اولڈ ایج ہوم/ والدین کا مقام ومرتبہ

ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ

--------------------------------------------------------------------
شیخ صالح فوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

ماں باپ کو اولڈ ایج ہوم میں رکھنا ان کی نافرمانی اور ناقدری ہے، ایسے شخص سے قیامت کے دن اس کے بارے میں حساب ہوگا۔

(برنامج( فتاوى) لمعالي الشيخ صالح فوزان حفظه الله: 7-6-1432)

اللہ تعالیٰ کے حق کے بعد اولاد پر سب سے بڑا حق والدین کا ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اپنے حق کے بعد ماں باپ کا حق ذکر کیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوۤا۟ إِلَّاۤ إِیَّاهُ وَبِٱلۡوَ ٰ⁠لِدَیۡنِ إِحۡسَـٰنًاۚ إِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَاۤ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَاۤ أُفࣲّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلࣰا كَرِیمࣰا﴾وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرࣰا [الإسراء:23-24]
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا [23] اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے

وَٱعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشۡرِكُوا۟ بِهِۦ شَیۡـࣰٔاۖ وَبِٱلۡوَ ٰ⁠لِدَیۡنِ إِحۡسَـٰنࣰا
[النساء ٣٦]
اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو

وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِیثَـٰقَ بَنِیۤ إِسۡرَ ٰ⁠ۤءِیلَ لَا تَعۡبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ وَبِٱلۡوَ ٰ⁠لِدَیۡنِ إِحۡسَانࣰا
[البقرة ٨٣]
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعده لیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا

قُلۡ تَعَالَوۡا۟ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَیۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُوا۟ بِهِۦ شَیۡـࣰٔاۖ وَبِٱلۡوَ ٰ⁠لِدَیۡنِ إِحۡسَـٰنࣰاۖ
[الأنعام ١٥١]
آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو

وَوَصَّیۡنَا ٱلۡإِنسَـٰنَ بِوَ ٰ⁠لِدَیۡهِ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ وَهۡنًا عَلَىٰ وَهۡنࣲ وَفِصَـٰلُهُۥ فِی عَامَیۡنِ أَنِ ٱشۡكُرۡ لِی وَلِوَ ٰ⁠لِدَیۡكَ إِلَیَّ ٱلۡمَصِیرُ.
[لقمان : ١٤]
ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

رب کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے اور رب کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے
حدیث نبوی ہے:
رضا الرَّبِّ في رضا الوالدِ وسخطُ الرَّبِّ في سخطِ الوالدِ.

(صحيح الترمذي: ١٨٩٩ )

دوسری روایت میں ہے:
رضا الرَّبِّ في رضا الوالِدَيْنِ، وسَخَطُه في سَخَطِهِما.

الألباني (ت ١٤٢٠)، صحيح الجامع ٣٥٠٧ • صحيح [ ثم تراجع الشيخ وحسنه ، انظر : " السلسلة الصحيحة " رقم : 516 ]
والدین کی خدمت کرکے ہمیں جنت کمانا چاہیے

اک دن نبی نے حلقہِ اصحاب میں یہ لفظ
دہرائے تین بار کہ ناک اسکی کٹ گئی
اصحاب نے کہا کہ یہ کم بخت کون ہے
توقیر جس کی حضرت باری میں گھٹ گئی
ارشاد یوں ہوا کہ وہ فرزند نا خلف
گھر جسکے جنت آئی اور آ کر پلٹ گئی
ماں باپ کا بڑھاپے میں نہ جسکو ہو خیال
اس بد نصیب بیٹے کی قسمت الٹ گئی


اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
----------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
7/نومبر 2021، بروز اتوار
 
Top