ذیشان خان

Administrator
مدینہ طیبہ اورمسجد نبوی کی زیارت کے آداب

=======================
ترجمہ : ابوسنبل مقبول احمد سلفیؔ
المكتب التعاوني للدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات شمال الطائف(مسرة)
صحیح احادیث کی روشنی میں مسجد نبوی کی زیارت کرنامسنون ہے چنانچہ صحیحین میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد (مسجدنبوی) میں ایک نمازدوسری مسجدوں کے بالمقابل ایک ہزارنمازکے برابرہے سوائے مسجدحرام کے ۔
جب بندہ مسجدنبوی کی زیارت کوجائے تومندرجہ ذیل آداب بجالائے ۔
1/آپ کے لئے مستحب ہے کہ مسجدمیں داخل ہوتے وقت دایاں پیرآگے کریں اوریہ دعاپڑھیں : بسم الله والصلاة والسلام على رسول الله أعوذ بالله العظيم وبوجهه الكريم وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم , اللهم افتح لي أبواب رحمتك . جیساکہ دیگرعام مسجدوں میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جاتی ہے ، اس کے لئے کوئی خاص دعاواردنہیں ہے ۔
2/ دورکعت نمازتحیۃ المسجدکی نیت سے پڑھیں اورخوب خوب دعاکریں ، اگریہ نمازروضہ مبارک میں اداکریں تو زیادہ بہترہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے : میرے حجرے اورمنبرکے درمیان جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے ۔
3/ اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرنہایت ادب واحترام سے درودوسلام عرض کیاجائے ، سلام کے لئے یہ الفاظ کہنا مسنون ہیں : (السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته , صلى الله عليك وجزاك عن أمتك خيرالجزاء) پھرحضرت ابوبکراورحضرت عمررضی اللہ عنہماپر سلام پڑھے ۔یہ زیارت صرف مردوں کے لئے جائزہے جبکہ عورتوں کے لئے قبروں کی زیارت جائزنہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اوران پرمساجدبنانے والوں اورچراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔
4/ آپ کے لئے یہ بھی بہتر ہے کہ اجروثواب کو غنیمت جانتے ہوئے پیج وقتہ نمازیں مسجدنبوی میں اداکریں اورکثرت سے ذکرواذکار، دعاومناجات اور نفل نمازیں پڑھنے کا اہتمام کریں ۔نفل نمازروضہ میں اداکرنا مسنون ہے جیساکہ اوپر ذکرکیاگیاہے ۔
5/ زائرکےلئے یہ بھی مسنون ہے کہ مسجدقباء کی زیارت کرے اوراس میں نمازپڑھے جیساکہ صحیحین میں ابن عمررضی اللہ عنھماسے حدیث وارد ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواریاپیدل مسجد قباء کی زیارت کرتے اوراس میں دورکعت نمازادافرماتے ۔سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے گھرمیں پاکی حاصل کی پھروہ مسجد قباء آئے اوراس میں نمازاداکی تواسے عمرے کے برابرثواب ملے گا۔ (رواہ احمدوالنسائی وابن ماجہ )
6/ اسی طرح زائر کے لئے یہ مسنون ہے کہ وہ بقیع غرقد،شہداء احداورقبرحمزہ رضی اللہ عنہ کی زیارت کرے اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کی زیارت کرتے اوران کے لئے دعائے مغفرت فرماتے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : قبروں کی زیارت کرواس سے تمہیں آخرت یاد آئے گی ۔(رواہ مسلم )
مسجدنبوی کی زیارت کرنے والوں کے لئے تنبیہات
1/حجرہ نبوی کوچھونایابوسہ لینایاطواف کرناجائزنہیں ہے اس لئے کہ یہ سب سلف صالح سے منقول نہیں بلکہ یہ سب بدعت والے اعمال ہیں ۔
2/ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی مشکل کا سوال کرنایابیماری کی شفاکا سوال کرنایا اسی طرح کی دیگرچیزوں کا سوال کرنا جائزنہیں ہے ، یہ سب چیزین صرف اللہ تعالی سے مانگی جائیں گی ، گذرے ہوئے لوگوں سے مانگنااللہ کے ساتھ شرک اور غیراللہ کی عبادت کرناہے ۔
3/ بعض لوگ نبی کی قبرکی طرف کھڑ ے ہوکراورہاتھ اٹھاکر مستقل دعاکرتے ہیں یہ بھی خلاف سنت ہے ، مسنون یہ ہے کہ وہ قبلہ رخ ہوکر اللہ تعالی سے مانگے ۔
4/ اسی آپ کی قبرکے پاس آوازبلندکرنااوردیرتک ٹھہرے رہنابھی خلاف سنت ہے ۔
5/ بعض لوگ آپ پردرودوسلام بھیجتے وقت سینے پر یانیچے نمازکی طرح ہاتھ باندھ لیتے ہیں جوکہ خشوع وخضوع اورعبادت کی ہیئت ہے اوریہ صرف اللہ کے لئے بجاہے ۔
6/ بعض حجاج کرام یہ گمان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر کی زیارت واجب ہے ، یہ صحیح نہیں ہے بلکہ یہ مستحب ہے کہ جومسجدنبوی کی زیارت کرے یامدینے سے قریب ہووہ آپ کی قبرکی زیارت کرلے ۔اس سلسلے میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ جس نے حج کیااورمیری زیارت نہیں کی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ۔یہ من گھڑنت حدیث ہے ۔
(یہ علامہ عبدالعزیزبن بازرحمہ اللہ کے کلام کا اختصارہے )
 
Top