک۔ یعنی میری رضا تجھے حاصل ہوجاتی۔
مگر افسوس صد افسوس!
ترقی یافتہ اس زمانے میں ہر آدمی اپنے آپ میں مگن ہے،خود غرضی، مفاد پرستی، بخیلی، حرص و لالچ جیسے مذموم اوصاف ہماری زندگیوں میں داخل ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے اس عظیم الشان عمل سے ہم پیچھے ہیں، آج عیسائی مشنریاں مریضوں کی شاندار خدمت کرکے ، ان کا دل جیت کر کے اپنے مذہب کو پھیلا رہی ہیں، جبکہ یہ دین اسلام کی اہم ترین تعلیم ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اس کار خیر میں آگے بڑھیں اور مریضوں کی خدمت و عیادت کر کے اجر عظیم کے مستحق ہوں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے آمین
-------------------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
27/ستمبر 2021، بروز : پیر
 
Top