میراث انبیاء
ابو حمدان اشرف رائیدرگ
---------------------------------------------

انبیاء کرام کی میراث سے مراد علم، نبوت اور بادشاہت ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
وَوَرِثَ سُلَیۡمَـٰنُ دَاوُۥدَۖ
[النمل ١٦]
دوسری جگہ فرمایا:
یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنۡ ءَالِ یَعۡقُوبَۖ وَٱجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِیࣰّا﴾ [مريم ٦]

مذکورہ دونوں آیتوں میں میراث سے مراد علم، نبوت مراد ہے نہ کہ مال، کیونکہ انبیاء اپنی میراث میں مال نہیں چھوڑتے بلکہ علم کا وارث بناتے ہیں اور جو کچھ مال چھوڑ کر جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے:
لا نُورَثُ ما تَرَكْنا صَدَقَةٌ.

(صحيح مسلم ١٧٦١ )

دوسری حدیث میں ہے:

وإنَّ العلماءَ ورثةُ الأنبياءِ، وإنَّ الأنبياءَ، لم يُوَرِّثوا دينارًا، ولا درهمًا، إنما وَرّثوا العلمَ، فمن أخذه أخذ بحظٍّ وافرٍ

الألباني (ت ١٤٢٠)، صحيح الجامع ٦٢٩٧ • صحيح • أخرجه أبو داود (٣٦٤١)، والترمذي (٢٦٨٢)، وابن ماجه (٢٢٣)، وأحمد (٢١٧١٥) باختلاف يسير


علم میراث رسول ﷺ ہے:

*سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بازارِ مدینہ سے گزرے تو وہاں ٹھہر کر لوگوں سے کچھ یوں مخاطب ہوئے: "اے بازار والو! تم لوگ کیوں عاجز آگئے ہو؟".*
*لوگوں نے پوچھا: اے ابو ہریرہ! کس چیز کے متعلق آپ ذکر کر رہے ہیں؟*
*آپ نے فرمایا:*
*’’ذاكَ مِيراثُ رَسُولِ اللهِ - ﷺ - يُقْسَمُ، وأنْتُمْ هاهُنا لا تَذْهَبُونَ فَتَأخُذُونَ نَصِيبَكُمْ مِنهُ؟ ‘‘.*
*اللہ کے رسول کی میراث تقسیم کی جارہی ہے، اور تم ہو کہ یہاں بازار میں موجود ہو؟ تم لوگ جاکر اپنا حصہ کیوں نہیں حاصل کر لیتے؟*
*لوگوں نے پوچھا: کس جگہ میراثِ رسول تقسیم ہو رہی ہے؟*
*فرمایا: "مسجد میں".*
*یہ سنتے ہی وہ لوگ تیزی نکل پڑے، اور ابو ھریرہ اُن کے انتظار میں وہیں کھڑے رہے، یہاں تک وہ لوگ واپس آپہونچے.*
*آپ نے ان سے پوچھا: "کیا ہوا؟ واپس کیوں آگئے؟"*
*انہوں نے کہا: اے ابو ھریرہ! ہم مسجد گئے اس میں داخل بھی ہوئے، لیکن وہاں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو تقسیم کی جارہی ہو.*
*اس پر ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: "اچھا ذرا بتاؤ! کیا تم نے مسجد میں کسی کو بھی نہیں دیکھا؟"*
*انہوں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور دیکھا؛ ہم نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو نماز پڑھ رہے تھے، اور کچھ لوگ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے، اور کچھ لوگ حلال وحرام کے بارے میں باہم مذاکرہ (سوال وجواب) کر رہے تھے.*
*اس پر ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے فرمایا: ’’وَيْحَكم! فذاكَ ميراثُ مُحمَّدٍﷺ‘‘.*
*تمہارا برا ہو! ارے وہی (دینی تعلیم ہی) تو محمد ﷺ کی میرات ہے (جو طلباء میں تقسیم ہورہی تھی).*

📚: [المعجم الأوسط للطبرانی: ۱٤۲۹، علامہ البانی نےاسے حسن قرار دیا ہے، دیکھئے: صحیح الترغیب: ۸۳]

اللہ تعالیٰ ہمیں اس علمی میراث کی حفاظت کرنے اور اس کی نشرواشاعت کی توفیق عطا فرمائے آمین
-------------------------------------
ابو حمدان اشرف رائیدرگ
23/نومبر 2021 ، منگل
 
Top