رسول اکرم ﷺ کا تعامل غیر مسلموں کے ساتھ
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ

----------------------------------------------------
سیرتوں میں سب سے پاکیزہ ومثالی سیرت اگر کسی کی ہے تو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہے، جس کی پاکیزگی کی گواہی خود عرش والے نے دی، جس کے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کی شہادت دشمنوں نے دی، الصادق الامین کا حسین اعزاز اور خوبصورت لقب آپ کو مشرکین مکہ نے دیا، جو آپ کی دعوت کے مخالف تھے، دعوت کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے تھے، ہر طرح سے آپ کی مخالفت کرتے اور اذیت پہنچاتے،آپ کے قتل کے منصوبے بناتے، مگر جب بات آپ کے اخلاق وکردار کی آتی تو آپ کی زندگی کو صاف وشفاف اور بے داغ پاتے، اور آپ کے اعلیٰ اخلاق کی گواہی دیتے، آج ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر اخلاق نبوی پیدا کریں تاکہ جس طرح نبی ﷺ نے اپنے اخلاق حسنہ سے دشمنوں کے دلوں کو فتح کر لیا، سخت دلوں کو موم کر دیا، اور آلودہ دلوں کو پاک کر دیا، ہم بھی اسی طرح اخلاق حسنہ کے زیور سے مزین ہو کر لوگوں کو اللہ کی عبادت اور بندگی کی دعوت دیں اور شرک و بدعات کی گندگیوں سے پاک کریں، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے آمین
سیرت طیبہ کی معلومات ضروری کیوں؟
نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کو جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ آپ کی سیرت کو ہم جتنا اچھی طرح جانیں گے اسی قدر آپ سے سچی محبت کریں گے اور آپ کی اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا ہوگا، اللہ تعالیٰ کی معرفت، نبی ﷺ کی معرفت اور دین کی معرفت، دین کے اساسی امور میں سے ہے، جس کا جاننا ہر مسلمان پر لازم و ضروری ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت ان باتوں کی معرفت سے نابلد ہے،دنیا کے بارے میں بڑا گہرا علم رکھتے ہیں مگر دین کی اساسی معلومات سے بھی بے خبر ہوتے ہیں، دنیا کے فلمی اداکاروں، کھیل کے شہسواروں اور سیاست کے لٹیروں کو اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ بڑی تفصیل سے آگاہی رکھتے ہیں، مگر دین کے اساسی امور سے ہماری بے توجہی انتہائی کربناک اور باعث تشویش ہے، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے اور قوم کے جیالوں کو دینی بصیرت عطا فرمائے آمین

سیرت طیبہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ کا تعامل اور سلوک و برتاؤ غیر مسلموں کے ساتھ کیسا تھا؟ کیونکہ ہم ایک مخلوط سماج اور ماحول میں رہتے اور بستے ہیں جہاں ہماری گلی کوچوں، پاس پڑوس میں، محلوں اور بستیوں میں غیر مسلموں کی کثیر آبادی ہے، جن کے درمیان ہم اٹھتے، بیٹھتے ہیں، زندگی گزارتے ہیں، معاملات کرتے ہیں، خوشی وغمی میں شریک ہوتے ہیں ایسی صورت میں ضروری ہے کہ ہم معلوم کریں کہ ہمارا اخلاق وکردار، ہمارے معاملات، ہماری طرزِ زندگی ان کے ساتھ کیسی ہو؟ نبیﷺ کا اسوہ حسنہ اس باب میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غیر مسلموں کے ساتھ سلوک و برتاؤ کیسا تھا؟

غیر مسلموں کے ساتھ انصاف کی تعلیم:
یاد رکھیں کہ آج بھی اس ملک میں امن پسند اور انصاف پسند غیر مسلموں کی کثیر تعداد ہے جو ملک میں امن و شانتی اور انصاف کا ماحول دیکھنا چاہتے ہیں اور نفرت و تعصب کی آواز دبانا چاہتے ہیں، ایسے امن پسند اور انصاف پسند غیر مسلموں کے ساتھ بھلائی کرنے، حسن سلوک سے پیش آنے اور انصاف کرنے سے اللہ تعالیٰ ہمیں نہیں روکتا ہے بلکہ اس کی تعلیم دیتا ہے، ارشاد ربانی ہے:
﴿لَّا یَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِینَ لَمۡ یُقَـٰتِلُوكُمۡ فِی ٱلدِّینِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوكُم مِّن دِیَـٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوۤا۟ إِلَیۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ یُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِینَ﴾ [الممتحنة ٨]

دوسری جگہ اللہ نے فرمایا، انصاف کو ہر جگہ قائم کرو یہاں تک کہ دشمنوں کے ساتھ بھی اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف کرنے سے نہ روکے، فرمان باری تعالیٰ ہے:

یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّ ٰ⁠مِینَ لِلَّهِ شُهَدَاۤءَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا یَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰۤ أَلَّا تَعۡدِلُوا۟ۚ ٱعۡدِلُوا۟ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِیرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ﴾ [المائدة ٨]

ظلم ظلم ہے چاہے کوئی بھی کرے اور کسی کے ساتھ بھی ظلم ہو یہ مذموم عمل اور بزدلانہ حرکت ہے، اور مظلوم کوئی بھی ہو ، کسی بھی دین دھرم سے تعلق رکھتا ہو وہ قابل رحم ہے اور اس کی آہ رب کی بارگاہ میں مقبول ہے، اس لئے مظلوم کی آہوں سے بچیں اور ظالم کو ظلم سے حتی المقدور روکیں اور مظلوم کے ساتھ ہمدردی کا ثبوت دیں، جیسا کہ نبیﷺ کی خدمت میں ایک یہودی ایک مسلمان کے خلاف اپنے ظلم کی شکایت لے کر آیا، آپ نے شکایت سننے کے بعد سخت غصے کا اظہار کیا، حدیث میں ہے:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ لوگوں کو ایک یہودی اپنا سامان دکھا رہا تھا لیکن اسے اس کی جو قیمت لگائی گئی اس پر وہ راضی نہ تھا۔ اس لیے کہنے لگا کہ ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام انسانوں میں برگزیدہ قرار دیا۔ یہ لفظ ایک انصاری صحابی نے سن لیے اور کھڑے ہو کر انہوں نے ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ہم میں موجود ہیں اور تو اس طرح قسم کھاتا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں میں برگزیدہ قرار دیا۔ اس پر وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے ابوالقاسم! میرا مسلمانوں کے ساتھ امن اور صلح کا عہد و پیمان ہے۔ پھر فلاں شخص کا کیا حال ہو گا جس نے میرے منہ پر چانٹا مارا ہے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی سے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے منہ پر کیوں چانٹا مارا؟ انہوں نے وجہ بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہو گئے اس قدر کہ غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نمایاں ہو گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں آپس میں ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو، جب صور پھونکا جائے گا تو آسمان و زمین کی تمام مخلوق پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی ‘ سوا ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور سب سے پہلے مجھے اٹھایا جائے گا ‘ لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کو پکڑے ہوئے کھڑے ہوں گے ‘ اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ انہیں طور کی بے ہوشی کا بدلا دیا گیا ہو گا یا مجھ سے بھی پہلے ان کی بے ہوشی ختم کر دی گئی ہو گی۔

(صحيح البخاري: 3414)

غیر مسلموں کی جانوں کی حفاظت:
دین اسلام میں جان کس قدر محترم ہے اور جان کی حفاظت پر کتنا زور دیا گیا ہے اور جانوں کو ہلاک کرنے اور ناحق کسی کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اسے جرم عظیم بتایا گیا ہے، یہ دین اسلام کی خصوصیت ہے،جیساکہ غیر مسلم ذمی کے قتل کو کتنا سنگین گناہ بتایا ہے، اس حدیث سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
مَن قَتَلَ مُعاهَدًا لَمْ يَرِحْ رائِحَةَ الجَنَّةِ، وإنَّ رِيحَها تُوجَدُ مِن مَسِيرَةِ أرْبَعِينَ عامًا.

”جس نے کسی ذمی کو (ناحق) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے۔“

( كِتَابٌ : الْجِزْيَةُ | بَابُ إِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا بِغَيْرِ جُرْمٍ. : 3166)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں انسانی جانوں کا کتنا احترام تھا کہ
ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، دیکھ کر آپ کھڑے ہو گئے، آپ سے کہا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا، تو آپ نے فرمایا:
أَليسَتْ نَفْسًا.
کیا یہودی کی جان جان نہیں ہے؟

(صحيح البخاري : ١٣١٢)
غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم:
کتاب وسنت میں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی بہت تاکید کی گئی ہے، شارحین حدیث فرماتے ہیں کہ پڑوسی میں مسلم، کافر، ، عابد، فاسق، دوست، دشمن، اجنبی، شہری، فائدہ مند، نقصاندہ،قریبی، اجنبی، جس کا گھر قریب ہو، جس کا گھر دور ہو سب جار میں شامل ہیں، البتہ سب کے مراتب ودرجات متفاوت ہیں،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
واسم الجار يشمل المسلم والكافر والعابد والفاسق والصديق والعدو والغريب والبلدي والنافع والضار والقريب والأجنبي والأقرب دارا والأبعد وله مراتب بعضها أعلى من بعض فأعلاها من اجتمعت فيه الصفات الأول كلها ثم أكثرها وهلم جرا إلى الواحد وعكسه من اجتمعت فيه الصفات الأخرى كذلك فيعطى كل حقه بحسب حاله وقد تتعارض صفتان فأكثر فيرجح أو يساوي

(فتح الباري 10/441 عمدة القاري 32/197)

اسی طرح علماء فرماتے ہیں کہ غیر مسلم پڑوسی کو حق جوار حاصل ہوتا ہے، کیونکہ پڑوسی تین طرح کے ہوتے ہیں:
1- جسے صرف ایک حق حاصل ہوتا ہے، پڑوسی کا حق، جیسے غیر مسلم پڑوسی۔ یہ سب سے ادنیٰ درجے کا پڑوسی ہے۔
2- جسے دو حق حاصل ہوتا ہے، جیسے: مسلمان پڑوسی، ایک پڑوسی کا حق، دوسرے اسلام کا حق۔
3- جسے تین حق حاصل ہوتا ہے، جیسے: مسلمان رشتے دار پڑوسی، حق الجار والاسلام والرحم، ایک پڑوسی کا حق، دوسرے اسلام کا حق، تیسرے رشتے داری کا حق، اور یہ سب سے افضل پڑوسی ہے۔

صحابہ کرام غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ کتنا حسن سلوک کرتے تھے، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ بکری ذبح کی تو اپنے اہل خانہ سے کہا:
أهْدَيتُم لجاري اليَهوديِّ؟
کیا تم نے میرے یہودی پڑوسی کو گوشت کا تحفہ بھیجا؟ اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
ما زال جِبريلُ يُوصيني بالجارِ، حتى ظنَنتُ أنَّه سيُورِّثُه.
مجھے جبریل برابر پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ اسے وراثت میں بھی شریک کر دیں گے۔

(شعيب الأرنؤوط (ت ١٤٣٨)، تخريج سنن أبي داود ٥١٥٢ • إسناده صحيح)

معلوم ہوا کہ ہمارے پاس پڑوس میں جو بھی غیر مسلم رہتے ہیں وہ ہمارے حسن سلوک کے مستحق ہیں، ہم ہر طرح سے ان کا خیال رکھیں، اسلام کی ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے بڑا فائدہ ہوگا، وہ ہمارے اخلاق وکردار سے متاثر ہو کر آہستہ آہستہ اسلام سے قریب ہوں گے، نفرتیں ختم ہوں گی، بدگمانیاں دور ہوں گی،خوشگوار ماحول قائم ہوگا۔ ان شاء اللہ

غیر مسلم والدین کے ساتھ حسن سلوک:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَصَاحِبۡهُمَا فِی ٱلدُّنۡیَا مَعۡرُوفࣰاۖ
[لقمان ١٥]
دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ۔
اسی طرح اسماء بنت ابی بکر کی مشرکہ ماں ان کے پاس آئیں تو انہوں نے نبیﷺ سے اپنی مشرکہ ماں کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
صِلِي أُمَّكِ.، اپنی مشرکہ ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
(صحيح البخاري:٢٦٢٠)

اسی طرح غیر مسلموں کے ساتھ آپ کا اخلاقی کردار بھی اس کی روشن دلیل ہے، ظالموں، جاہلوں، جابروں ، جانی دشمنوں، شان اقدس میں گستاخی کرنے والوں کو آپ نے اپنے دامن عفو میں جگہ دی اور کبھی ان کی گستاخانہ حرکتوں کا مسکرا کر جواب دیا کبھی کہا: اللَّهمَّ اغفِرْ لقومي فإنَّهم لا يعلَمونَ
اور کبھی ان کی ہدایت کے لئے دعائیں دی:اللَّهمَّ اهدِ قومي فإنَّهم لا يعلمون.
ظالم سے لیا ظلم کا بدلہ نہ کسی وقت
مارا بھی تو اخلاق کی تلوار سے مارا


اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ برائی کو بھلائی سے دفع کرو، نفرت کا جواب محبت سے دو.
فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَسۡتَوِی ٱلۡحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّیِّئَةُۚ ٱدۡفَعۡ بِٱلَّتِی هِیَ أَحۡسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِی بَیۡنَكَ وَبَیۡنَهُۥ عَدَ ٰ⁠وَةࣱ كَأَنَّهُۥ وَلِیٌّ حَمِیمࣱ﴾ [فصلت ٣٤]
نبیﷺ نے بھی احادیث میں ساری انسانیت کے ساتھ اخلاق حسنہ کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا ہے اور ایسے شخص کو مثالی مومن قرار دیا ہے، ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
اتَّقِ اللَّهِ حيثُ ما كنتَ، وأتبعِ السَّيِّئةَ الحسنةَ تمحُها، وخالقِ النّاسَ بخلقٍ حسنٍ
(صحيح الترمذي: ١٩٨٧)

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المسلمُ من سلم الناسُ من لسانه ويدهِ، والمؤمنُ من أمنه الناسُ على دمائهم وأموالهم

(صحيح النسائي ٥٠١٠ ، أخرجه الترمذي (٢٦٢٧) باختلاف يسير، والنسائي (٤٩٩٥)، وأحمد (٨٩١٨) واللفظ لهما.)

ظاہر ہے کہ ناس کے خطاب میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں، اس لئے ہر ایک کے ساتھ ہمیں بلند اخلاق سے پیش آنا چاہئے، اللہ ہمیں توفیق دے آمین

غیر مسلموں کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کی بہت ساری مثالیں ہیں ان میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ نے غیر مسلموں سے کئے گئے عہد و معاہدے کو بھی پورا کرنے کی ہدایت دی، جیسا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اپنے اور اپنے والد کے غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے کا سبب ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد حسیل نکلے تو کفار قریش نے ہم کو پکڑ لیا اور کہا کہ تم لوگ محمد کے پاس جارہے ہو؟ ہم نے کہا: ہم تو مدینہ جارہے ہیں، تو انہوں نے ہم سے عہد وپیمان لیا کہ ہم واپس مدینہ جائیں گے اور آپ کے پاس جا کر آپ کے ساتھ مل کر قتال نہیں کریں گے، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ کو پوری خبر دی تو آپ نے فرمایا:
انْصَرِفا، نَفِي لهمْ بعَهْدِهِمْ، وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عليهم.
تم لوگ واپس جاؤ، ہم ان سے کئے گئے عہد وپیمان کو پورا کریں گے اور ان کے مقابلے میں اللہ سے مدد طلب کریں۔
(صحيح مسلم : ١٧٨٧)
کتنا جھنجھوڑ دینے والا واقعہ ہے کہ جنگ میں جبکہ آپ کے پاس فوج کی کمی ہے اور کافروں کے پاس بڑی فوج ہے، ایسے نازک وقت بھی آپ نے غیر مسلموں سے کئے گئے عہد وپیمان کو پورا کیا۔

غیر مسلموں کی عیادت:
احادیث میں بیماروں کی عیادت کی تعلیم دی گئی ہے اور اسے بڑا مبارک عمل بتایا گیا ہے، متعدد حدیثوں میں بیمار پرسی کے فضائل بیان کئے گئے ہیں، یہ بھی اسلام کی وہ عظیم الشان تعلیم ہے جس میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق نہیں ہے، بلکہ جو بھی بیمار انسان ہو اس کے ساتھ انسانیت کے رشتے سے ہمدردی کی جائے، جیساکہ نبی کریم ﷺ کا عمومی فرمان ہے:
أَطْعِمُوا الجائِعَ، وعُودُوا المَرِيضَ، وفُكُّوا العانِيَ.
(صحيح البخاري: ٥٦٤٩)
بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور مریض کی عیادت یعنی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔

اسی طرح حدیث میں ہے، براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
أَمَرَنا بعِيادَةِ المَرِيضِ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مریض کی عیادت کا حکم دیا۔

(صحيح البخاري ٥١٧٥)

اسی پر بس نہیں بلکہ نبیﷺ نے امت کے سامنے عملی نمونہ بھی پیش کیا، جیساکہ حدیث میں ہے:
كانَ غُلامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النبيَّ ﷺ، فَمَرِضَ، فأتاهُ النبيُّ ﷺ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقالَ له: أسْلِمْ، فَنَظَرَ إلى أبِيهِ وهو عِنْدَهُ فَقالَ له: أطِعْ أبا القاسِمِ ﷺ، فأسْلَمَ، فَخَرَجَ النبيُّ ﷺ وهو يقولُ: الحَمْدُ لِلَّهِ الذي أنْقَذَهُ مِنَ النّارِ.
(صحيح البخاري : ١٣٥٦)

ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مزاج معلوم کرنے کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مسلمان ہو جا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔ اس نے کہا کہ (کیا مضائقہ ہے) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں مان لے۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا۔

دیکھا آپ نے کہ کس طرح آپ کی عیادت اس یہودی غلام کی ہدایت کا ذریعہ بن گئی، اس طرح سے اگر ہم اسلام کی ان زریں تعلیمات پر عمل کریں تو لوگ اسلام سے قریب ہوں گے اور نفرتوں کا بھی خاتمہ ہوگا، ان شاءاللہ
افسوس کہ آج مسلمان ان تعلیمات کو بھلا دئیے ہیں اور عیسائی مشنریاں انہیں تعلیمات کو اپنا کر عیسائیت کو بڑی تیزی سے پھیلا رہے ہیں۔

یہ پہلا سبق تھا کتاب ہدٰی کا
کہ مخلوق ساری ہے کنبہ خدا کا

وہی دوست ہے خالق دوسرا کا
خلائق سے ہے جس کو رشتہ ولا کا

یہ ہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں


(مسدس حالی )

اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو بیدار کرے اور انہیں نیک توفیق دے آمین۔
-----------------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
15/اکتوبر 2021، بروز جمعہ
 
Top