اختلاط مرد و زن
سوال:
کیا مریضہ (بیمار عورت) ڈاکٹر کے پاس تنہائی میں علاج کے لئے جا سکتی ہے؟

جواب: نہیں، جائز نہیں ہے، ضروری ہے کہ مریضہ کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا کوئی محرم ہو۔

(فتاوى اللجنة الدائمة: ٢٤/٤٢٢)

اس بات کو یاد رکھیں کہ اجنبی مرد اور عورت کا خلوت اختیار کرنا جائز نہیں ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہوں، عالم تنہائی میں کسی بالغ لڑکی کو ٹیوشن نہیں پڑھا سکتا، عامل کسی اجنبی عورت کا تنہائی میں رقیہ نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے منع ہے، جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا:
لا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بامْرَأَةٍ، ولا تُسافِرَنَّ امْرَأَةٌ إلّا ومعها مَحْرَمٌ، فَقامَ رَجُلٌ فقالَ: يا رَسولَ اللَّهِ، اكْتُتِبْتُ في غَزْوَةِ كَذا وكَذا، وخَرَجَتِ امْرَأَتي حاجَّةً، قالَ: اذْهَبْ فَحُجَّ مع امْرَأَتِكَ.
کوئی مرد کسی (غیر محرم) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور کوئی عورت اس وقت تک سفر نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی اس کا محرم نہ ہو۔ اتنے میں ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! میں نے فلاں جہاد میں اپنا نام لکھوا دیا ہے اور ادھر میری بیوی حج کے لیے جا رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو بھی جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔

[صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3006]
لہذا شریعت کی جملہ تعلیمات پر عمل کریں، اسی میں ہمارے لئے خیر ہے، خلوت سے بچنے اور بچانے میں ہماری عزت و عصمت کی حفاظت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی تعلیمات پر کما حقہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
-----------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ آندھرا پردیش
4/نومبر 2021 بروز جمعرات
 
Top