ذیشان خان

Administrator
حج سے پہلے شوہرکا فوت ہوجانا

================
سوال : ایک عورت حج پر جارہی تھی کہ اسی مہینے اس شوہر فوت ہوگیاواب کیا وہ حج کے لیے جائےگی یا عدت پوری کرے گی... ؟؟؟
سائل : فضیل احمد ظفر، ہندوستان
تاریخ : 4/1/2016

جواب :
سفر پہ جانے سے پہلے اگر شوہر کا انتقال ہوجائے تو لازمی طورپہ بیوی گھر میں عدت گذارے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجاً يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْراً (البقرة:234)
ترجمہ: تم میں سے جو لوگ مرجائیں ان کے پیچھے اگر ان کی بیویاں زندہ ہیں۔ تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک روکے رکھیں۔
اس عدت کے دوران سوگ منانا واجب ہے جیساکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے ۔
عن أُمِّ حَبِيبَةَ رضي الله عنها قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ إِلا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔(روى البخاري :1280ومسلم :1486)
ترجمہ: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو عورت اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی میت پر تین راتوں (اور تین دن تک) سے زیادہ سوگ منائے لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے اور دس دن تک سوگ منائے۔
اور عورت اس سال حج نہ کرے اورآئندہ سال حج کی ادائیگی کرے کیونکہ حج پہ جانے سے عدت پوری نہیں کرسکتی جو اس کے لئے واجب ہے جبکہ حج میں وسعت ہے ، آئندہ سال بھی کرسکتی ہے ۔
اور اگر عورت سفر پہ نکل ہوچکی ہو پھر شوہر کی وفات کی خبر آئے تو اس کی دوصورتیں ہیں ۔
(1) اگر معمولی سفر کی ہو یعنی ابھی نزدیک ہو تو لوٹ جائے اور عدت پوری کرے ۔
(2) اور اگر دور نکل چکی ہو مثلا جدہ یا مکہ تو پھر اپنا حج پورا کرے خواہ فرضی حج ہو یا نفلی ۔

واللہ اعلم

کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top