کسی کو عار دلانا عظیم گناہ
ابو حمدان اشرف رائیدرگ
-----------------------------------

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا:

ان تعييرك لأخيک بذنبه أعظم إثما من ذنبه وأشد من معصيته.


(مدارج السالكين: ١/١٩٥)

یقیناً تمہارا اپنے کسی بھائی کو اس کے کسی گناہ کی وجہ سے عار دلانا اس کے گناہ سے بڑا گناہ اور عظیم نافرمانی ہے۔

حدیث میں ہے ایک مرتبہ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو اس کی ماں کا عار دلایا اور کہا: يا بن السوداء، اے کالی ماں کے بیٹے!
معرور نے کہا میں ابوذر سے ربذہ میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی جوڑا پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی (یعنی گالی دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایا اے ابوذر! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی، بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ (یاد رکھو) ماتحت لوگ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے (اپنی کسی مصلحت کی بنا پر) انہیں تمہارے قبضے میں دے رکھا ہے تو جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے اور وہی کپڑا اسے پہنائے جو آپ پہنتا ہے اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔
[صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 31]

نبیﷺ کے چچا ابو طالب کو آپ ان کے مرض الموت میں بہت کوشش کئے، بار بار کلمے کی تلقین کرتے رہے مگر انہوں نے کلمہ پڑھنے سے انکار کر دیا اور باپ دادا کے دین پر قائم رہے، آپ سے کہا: اگر مجھے لوگوں کے عار کا خوف نہ ہوتا، لوگ عار دلاتے ہوئے کہیں گے، ڈر کر، گھبرا کر کلمہ پڑھ لیا، اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں کلمہ پڑھ کر آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا یعنی آپ کو خوش کر دیتا،
حدیث میں ہے:
[عن أبي هريرة:] قالَ رَسولُ اللهِ ﷺ لِعَمِّهِ: قُلْ: لا إلَهَ إلّا اللَّهُ، أشْهَدُ لكَ بها يَومَ القِيامَةِ، قالَ: لَوْلا أنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يقولونَ: إنَّما حَمَلَهُ على ذلكَ الجَزَعُ لأَقْرَرْتُ بها عَيْنَكَ، فأنْزَلَ اللَّهُ: {إنَّكَ لا تَهْدِي مَن أحْبَبْتَ ولَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشاءُ} [القصص: ٥٦].
مسلم (ت ٢٦١)، صحيح مسلم ٢٥

سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں پانچ مہینے قیام اللیل سے محروم رہا ایک گناہ کی وجہ سے، پوچھا گیا کہ وہ گناہ کیا تھا تو فرمایا: میں نے ایک شخص کو روتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا کہ یہ ریاکاری مکاری کر رہا ہے۔
(الحلية لابي نعيم: 7/18، إحياء علوم الدين 1/356)

لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم کسی کو اس کے گناہوں کی وجہ سے عار دلانے سے بچیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نیک توفیق عطا فرمائے آمین
---------------------------------------
ابو حمدان اشرف رائیدرگ
23/نومبر 2021، بروز منگل
 
Top