Md Mutahar Tahir

New member
خلوت وجلوت میں اللہ کا خوف

ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
----------------------------------------------------------
بندہ مومن کو چاہئے کہ وہ صرف اللہ سے ڈرے، اپنے دل میں اللہ کا حقیقی خوف بسائے، فطری اور طبعی خوف کے علاوہ ہمارے دل میں اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کا خوف ہرگز نہیں ہونا چاہیے، یہی ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، کیونکہ خوف ایک قلبی عبادت ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے، ذیل میں بعض آیات ملاحظہ فرمائیں:
﴿إِنَّمَا ذَ ٰ⁠لِكُمُ ٱلشَّیۡطَـٰنُ یُخَوِّفُ أَوۡلِیَاۤءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمۡ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِینَ﴾ [آل عمران: ١٧٥]

فَلَا تَخۡشَوُا۟ ٱلنَّاسَ وَٱخۡشَوۡنِ
[المائدة: ٤٤]

وَإِیَّـٰیَ فَٱرۡهَبُونِ﴾ [البقرة ٤٠]

وَإِیَّـٰیَ فَٱتَّقُونِ﴾ [البقرة ٤١]
اگر دنیا میں ہم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر زندگی گزاریں گے تو آخرت میں ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں، اس لئے کہ اللہ ارحم الراحمین اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں کر سکتا، لیکن اگر دنیا میں اللہ کے احکام و قوانین سے آزاد اور بے خوف ہو کر زندگی گزاریں گے تو آخرت میں ہر مرحلے میں ہمارے لئے خوف کا ماحول ہوگا، جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے:
وعِزَّتِي لا أجمعُ على عَبدي خَوفيْنِ وأَمنيْنِ، إذا خافَني في الدُّنيا أمَّنْتُه يومَ القيامةِ، وإذا أمِنَني في الدُّنيا أَخَفْتُه في الآخِرةِ.

(الألباني (ت ١٤٢٠)، صحيح الترغيب ٣٣٧٦ • حسن صحيح • أخرجه ابن المبارك في «الزهد» (١٥٨)، وابن حبان (٦٤٠)، والبيهقي في «شعب الإيمان» (٧٧٧) باختلاف يسير)

اصل خوف یہ ہے کہ ہم تنہائیوں میں اللہ سے ڈریں، کیونکہ جماعت میں، لوگوں کے درمیان بندہ اللہ سے ڈرتا ہے، مگر تنہائی میں اصل ہمارے ایمان اور تقوی کا امتحان ہوتا ہے، ہمارے دل میں ہمیشہ یہ تصور ہونا چاہیے کہ ہم لوگوں کی نظروں سے تو چھپ سکتے ہیں مگر اللہ رب العالمین ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے، ہماری کوئی بھی نقل و حرکت اس سے مخفی نہیں ہے، وہ راز ونیاز کی باتوں کو جانتا ہے، ہمارے دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور وسوسوں سے باخبر ہے، وہ تو علیم بذات الصدور ہے، اس لئے ہم بند کمرے میں ہوں، رات کی تاریکی و تنہائی میں ہوں مگر ہمیں یہ احساس ہو کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے مگر میرا رب مجھے ضرور دیکھ رہا ہے، اس طریقے سے ہم گناہوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں، اسی لئے نبی کریم ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
اتَّقِ اللهَ حيثُما كنتَ، وأتبِعِ السَّيِّئةَ الحسَنةَ تَمْحُها، وخالِقِ النّاسَ بخُلُقٍ حَسنٍ.

(صحيح الترغيب ٢٦٥٥ • حسن لغيره • أخرجه الترمذي (١٩٨٧)، وأحمد (٢١٣٩٢) )
تم جہاں کہیں بھی رہو اللہ سے ڈرو۔
اسی طرح ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلوت وجلوت میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کی، فرمایا:
أُوصِيكَ بتَقوى اللهِ تَعالى، في سرِّ أمرِك وعلانِيتِه، وإذا أسأتَ فأحْسِنْ، ولا تَسألَنَّ أحدًا شَيئًا، ولا تَقبِضْ أمانةً، ولا تَقضِ بين اثنيْنِ۔
(صحيح الجامع: ٢٥٤٤ • حسن)

اسی طرح نبی ﷺ نے نجات دلانے والے اعمال میں بھی اسے شمار کیا ہے کہ خلوت وجلوت میں اللہ سے ڈریں، فرمایا:

ثلاثٌ مُنجِياتٌ: خَشيةُ اللهِ تعالى في السِّرِّ والعلانِيَةِ، والعدلُ في الرِّضا والغضَبِ، والقصْدُ في الفقْرِ والغِنى.
(صحيح الجامع : ٣٠٣٩ • حسن)

اسی طرح حدیث میں ہے کہ تنہائی میں اللہ کے عذاب اور سزاؤں سے ڈر کر آنسو بہانے والے خوش نصیب بندے کو قیامت کے دن عرش الہی کا سایہ نصیب ہوگا، فرمان نبوی ﷺ ہے:
ورَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خالِيًا فَفاضَتْ عَيْناهُ.
(صحيح البخاري: ٦٦٠)

یہ ایسی عظیم خوبی ہے کہ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے اسے افضل ترین اعمال میں شمار کیا ہے، فرمایا:
وأفضل الأعمال خشية الله في السر والعلانية، وخشية الله في السر إنما تصدر عن قوة إيمان ومجاهدة للنفس والهوى، فإن الهوى يدعو في الخلوة إلى المعاصي ولهذا قيل : إن من أعز الأشياء : الورع في الخلوة*
( فتح الباري: ٤/٦٣)

اور ایسے ہی لوگوں کے لئے جو غائبانہ طور پر خلوت میں اللہ سے ڈرتے ہیں مغفرت، اجر عظیم اور جنت کی بشارت سنائی گئی ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ ٱلَّذِینَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَیۡبِ لَهُم مَّغۡفِرَةࣱ وَأَجۡرࣱ كَبِیرࣱ﴾ [الملك ١٢]
دوسری جگہ فرمایا:
وَأُزۡلِفَتِ ٱلۡجَنَّةُ لِلۡمُتَّقِینَ غَیۡرَ بَعِیدٍ . هَـٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِیظࣲ . مَّنۡ خَشِیَ ٱلرَّحۡمَـٰنَ بِٱلۡغَیۡبِ وَجَاۤءَ بِقَلۡبࣲ مُّنِیبٍ . ٱدۡخُلُوهَا بِسَلَـٰمࣲۖ ذَ ٰ⁠لِكَ یَوۡمُ ٱلۡخُلُودِ . لَهُم مَّا یَشَاۤءُونَ فِیهَا وَلَدَیۡنَا مَزِیدࣱ.
[ق٣١-٣٥]

اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے دلوں میں اللہ کا حقیقی خوف پیدا کریں، اور ہر حال میں اللہ سے ڈریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نیک توفیق دے، آمین

-----------------------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
2/اکتوبر 2021، بروز ہفتہ
 
Top