Md Mutahar Tahir

New member
مریض کے لئے مسنون دعائیں
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
----------------------------------------------------------
بیمار انسان بیماری میں مجبور اور پریشان حال ہوتا ہے، بعض لوگ بیماری سے عاجز آکر غلط قدم بڑھا دیتے ہیں،اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کر بیٹھتے ہیں،طرح طرح کے شکوے اور گلے کرنے لگتے ہیں،تقدیر کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہیں،ایسے وقت میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بیماروں کی عیادت کریں،عیادت کے وقت عیادت کے آداب و اصول کا لحاظ رکھیں، مناسب وقت دیکھ کر عیادت کے لئے جائیں،زیادہ دیر تک نہ بیٹھیں، ہمت و حوصلہ دلائیں، ڈرائیں نہ، مفید مشورے دیں، علاج ومعالجہ میں تعاون کریں، خدمت کریں، وغیرہ وغیرہ،خاص طور پر مریض کی صحت یابی وشفا یابی کے لئے پرخلوص دعائیں کریں، دعاؤں میں بڑی تاثیر اور برکت ہوتی ہے، جو بیماریاں اور پریشانیاں آچکی ہیں اور جو ابھی ہماری زندگی میں مستقبل میں آنے والی ہیں ان تمام آفتوں وبلاؤں سے حفاظت کے لئے دعاؤں کا بڑا کردار ہے، حدیث نبوی ﷺ ہے:
إِنَّ الدعاءَ يَنْفَعُ مِمّا نزلَ ومِمّا لمْ يَنْزِلْ، فَعليكُمْ عِبادَ اللهِ بالدعاءِ.
(صحيح الترغيب: ١٦٣٤ • حسن لغيره)

بشرطیکہ دعا کے آداب وشروط کا خیال رکھا جائے، ورنہ:

دعا کی بے اثری کا گلہ تو ہے لیکن
دعا بھی آپ نے مانگی کبھی دعا کی طرح

آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم دعاؤں کا بہت کم اہتمام کرتے ہیں، بیماریوں کے علاج کے لئے شریعت نے ہماری رہنمائی کی ہے، ہم اسباب کو اپنائیں اور شفایابی کے لئے اللہ پر توکل کریں اور اسی سے امید لگائیں، ارشاد ربانی ہے:
﴿وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ یَشۡفِینِ﴾ [الشعراء ٨٠]

اسباب کو اپنائے بغیر ، دعا، علاج کے بغیر ہم صحت یابی کی امید لگائے بیٹھیں تو ہماری یہ کج فہمی ہے، دنیا میں کوئی بھی بیماری لاعلاج نہیں ہے، یہ ہمارے فہم کا قصور ہے، ایک وقت تھا کہ بعض بیماریاں لاعلاج مانی جاتی تھیں مگر میڈیکل سائنس نے ترقی کی تو علاج دریافت کر لیا، سچ کہا نبیﷺ نے:
إنَّ اللهَ تعالى لم يُنزلْ داءً إلا أنزل له دواءً، علِمَه من علِمَه، وجهِلَه من جهِلَه، إلا السّامَ، وهو الموتُ
(صحيح الجامع: ١٨٠٩)

معلوم ہوا کہ دوا علاج کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے بلکہ شرعاً اس کا حکم ہے، ہمیں چاہئے کہ دوا علاج بھی کریں، مگر پورا اسی پر بھروسہ نہ کریں بلکہ دوا کے ساتھ دعا کو لازم پکڑیں، جیساکہ نبیﷺ خود بیمار ہوتے تو دعائیں پڑھ کر دم کرلیتے، کبھی جبریل علیہ السلام آکر دم کرتے، مرض الموت میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ پر دم کیا، نبیﷺ جب بیماروں کی عیادت کے لئے جاتے تو دعائیں پڑھ کر دم کرتے تھے، بعض جامع دعائیں ملاحظہ فرمائیں:

1- لا بأسَ طَهوٌر إنْ شاء اللهُ

(صحيح البخاري: ٣٦١٦)

2- أذْهِبِ الباسَ رَبَّ النّاسِ، اشْفِ وأَنْتَ الشّافِي، لا شِفاءَ إلّا شِفاؤُكَ، شِفاءً لا يُغادِرُ سَقَمًا*

(صحيح البخاري: ٥٦٧٥)

3- أَذْهِبِ الباسَ، رَبَّ النّاسِ، واشْفِ أَنْتَ الشّافِي، لا شِفاءَ إلّا شِفاؤُكَ، شِفاءً لا يُغادِرُ سَقَمًا.

(صحيح مسلم :٢١٩١)

4- باسْمِ اللَّهِ، تُرْبَةُ أرْضِنا، برِيقَةِ بَعْضِنا، يُشْفى سَقِيمُنا، بإذْنِ رَبِّنا.

(صحيح البخاري: ٥٧٤٥ )

5- اللَّهُمَّ اشْفِ، فلان (نام لیں) (تین مرتبہ)

(صحيح مسلم: ١٦٢٨)

6- جسم میں جہاں درد ہو وہاں داہنا ہاتھ رکھیں۔
تین مرتبہ بسم الله کہیں
أَعُوذُ باللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِن شَرِّ ما أَجِدُ وَأُحاذِرُ.
(سات مرتبہ)

(صحيح مسلم: ٢٢٠٢ )

7- أسألُ اللَّهَ العظيمَ ربَّ العرشِ العظيمِ أن يشفيَكَ
(سات مرتبہ)

(صحيح أبي داود: ٣١٠٦)

8- باسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ، مِن كُلِّ شيءٍ يُؤْذِيكَ، مِن شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ، أَوْ عَيْنِ حاسِدٍ، اللَّهُ يَشْفِيكَ باسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ.

(صحيح مسلم: ٢١٨٦)

9- سورة الفاتحة (سات مرتبہ )

10- سورة الاخلاص، معوذتين، آيت الكرسي
( تین تین مرتبہ)

یہ مسنون دعائیں ہیں، ہمیں ان دعاؤں کا بالخصوص اہتمام کرنا چاہئے، ان کے علاوہ اپنے طور پر بھی ہم جو چاہیں دعا کر سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحت و عافیت کی دولت عطا فرمائے، ہر طرح کی بیماری، پریشانی اور آفت سے محفوظ رکھے، آمین
------------------------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
28 / ستمبر 2021 ، بروز منگل
 
Top