سوال :
نماز پڑھتے وقت بچے رونے لگیں تو کیا کریں؟ کیا روتے ہوئے چھوڑ دیں یا اسے گود میں اٹھا سکتے ہیں؟
جواب:
عورت کے لئے جائز ہے کہ نماز کے درمیان میں اپنے بچے کو گود میں اٹھا لے، جب بچہ رونے لگے، کیونکہ بچے کو نماز میں اٹھا لینے سے وہ ماں زیادہ خشوع وخضوع سے نماز ادا کر سکتی ہے ورنہ اگر بچے کو روتے اور چیختے ہوئے چھوڑ دیں گے تو ماں کو تشویش ہوگی اور اس کا دل اسی طرف لٹکا رہے گا۔ اور دوسروں کی نماز میں بھی خلل ہوگا۔

(مستفاد از: فتاویٰ نور علی الدرب: ۳۱۲)

اس سلسلے میں نبی ﷺ کا عمل بھی موجود ہے، آپ امامہ بنت زينب کو اٹھا کر نماز پڑھتے اور سجدے کے وقت اتار دیتے، پھر سجدے سے اٹھنے کے بعد گود میں لے لیتے، (صحيح مسلم ٥٤٣ )

اور بچے کے رونے کی وجہ سے آپ نماز میں تخفیف کر دیتے تھے۔ کہ اس سے اس کی ماں کو تکلیف ہوگی۔

إنِّي لأَدْخُلُ الصَّلاةَ أُرِيدُ إطالَتَها فأسْمَعُ بُكاءَ الصَّبِيِّ، فَأُخَفِّفُ مِن شِدَّةِ وجْدِ أُمِّهِ بهِ.
(صحيح مسلم ٤٧٠)

والله اعلم بالصواب
-------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ آندھرا پردیش
 
Top