رحمن سے غائبانہ طور پر ڈرنے کا مطلب:

فضیل بن عیاض رحمہ اللہ آیت کریمہ: مَّنۡ خَشِیَ ٱلرَّحۡمَـٰنَ بِٱلۡغَیۡبِ" کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
وہ شخص جو تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کرے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے۔
(مجموع رسائل ابن رجب: 265)


حافظ ابن کثیر نے فرمایا:
جو شخص اللہ سے خلوت میں ڈرے جہاں اسے سوائے اللہ کے کوئی نہ دیکھ رہا ہو، جیسے نبی ﷺ نے فرمایا:
جو شخص تنہائی میں اللہ کے (عذاب) کو یاد کرے پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ جائے۔
(تفسير ابن كثير)

بعض مفسرین نے کہا: اس کا ایک معنیٰ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بغیر دیکھے اس سے ڈرنا۔


غائبانہ طور پر اللہ تعالیٰ سے ڈرنا متقیوں کی صفت ہے، ارشاد ربانی ہے:

ٱلَّذِینَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَیۡبِ وَهُم مِّنَ ٱلسَّاعَةِ مُشۡفِقُونَ﴾ [الأنبياء ٤٩]


غائبانہ طور پر رب العالمین سے ڈرنے والوں کے لئے مغفرت اور اجر عظیم کی بشارت ہے، اللہ نے فرمایا:

إِنَّ ٱلَّذِینَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَیۡبِ لَهُم مَّغۡفِرَةࣱ وَأَجۡرࣱ كَبِیرࣱ﴾ [الملك: ١٢]
دوسری جگہ فرمایا:
إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكۡرَ وَخَشِیَ ٱلرَّحۡمَـٰنَ بِٱلۡغَیۡبِۖ فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةࣲ وَأَجۡرࣲ كَرِیمٍ.[يس :١١]

جنت کی بشارت:
ارشاد ربانی ہے:
مَّنۡ خَشِیَ ٱلرَّحۡمَـٰنَ بِٱلۡغَیۡبِ وَجَاۤءَ بِقَلۡبࣲ مُّنِیبٍ.ٱدۡخُلُوهَا بِسَلَـٰمࣲۖ ذَ ٰ⁠لِكَ یَوۡمُ ٱلۡخُلُودِ.لَهُم مَّا یَشَاۤءُونَ فِیهَا وَلَدَیۡنَا مَزِیدࣱ
[ق ٣٣-٣٥]


اللہ تعالیٰ ہمیں ہر جگہ اور ہر حال میں اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین
-------------------------------------------------

ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
11/اکتوبر 2021، بروز پیر
 
Top