اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے
ابوحمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ،آندھرا پردیش

عن أمير المؤمنين أبي حفصٍ عمرَ بن الخطاب رضي الله عنه قال: سمعتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها أو امرأةٍ ينكحها فهجرته إلى ما هاجر إليه۔
ترجمہ:
امیر المومنین ابو حفص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے شمار ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے مقصد سے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی مقصد کے لیے شمار ہوگی۔
تخریج:
[صحیح البخاری:کتاب بدء الوحي، باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم:1 ، صحيح مسلم: كتاب الإمارة، باب قوله صلى الله عليه وسلم إنما الأعمال بالنية:1907، سنن أبي داؤد:كتاب الطلاق، باب فيماعني به الطلاق والنيات:2201، سنن الترمذي: ابواب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء فيمن يقاتل رياء وللدنيا:1647، سنن النسائي:كتاب الطهارة، باب النية في الوضوء:75، سنن ابن ماجه:كتاب الزهد، باب النية:4227، مسند احمد:مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه:168، المؤطا:983، صحيح الترغيب:10]
سبب ورود:
بعض احادیث میں اس حدیث کا سبب ورود یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے ام قیس نامی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا، اس نے اس وقت تک نکاح کرنے سے انکار کر دیا جب تک وہ ہجرت نہ کرے، چنانچہ انہوں نے اس کی اس شرط کی وجہ سے ہجرت کی اور وہاں جاکر دونوں کا نکاح ہو گیا، صحابہ کرام میں ان کا نام ہی مہاجر ام قیس مشہور ہوگیا۔ [المعجم الكبير: 9/103]
یہ واقعہ سند کے اعتبار سے صحیح ہے، جیساکہ بہت سے علماء نے اس حدیث پر صحت کا حکم لگایا ہے:
1- حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: ہذا اسناد صحيح على شرط الشيخين. [فتح الباري: 1/16]
2- علامہ مزی رحمہ اللہ نے کہا: ہذا اسناد صحيح. [تهذيب الكمال: 16/126]
3- امام ذہبی رحمہ اللہ نے سعید بن منصور کے ترجمہ کے تحت اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد کہا: اسناده صحيح.[سير أعلام النبلاء: 10/590]
4- علامہ ہیثمی نے کہا: رواه الطبراني في الكبير ورجاله رجال الصحيح۔ (2/(101]
اسی وجہ سے بہت سے علماء نے اس واقعے کو اس حدیث کا سبب ورود بتایا ہے، مثلاً: امام ابن دقیق العید نے [إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: 1/11]میں اور امام سیوطی نے [تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي: 2/929] میں ذکر کیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فتاویٰ میں مختلف مقامات پر اس واقعے کو اس حدیث کا سبب ورود بتایا ہے، ملاحظہ ہو: [مجموع الفتاوى: 18/253، 20/222، 27/47]
لیکن دیگر محققین نے اس کا انکار کیا ہے اور کہا : مہاجر ام قیس کا واقعہ سند کے اعتبار سے صحیح ہے مگر کسی بھی روایت میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ اسی واقعے کے پس منظر میں نبی کریم ﷺ نے یہ حدیث بیان کی، جیساکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس واقعے کو ذکر کرنے کے بعد کہا:
وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين ، لكن ليس فيه أن حديث الأعمال سيق بسبب ذلك ، ولم أر في شيء من الطرق ما يقتضي التصريح بذلك ۔[فتح الباري:1 / 10]
یہ حدیث صحيح ہے مگر اس میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ اس کا سبب ورود یہی ہے اور نہ کسی بھی روایت میں اس کی صراحت ہے۔ اسی طرح حافظ ابن رجب حنبلی نے بھی اس کا انکار کیا ہے اور کہا کہ : یہ بات مشہور ہے کہ مہاجر ام قیس کا واقعہ اس حدیث کا سبب ورود ہے اور بہت سے متاخرین علماء نے اپنی کتابوں میں اسے ذکر بھی کیا ہے،لیکن اس کی کوئی اصل نہیں ہے،فرمایا:
وقد اشتُهر أن قصة " مهاجر أم قيس " هي كانت سبب قول النبي صلى الله عليه وسلم ( من كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة ينكحها ) وذكر ذلك كثير من المتأخرين في كتبهم ، ولم نرَ لذلك أصلاً يصح " [جامع العلوم والحِكَم: 14]
بکر بن عبد اللہ ابو زید کا بھی یہی موقف ہے: [التأصيل: 1/73]
اس حدیث کا مقام ومرتبہ:
ائمہ و محدثین کے نزدیک یہ حدیث انتہائی مہتم بالشان ہے،بلکہ یہ حدیث ان احادیث میں سے ایک ہے جن پر اسلام کا مدار ہے، اس کی عظمت کو ثابت کرنے کے لیےذیل کی سطور میں علماء کرام کےچند مشہور اقوال ذکر کئے جارہے ہیں:
1- حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی قدر ومنزلت متعدد ائمہ ومحدثین سے منقول ہے، امام ابو عبداللہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ليس في اخبار النبي صلى الله عليه وسلم شيء أجمع وأغنى وأكثر فائدة من هذا الحديث. [فتح الباري: 1/ 14]نبیﷺ کی احادیث میں اس سے جامع اور اس قدر فوائد پر مشتمل کوئی دوسری حدیث نہیں ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں سات مقامات پر ذکر کیا ہے:
1-کتاب بدء الوحي،باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله ﷺ، رقم الحديث: 1
2- كتاب الإيمان، باب ماجاء أن الأعمال بالنية والحسبة ولكل امرئ ما نوی: 54
3- كتاب العتق، باب الخطأ والنسيان في العتاقة والطلاق ونحوه، 2529
4- كتاب مناقب الأنصار، باب هجرة النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة، 3898
5- كتاب النكاح، باب من هاجر أو عمل خيرا لتزويج إمرأة فله ما نوى،5070
6- كتاب الأيمان والنذور، باب النية في الأيمان، 6689
7- كتاب الحيل، باب في ترك الحيل وأن لكل امرئ ما نوى في الأيمان وغيرها، 6953
2- عبد الرحمٰن بن مہدی، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، علی بن مدینی، امام ابو داؤد، امام ترمذی، امام دارقطنی، حمزہ کنانی رحمہم اللہ جیسے کبار محدثین نے اس حدیث کو ثلث اسلام قرار دیا ہے[فتح الباری: 1/11]
3- امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: اسلام کے اصول تین احادیث پر قائم ہیں:
۱-حدیث عمر: إنما الأعمال بالنيات. ٢-حدیث عائشہ: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد. ٣- حدیث نعمان بن بشیر: الحلال بين والحرام بين.[فتح الباري: 1/11، طرح التثريب:2/5]
4- امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا:هذا الحديث ثلث الاسلام ويدخل في سبعين بابا من ا لفقه، یہ حدیث ایک تہائی علم ہے اور فقہ کے ستر ابواب اس میں داخل ہیں۔[فتح الباری: 1/14,شرح صحیح مسلم للنووي: 7/48،طرح التثريب:2/5,شرح الأربعين لابن دقيق العيد:12]
5- حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے فرمایا: حدیث : إنما الأعمال بالنيات،باطنی اعمال کے لئے میزان ہے اور حدیث: من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد، ظاہری اعمال کے لئے میزان ہے، جس طرح اخلاص کے بغیر کیا جانے والا عمل مقبول نہیں ہوتا ہے اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بغیر کیا جانے والا عمل مردود ہوتا ہے۔ [جامع العلوم والحكم: 1/176]
6- امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا:أجمع المسلمون على عِظَم موقع هذا الحديث، وكثرة فوائده، وصحته. اس حدیث کے عظیم الشان اور کثیر الفوائد ہونے اور اس کی صحت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 13/47]
7- علامہ عراقی نے کہا: هذا الحديث قاعدة من قواعد الإسلام ، یہ حدیث اسلام کے قواعد میں سے ایک عظیم قاعدہ ہے۔[طرح التثريب في شرح التقريب: 1/6]
8 -عبد الرحمن بن مہدی فرماتے ہیں:ينبغي لكل من صنف كتابًا أن يبتدئ فيه بهذا الحديث؛ تنبيهًا للطالب على تصحيح النية. ہر عالم کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنی تصنیف کا آغاز اس حدیث سے کرے، طالب علم کو تصحیح نیت پر متنبہ کرنے کے لئے۔ [شرح الأربعين النووية لابن دقيق العيد: 3]مزید فرماتے ہیں: يدخل في ثلاثين بابا من العلم، یہ حدیث علم کے تیس ابواب کو شامل ہے، اور فرمایا: ينبغي أن يجعل هذا الحديث رأس كل باب، مناسب ہے کہ اس حدیث کو ہر باب کا نقطہ آغاز بنایا جائے۔ [فتح الباري: 1/[14
9- ابوبکر بن داسہ کہتے ہیں میں نے امام ابو داؤد رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ لاکھ حدیثوں کو لکھا پھر ان میں سے اپنی کتاب سنن میں چار ہزار آٹھ سو احادیث منتخب کیا، ان میں صحیح، اس کے مشابہ اور اس کے قریب درجہ کی روایات ہیں، کسی بھی انسان کی دینداری کے لئے ان میں سے صرف چار احادیث کافی ہیں:
1- إنَّما الأعمالُ بالنِّيّاتِ (صحيح أبي داود ٢٢٠١) 2- مِن حُسنِ إسلامِ المرءِ تركُهُ ما لا يعنيه (ترمذي (٢٣١٧)، وابن ماجه (٣٩٧٦) 3- لا يُؤْمِنُ أحَدُكُمْ، حتّى يُحِبَّ لأخِيهِ ما يُحِبُّ لِنَفْسِهِ.(صحيح البخاري ١٣) 4- إنَّ الحلالَ بيِّن ٌ وإنَّ الحرامَ بيِّنٌ.(صحيح أبي داود ٣٣٢٩)[الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج: 8402، جامع العلوم والحكم: 62-63]
امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام ابو داؤد رحمہ اللہ کے مذکورہ قول کے بارے میں کہا: یہ کہنا کہ ایک انسان کی دینداری کے لئے یہ چار حدیثیں کافی ہیں، صحیح نہیں ہے، بلکہ ایک مسلمان کو قرآن مجید کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری صحیح حدیثوں کی ضرورت ہے۔ [الفوائد الذهبية من سير أعلام النبلاء: 1/81]
امام ابو داؤد مزید فرماتے ہیں:فقہ کا مدار پانچ احادیث ہیں:
1- الحلال بين والحرام بين. 2- لا ضرر ولا ضرار. 3- الأعمال بالنيات. 4- الدين النصيحة. 5- وما نهيتكم عنه فاجتنبوه وما أمرتكم به فأتوا منه ما استطعتم.[جامع العلوم والحكم:63]
10- امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں: چار احادیث دین کے اصول ہیں:
1- إنما الأعمال بالنيات2-الحلال بين والحرام بين3-إن خلق أحدكم يجمع في بطن أمه 4-من صنع في أمرنا شيئا ليس منه فهو رد[جامع العلوم والحكم: 62]
11- اس حدیث کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ ائمہ کرام اور محدثین عظام نے تصحیح نیت کے لئےاس حدیث سے اپنی مصنفات کے آغاز کا اہتمام کیا ہے، جیسا کہ امام المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی الصحيح کا آغاز اسی حدیث سے کیا ہے، اسی طرح امام بغوی رحمہ اللہ نے اپنی دو کتاب کا : شرح السنة اور مصابيح السنة کا، امام نووی رحمہ اللہ نے اپنی تین کتابوں کا : الأذكار،الأربعين النووية اور رياض الصالحين کا ، اسی طرح امام عبد الغنی المقدسی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب: عمدة الاحكام من كلام خير الأنام کا۔
حسن نیت کے فوائد وثمرات:
1- اخلاص نیت کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں:

تمام اعمال کے صلاح وفساد اور قبولیت ورد کا انحصار نیت پر ہے، اگر نیت صالح و صادق ہو تو عمل قبول ہوگا ورنہ نیت کے فساد کےباعث عمل بھی فاسد اور مردود قرار پاتا ہے، جیساکہ حدیث میں ہے:ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: جاءَ رجلٌ إلى النَّبيِّ ﷺ، فقالَ: أرأيتَ رجلًا غزا يلتمسُ الأجرَ والذِّكرَ، ما لَهُ؟ فقالَ رسولُ اللَّهِ ﷺ: لا شيءَ لَهُ فأعادَها ثلاثَ مرّاتٍ، يقولُ لَهُ رسولُ اللَّهِ: لا شيءَ لَهُ ثمَّ قالَ: إنَّ اللَّهَ لا يقبلُ منَ العملِ إلّا ما كانَ لَهُ خالصًا، وابتغيَ بِهِ وجهُهُ۔
[صحيح النسائي: کتاب الجھاد، باب من غزا یلتمس الأجر والذکر: ٣١٤٠ ]
ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور سوال کیا کہ: ایک شخص اجر و ثواب اور شہرت و ناموری کے مقصد سے جنگ میں جاتا ہے، اسے کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا: اسے کچھ بھی نہیں ملے گا، اس نے تین مرتبہ سوال دہرایا، آ پ نے ہر بار یہی جواب دیا: لا شيء له: اس کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو اخلاص نیت اور رضاء الہی کے مقصد سے کیا گیا ہو۔ دوسری حدیث میں ہے: سُئِلَ رَسولُ اللهِ ﷺ عَنِ الرَّجُلِ يُقاتِلُ شَجاعَةً، وَيُقاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقاتِلُ رِياءً، أَيُّ ذلكَ في سَبيلِ اللهِ؟ فَقالَ رَسولُ اللهِ ﷺ: مَن قاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هي العُلْيا، فَهو في سَبيلِ اللَّهِ.
(صحيح مسلم: كتاب الإمارة، باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا: ١٩٠٤)
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھانے کے لئے، دوسرا (خاندانی و قبائلی) حمیت کے لئے اور ایک ریاکاری کے لئے لڑتا ہے، ان میں سے اللہ کی راہ میں لڑنے والا کون ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص صرف اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ (دین) بلند ہو، وہ اللہ کی راہ میں لڑنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا تو ریا کاروں سے کہے گا: يَقولُ اللهُ عزَّ وجلَّ إذا جَزى النّاسَ بأعمالِهِم: اذهَبوا إلى الَّذين كنتُم تُراؤُون في الدُّنيا، فانظُروا هل تَجِدون عندَهُم جَزاءً؟
( صحيح الترغيب: ٣٢)
جاؤ ان لوگوں کے پاس جنھیں دنیا میں دکھانے کے لئے عمل کرتے تھے، پس دیکھو کیا تمھیں ان کے پاس کوئی بدلہ ملتا ہے؟
2- بغیر عمل کے اجروثواب:
کسی نیک عمل کے لئےاگر نیت خالص ہو، دل میں پختہ ارادہ ہو اگر کسی عذر شرعی کے سبب اسے انجام نہ دے سکے تو دلوں کا حال اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ہماری نیت کے مطابق ہم کو اجروثواب عطا کرتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے: غزوہ تبوک سے واپسی پر جب آپ مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: إنَّ بالمَدِينَةِ لَرِجالًا ما سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلا قَطَعْتُمْ وادِيًا، إلّا كانُوا معكُمْ، حَبَسَهُمُ المَرَضُ. وفي رواية: بهذا الإسْنادِ، غيرَ أنَّ في حَديثِ وَكِيعٍ: إلّا شَرِكُوكُمْ في الأجْرِ.
( صحيح مسلم: کتاب الإمارۃ، باب ثواب من حبسہ عن الغزو مرض أو عذر آخر: ١٩١١)
مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو تمہارے ساتھ کچھ بھی سفر نہیں کئے اور نہ کوئی وادی طے کئے مگر وہ تمہارے ساتھ ہیں، بیماری نے انہیں روک لیا، دوسری روایت میں ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اجروثواب میں شریک ہیں (نیت صادقہ کی وجہ سے) دوسری حدیث میں ہے: مَن سَأَلَ اللَّهَ الشَّهادَةَ بصِدْقٍ، بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنازِ لَ الشُّهَداءِ، وإنْ ماتَ على فِراشِهِ. وَلَمْ يَذْكُرْ أبو الطّاهِرِ في حَديثِهِ: بصِدْقٍ.
(صحيح مسلم: کتاب الإمارۃ، باب استحباب طلب الشھادۃ في سبیل اللہ تعالیٰ: ١٩٠٩)
جوشخص صدق نیت سے اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہداء کا مقام عطا کرے گا اگرچہ بستر پر ہی اس کی وفات ہو، ایک اور حدیث میں ہے: من أَتى فِراشَه وهو يَنْوِي أن يقومَ يُصَلِّي من الليلِ فَغَلَبَتْه عينُه حتى يصبحَ كُتِبَ له ما نَوى، وكان نومُه صدقةً عليه من ربِّه۔[ صحيح الجامع ٥٩٤١ • حسن • أخرجه النسائي: کتاب قیام اللیل وتطوع النھار، باب من أتی فراشہ وھو ینوي القیام فنام: (١٧٨٧)، وابن ماجه: کتاب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب ما جاء فیمن نام عن حزبہ من اللیل: (١٣٤٤)]
جو شخص(سونے) کے لئے اپنے بستر پر آئے، اس کی نیت یہ ہو کہ رات میں تہجد کی نماز پڑھوں گا، پس اس پر نیند کا ایسا غلبہ طاری ہوا کہ صبح تک بیدار نہ ہوسکا،تو اس کے لئے اس کی نیت کے مطابق (نماز تہجد) کا اجر و ثواب لکھا جاتا ہے اور اس کا نیند کرنا اس کے رب کی طرف سے صدقہ (انعام وعطیہ) ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر انسان کسی سے قرض لیتے وقت ادائیگی کی نیت سے قرض لیتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے اور وہ اس کے لئے بہت جلد ادائیگی کے اسباب پیدا کر دیتا ہے لیکن اگر قرض لیتے وقت نیت میں کھوٹ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کی نیت کے مطابق معاملہ کرتا ہے، جیساکہ حدیث میں ہے: مَنْ كان عليهِ دَيْنٌ يَنْوِي أَداءَهُ كان مَعَهُ مِنَ اللهِ عَوْنٌ وسَبَّبَ اللهُ لهُ رِزْقًا۔[ السلسلة الصحيحة ٢٨٢٢ • حسن • أخرجه أحمد (٢٦١٨٧)، والطحاوي في «شرح مشكل الآثار» (٤٢٨٩) بنحوه، والطبراني في «المعجم الأوسط» (٧٦٠٨) واللفظ له]
دوسری حدیث میں ہے: مَن أخَذَ أمْوالَ النّاسِ يُرِيدُ أداءَها أدّى اللَّهُ عنْه، ومَن أخَذَ يُرِيدُ إتْلافَها أتْلَفَهُ اللَّهُ.[ صحيح البخاري: کتاب في الاستقراض، باب من أخذ أموال الناس یرید أدائھا أو اتلافھا: ٢٣٨٧]
اور ایک حدیث میں ایسے شخص کو چور کہا گیا ہے: مَن تَزوَّجَ امرَأةً على صَداقٍ، وهوَ يَنوي أن لا يُؤَدِّيَه إليها؛ فهوَ زانٍ، ومَن ادّانَ دَينًا وهوَ يَنوي أن لا يُؤَدِّيَه إلى صاحِبِه أَحسِبُه قال:؛ فهوَ سارِقٌ.[ صحيح الترغيب ١٨٠٦ • صحيح لغيره • أخرجه البزار: مسند أبي ھریرۃ رضي اللہ عنہ، ۲؍۴۵۷: (٨٧٢١)] جو شخص کسی عورت سے مہر مقرر کر کے شادی کرے مگر نیت ادائیگی کی نہ ہو تو وہ زانی ہے اور جو کسی سے قرض لے اس نیت سے کہ وہ اسے ادا نہیں کرے گا تو وہ چور ہے۔ العياذ بالله۔
اسی طرح اگر عمل میں کچھ کمی رہ جائے یا ناکام ہو جائے تو حسن نیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کمی کو دور کر دے گا اور عمل قبول کر لے گا، جیساکہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص صدق نیت اور اخلاص کے جذبے سے ایک رات صدقہ لے کر نکلا کہ رات کی تاریکی میں چھپا کر کسی غریب مجبور کو صدقہ دے دوں گا مگر اتفاق سے وہ ایک زانیہ کے ہاتھ میں صدقہ دے کر آگیا، دوسری رات ایک مالدار کو صدقہ مل گیا، تیسری رات ایک چور کو صدقہ دے دیا، اسے افسوس ہوا کہ میرا تینوں رات کا صدقہ ضائع ہوگیا مگراللہ تعالیٰ نے اس کے اخلاص نیت کی وجہ سے اس کے صدقے کو قبول کر لیا، حدیث کے الفاظ ہیں: أمّا صَدَقَتُكَ فقَدْ قُبِلَتْ، أمّا الزّانِيَةُ فَلَعَلَّها تَسْتَعِفُّ بها عن زِناها، ولَعَلَّ الغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فيُنْفِقُ ممّا أعْطاهُ اللَّهُ، ولَعَلَّ السّارِقَ يَسْتَعِفُّ بها عن سَرِقَتِهِ.[صحيح مسلم: کتاب الزکاۃ، باب ثبوت أجر المتصدق: ١٠٢٢]اس سے کہاگیا کہ تیرا صدقہ قبول کر لیا گیا، مزید تیری نیک نیتی کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ زانیہ عورت زنا سے پاکدامنی اختیار کر لے، مالدار عبرت حاصل کرے اور خرچ کرنے والا بن جائے اور چور چوری سے توبہ کرکے شریف انسان بن جائے۔
3- حسن نیت سے مباحات کو عبادات بنا سکتے ہیں:
نیک وصالح نیت کے باعث مباحات وعادات عبادات وطاعات بن جاتی ہیں، جیسے کوئی کھانے پینے کے وقت اللہ کی عبادت کے لئے حصول توانائی کی نیت کرے، اسی طرح جب سونے جائے تو اس نیت سے سوئے کہ یہ میرے اوپر جسم کا حق ہے کہ اسے راحت ملے، تاکہ صبح نشیط و توانا ہو کر اللہ کی عبادت کر سکے، بیوی سے مباشرت اس نیت سے کرے کہ اس سے بیوی کا حق ادا کرے، نیک وصالح اولاد کی طلب نیت ہو، میاں بیوی کی عفت و پاکدامنی مقصود ہو، شہوات کے فتنے سے حفاظت کی نیت ہو، وغیرہ وغیرہ، تو ایسے نیک جذبات و پاکیزہ نیتوں سے مباحات وعادات بھی عبادات وطاعات بن جاتی ہیں، جیسا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: أنامُ أوَّلَ اللَّيْلِ، فأقُومُ وقدْ قَضَيْتُ جُزْئِي مِنَ النَّوْمِ، فأقْرَأُ ما كَتَبَ اللَّهُ لِي، فأحْتَسِبُ نَوْمَتي كما أحْتَسِبُ قَوْمَتِي. [صحيح البخاري: کتاب المغازي، باب بعث أبي موسیٰ ومعاذ إلی الیمن قبل حجۃ الوداع: ٤٣٤١] میں رات کا اول حصہ سو جاتا ہوں، پھر اس حال میں اٹھتا ہوں کہ اپنی نیند کا ایک حصہ پورا کر لیتا ہوں پھر اللہ جو توفیق دے قیام اللیل کرتا ہوں، تو میں اپنے سونے پر بھی ایسے ہی اجروثواب کی امید رکھتا ہوں جیسے قیام اللیل پر اجروثواب کی امید رکھتا ہوں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: إنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بها وجْهَ اللَّهِ إلّا أُجِرْتَ عَلَيْها، حتّى ما تَجْعَلُ في في امْرَأَتِكَ.[صحيح البخاري: کتاب الإیمان، باب ماجاء أن الأعمال بالنیۃ: ٥٦ ]بیشک تم جو کچھ خرچ کرو اور اس سے تمہاری نیت اللہ کی رضا حاصل کرنی ہو تو تم کو اس کا ثواب ملے گا۔ یہاں تک کہ اس پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالو۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذا أنْفَقَ المُسْلِمُ نَفَقَةً على أهْلِهِ، وهو يَحْتَسِبُها، كانَتْ له صَدَقَةً.[صحيح البخاري: کتاب النفقات: ٥٣٥١]جب ایک مسلمان اجروثواب کی نیت سے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے تو یہ اس کے لئے صدقہ ہے۔
زبید الیامی فرماتے ہیں: إني لأحب أن تكون لي نية في كل شيء حتى في الطعام والشراب[جامع العلوم والحكم: 70]میں پسند کرتا ہوں کہ ہر چیز میں میری نیت مستحضر ہو یہاں تک کہ کھانے پینے میں بھی۔ ابن ھبیرہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ بغیر نیت کے کوئی عمل قبول نہیں کرتا، یہاں تک کہ ایک مسلمان کو اس کی نیت کے مطابق اس کے کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور سونے جاگنے پر بھی اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا کر اجروثواب عطا کرتا ہے۔[الافصاح عن معاني الصحاح: 1/136]بعض سلف سے مروی ہے: من سره أن يكمل له عمله فليحسن نيته فإن الله عز وجل يأجر العبد إذا حسنت نيته حتى باللقمة[ جامع العلوم والحكم: 71]جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے عمل پر اسے پورا اجر ملے تو چاہئے کہ وہ اپنی نیت درست رکھے، کیونکہ اللہ عزوجل بندے کو اس کے حسن نیت پر اجر دیتا ہے یہاں تک کہ لقمہ پر بھی۔
4- نیت کے مطابق اجروثواب:
بندہ مومن کی نیت کے مطابق اسے اجروثواب دیا جاتا ہے، ایک انسان اخلاص نیت سے معمولی عمل پر بڑے اجروثواب کا مستحق ہوجاتا ہے، اس کے برعکس فاسد نیت سے بڑے بڑے عمل کرنے کے باوجود اجروثواب سے محروم کردیا جاتا ہے، جیساکہ مشہور محدث عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رب عمل صغير تعظمه النية ورب عمل كبير تصغره النية [الإخلاص والنية لابن أبي الدنيا: 73]بہت سے چھوٹے اعمال صالح نیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی قدر ومنزلت بڑھ جاتی ہے، جبکہ بہت سے بڑے بڑے اعمال فاسد نیت کی وجہ سے ان کی حیثیت اللہ کے نزدیک کم ہو جاتی ہے، جیساکہ کتب احادیث میں اس سلسلے میں بہت سارے واقعات مشہور ہیں، پیاسے کتے کو پانی پلانے والی فاحشہ عورت کی محض اخلاص نیت کی وجہ سے مغفرت ہوگئی۔ [صحيح البخاري: کتاب بدء الخلق، باب إذا وقع الذباب في شراب أحدکم فلیغمسہ: ٣٣٢١]اسی طرح ایک شخص راستے سے گزرتے ہوئے راستے میں پڑی ہوئی کانٹے دار ٹہنی کو ہٹا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت فرما دی۔[صحيح البخاري: کتاب المظالم، باب من أخذ الغصن وما یؤذي الناس في الطریق فرمی بہ: ٢٤٧٢] اس قسم کے بہت سارے چھوٹے چھوٹے اعمال اخلاص نیت کے ساتھ انجام دے کر ہم اجروثواب اور اللہ کی مغفرت حاصل کر سکتے ہیں، اس کے برخلاف اگر کتنے بڑے بڑے اعمال بھی ہوں لیکن فساد نیت کی وجہ سے ہم اجروثواب سے محروم ہو سکتے ہیں، جیسا کہ عالم، سخی اور شہید کا واقعہ مشہور ہے. [صحيح مسلم: کتاب الإمارۃ، باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار: ١٩٠٥]
ہمیں سنجیدگی سے اس واقعے پر غور کرنا چاہئے کہ محض اخلاص نیت نہ ہونے کی وجہ سے ایک عالم کی زندگی بھر کی دینی خدمت، ایک سخی کی سخاوت اور شہید کی شہادت کا اجر ضائع ہوگیا، بالآخر ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگیا۔ الامان والحفيظ ۔
اسی طرح حدیث میں ہے: إنَّ اللَّهَ كَتَبَ الحَسَناتِ والسَّيِّئاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذلكَ، فمَن هَمَّ بحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْها، كَتَبَها اللَّهُ له عِنْدَهُ حَسَنَةً كامِلَةً، فإنْ هو هَمَّ بها فَعَمِلَها، كَتَبَها اللَّهُ له عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَناتٍ، إلى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، إلى أضْعافٍ كَثِيرَةٍ، ومَن هَمَّ بسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْها، كَتَبَها اللَّهُ له عِنْدَهُ حَسَنَةً كامِلَةً، فإنْ هو هَمَّ بها فَعَمِلَها، كَتَبَهااللَّهُ له سَيِّئَةً واحِدَةً.[صحيح البخاري: کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ أو بسیئۃ: ٦٤٩١]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب تبارک وتعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں، پھر اس کی وضاحت کی، پس جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اسے کر نہ سکا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس ایک کامل نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر ارادے کے مطابق اسے کر بھی لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیوں کا ثواب اس کے لئے لکھ دیتا ہے اور اگر کسی نے کسی برائی کا ارادہ کیا لیکن اسے کیا نہیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی اپنے پاس ایک کامل نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر ارادے کے مطابق اس برائی کو کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک ہی برائی لکھتا ہے۔
مذکورہ حدیث پر غور کریں کہ ایک نیکی پر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ اجروثواب کا جو وعدہ ہے وہ آخر کس بنیاد پر ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ جہاں اللہ تعالیٰ کا فضل واحسان ہے وہیں بندے کی اخلاص نیت کی برکت ہے، بندہ اپنے عمل میں جس قدر مخلص ہوگا اسی قدر اجروثواب کا مستحق ہوگا اور اخلاص نیت کی کمی سے اجروثواب سے محروم ہو جائے گا۔اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے:إنَّما الدُّنيا لأربعةِ نفرٍ عبدٍ رزقَهُ اللَّهُ مالًا وعلمًا فَهوَ يتَّقي ربَّهُ فيهِ ويصلُ فيهِ رحمَهُ ويعلمُ للَّهِ فيهِ حقًّا فَهذا بأفضلِ المنازلِ وعبدٍ رزقَهُ اللَّهُ علمًا ولم يرزقْهُ مالًا فَهوَ صادقُ النِّيَّةِ يقولُ لو أنَّ لي مالًا لعملتُ بعملِ فلانٍ فَهوَ بنيَّتِهِ فأجرُهما سواءٌ وعبدٍ رزقَهُ اللَّهُ مالًا ولم يرزقْهُ علمًا يخبطُ في مالِهِ بغيرِ علمٍ لا يتَّقي فيهِ ربَّهُ ولا يصِلُ فيهِ رحمَهُ ولا يعلمُ للَّهِ فيهِ حقًّا فهو بأخبَثِ المنازلِ وعبدٍ لم يرزقْهُ اللَّهُ مالًا ولا علمًا فَهوَ يقولُ لو أنَّ لي مالًا لعملتُ فيهِ بعملِ فلانٍ فَهوَ بنيَّتِهِ فوزرُهما سواءٌ [صحيح الترمذي : أبواب الزھد عن رسول اللہﷺ، باب ماجاء مثل الدنیا مثل أربعۃ نفر: ٢٣٢٥] دنیا میں چار قسم کے لوگ ہیں: ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال اور علم عطا کیا پھر وہ ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتا ہے اور رشتے داروں سے حسن سلوک کرتا ہے اور ان میں جو اللہ کا حق ہے اسے پہچانتا (اور اسے ادا کرتا) ہے تو یہ شخص جنت کے سب سے افضل درجوں میں ہوگا اور دوسرا وہ بندہ ہے جسے اللہ نے علم تو دیا مگر مال نہیں دیا، پس وہ سچی نیت رکھتا ہے اور کہتا ہے اگر میرے پاس مال ہوتا تو یقیناً میں بھی فلاں آدمی کی طرح عمل (خرچ) کرتا، پس جب اس کی نیت یہ ہے تو اس کا اور پہلے شخص کا اجر برابر ہے اور تیسرا بندہ وہ ہے جسے اللہ نے مال دیا اور علم نہیں دیا پس وہ بغیر علم کے اندھادھند طریقے سے خرچ کرتا ہے اس کے بارے میں نہ اپنے رب سے ڈرتا ہے نہ رشتے داروں کے حقوق ادا کرتا ہے اور نہ اللہ کا کوئی حق اس میں پہچانتا ہے، یہ سب سے بدتر مرتبے والا ہے اور چوتھا وہ بندہ ہے جسے اللہ نے نہ مال دیا نہ علم، لیکن وہ کہتا ہے کہ میرے پاس اگر مال ہوتا تو فلاں آدمی کی طرح عمل (اندھادھند خرچ) کرتا، پس جب اس کی نیت یہ ہے تو ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔ یہ ہے نیت صالحہ اور نیت فاسدہ میں فرق، صالح و پاکیزہ نیت اور اچھے و پختہ ارادوں سے انسان بغیر عمل کے عمل کرنے والے کے برابر اجروثواب کا مستحق ہوجاتا ہے، جبکہ فاسد و بری نیت سے گناہ کرنے والے کے برابر گناہ میں شریک ہوجاتا ہے۔ فتفكروا وتدبروا يا اخواني!
5- عبادات اور عادات میں تمیز کرنا:
نیتوں کی بنیاد پر عبادات میں فرق کیا جاتا ہے جیسے ایک فرض کو دوسرے فرض سے الگ کیا جاتا ہے نیت کی بنیاد پر، مثلاً: ظہر اور عصر میں، اسی طرح فرض اور نفل میں فرق کیا جاتا ہے نیت سے مثلاً: فجر کی نماز اور تحیۃ المسجد، اسی طرح عبادات اور عادات میں فرق کیا جاتا ہے نیت سے، جیسے غسل جنابت اور غسل نظافت، وغیرہ۔
6۔صالح نیت صالح عمل میں ہو:
اخلاص نیت کے ساتھ موافقت سنت بھی ضروری ہے،عمل صالح نہ ہو تو نیت کی درستی سے کوئی فائدہ نہیں،کیونکہ عمل کی قبولیت کے لئے یہ دو بنیادی رکن ہیں،جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَمَن كَانَ یَرۡجُوا۟ لِقَاۤءَ رَبِّهِۦ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلࣰا صَـٰلِحࣰا وَلَا یُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦۤ أَحَدَۢا﴾
[الكهف ١١٠]حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ آیت کریمہ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں:
وَهَذَان رُكْنَا الْعَمَلِ الْمُتَقَبَّلِ. لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ خَالِصًا لِلَّهِ، صوابا عَلَى شَرِيعَةِ رَسُولِ اللَّهِ [ﷺ] [ تفسير ابن كثير: سورة الكهف: 110]اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ دل کے ساتھ عمل بھی دیکھتا ہے، فرمان نبوی ﷺ ہے:
إنَّ اللَّهَ لا يَنْظُرُ إلى صُوَرِكُمْ وأَمْوالِكُمْ، ولَكِنْ يَنْظُرُ إلى قُلُوبِكُمْ وأَعْمالِكُمْ.
[صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْبِرُّ وَالصِّلَةُ وَالْآدَابُ | بَابٌ : تَحْرِيمُ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ:2564] اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن الله جعل الإخلاص والمتابعة سببا لقبول الأعمال فإذا فقد لم تقبل الأعمال"[الروح (1/ 135]اللہ تعالیٰ نے اخلاص نیت اور موافقت سنت کو قبولیت اعمال کے لئے شرط قرار دیا ہے، اگر کسی عمل میں یہ دونوں مفقود ہوں تو وہ اعمال قبول نہیں کئے جائیں گے۔
اسی طرح مشہور زاہد وعابد فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے احسن عمل کی تفسیر اخلص اور اصوب سے کی ہے، یعنی جو عمل سب سے خالص اور سب سے زیادہ درست ہو:
قَالَ الفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ فِي تَفْسِيرِ قَوْلِهِ تَعَالىَ: ﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ﴾ [الملك: 2] «هُوَ أَخْلَصُهُ وَأَصْوَبُهُ»، قَالُوا: «يَا أَبَا عَليٍّ، مَا أَخْلَصُهُ وُأَصْوَبُهُ؟»، فَقَالَ: «إِنَّ العَمَلَ إِذاَ كَانَ خَالَِصًا وَلَمْ يَكُنْ صَوَابًا لَمْ يُقْبَلْ، وَإِذَا كَانَ صَوَابًا وَلَمْ َيَكُنْ خَالِصًا لَمْ يُقْبَلْ حَتَّى يَكُونَ خَالِصًا صَوَابًا. الخَالِصُ أََنْ يَكُونَ للهِ، وَالصَّوابُ أَنْ يَكُونَ عَلَى السُّنَّةِ»، ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَهُ تَعَالَى: ﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَلاَ يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا) [الكهف: 110] [مدارج السّالكين لابن القيّم: (2/ 93)].
لوگوں نے کہا: اے ابو علی! اخلص اور اصوب کیا ہے؟ فرمایا:عمل جب خالص ہو اور صواب نہ ہو تو قبول نہیں کیا جائے گا اور جب صواب ہو اور خالص نہ ہو تو بھی قبول نہیں کیا جائے گا،یہاں تک کہ خالص اور صواب دونوں ہو، خالص وہ عمل جو اللہ کے لئے کیا جائے اور صواب جو سنت کے مطابق کیا جائے،پھر بطور استدلال آیت کریمہ کی تلاوت کی:
﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَلاَ يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا) [الكهف: 110]
نیت کی اہمیت اور اقوال سلف:
1- یحییٰ بن کثیر کا قول: تعلموا النية فإنها أبلغ من العمل [حلية الأولياء لأبي نعيم : 3/70]نیت کو درست کرو کیونکہ اس کی درستی عمل سے بہتر ہے۔
2- قال يوسف بن الحسين: "أعز شيء في الدنيا الإخلاص، وكم أجتهدُ في إسقاط الرياء عن قلبي، فكأنه ينبت على لون آخر" [مدارج السالكين:2/ 96]دنیا میں سب سے مشکل چیز اخلاص نیت ہے، میں اپنے دل سے ریاء کو ختم کرنے کی کتنی بھی کوشش کرتا ہوں مگر وہ دوسرے کسی شکل میں ظاہر ہوجاتا ہے۔
3- سفيان ثوري کا قول: "ما عالجت شيئًا أشد عليّ من نيتي؛ لأنها تتقلب عليّ"[جامع العلوم والحكم:12،المجموع : 1/29،الجامع لأخلاق الراوي للبغدادي: 1/317]میں نے نیت سے زیادہ سخت کسی اور چیز کا علاج نہیں کیا کیونکہ یہ ہر لمحہ پلٹتی رہتی ہے۔
4- يوسف بن أسباط کا قول: "تخليص النية من فسادها أشد على العاملين من طول الاجتهاد" [جامع العلوم والحكم:29] نیت کو اس کے بگاڑ اور فساد سے خالص کرنا لمبی محنت اور مشقت سے زیادہ مشکل ہے۔
5- سہل بن عبد اللہ تستری سے سوال کیا گیا: "أي شيء أشد على النفس؟! قال: "الإخلاص؛ لأنه ليس لها فيه نصيب".[مدارج السالكين لابن القيم: 2/92]نفس انسانی پر سب سے مشکل ترین چیز کون سی ہے؟ کہا: اخلاص نیت، کیونکہ اس میں اس کو کوئی حصہ نہیں۔
6-قال الفضل بن زياد : سألت أبا عبد الله ـ يعني الإمام أحمد بن حنبل ـ سألته عن النية في العمل ، قلت : كيف النية ، قال : يعالج نفسه إذا أراد عملاً لا يريد به الناس[جامع العلوم والحكم: 61] فضل بن زیاد نے کہا میں نے ابو عبد اللہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے عمل میں نیت سے متعلق سوال کیا، میں نے کہا: آدمی عمل میں نیت کیسے پیدا کریں؟ کہا: جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے تو یہ کوشش کرے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کا قصد نہ کرے۔
7-مطرف بن عبد اللہ فرماتے ہیں: "صلاح القلب بصلاح العمل، وصلاح العمل بصلاح النية"[ أورده ابن أبي الدنيا في الإخلاص والنية (ص:73].دل کی درستی عمل کی درستی سے ہے اور عمل کی درستی اچھی نیت سے ہوتی ہے۔
8- وقال ابن عجلان: لا يصلح العمل إلا بثلاث: التقوى لله، والنية الحسنة، والإصابة.[جامع العلوم والحكم: 71]عمل صالح نہیں ہوسکتا مگر تین چیزوں سے: اللہ کا تقوی، اچھی نیت اور موافقت سنت۔
9- قال الأوزاعي رحمه الله:"لا يستقيم الإيمان إلا بالقول ، ولا يستقيم الإيمان والقـول إلا بالعمــل ، ولا يستقيم الإيمان والقول والعمل إلا بنية موافقة للسنة. [الإبانة لابن بطة 2/807]ایمان بغیر قول کے درست نہیں ہوسکتا اور ایمان اور قول درست نہیں ہوسکتے بغیر عمل کے اور ایمان، قول اور عمل تینوں درست نہیں ہوسکتے تصحیح نیت اور موافقت سنت کے بغیر۔
10- قال بشر بن الحارث : لا تعمل لتذكر ، اكتم الحسنة كما تكتم السيئة[سير أعلام النبلاء:10/476]شہرت کے لئے عمل نہ کرو نیکی کو ویسے ہی چھپاؤ جیسے برائی کو چھپاتے ہو۔
اہم فوائد حدیث:
۱)یہ حدیث دین کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے، اس کا شمار جوامع الکلم میں ہوتا ہے۔
۲)یہ حدیث باطنی اعمال کے لئے میزان ہے۔
۳)تمام اعمال وعبادات میں نیت شرط ہے، اس کے بغیر کسی عمل کا شمار نہیں ہوگا، بلکہ تمام اعمال میں نیت کو روح کی حیثیت حاصل ہے، بغیر صالح نیت کے عمل بے جان ہے۔
۴)اعمال کی صحت اور جزاء کا دارومدار نیت پر ہے، نیت کے مطابق ہی اجروثواب حاصل ہوگا، اس لئے ہر عمل میں نیت صالحہ کا استحضار ہونا چاہئے۔
۵)عبادات اور عادات میں تمیز نیت ہی سے ہوتی ہے۔
۶)ہجرت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔
۷) فهجرته الى ما هاجر اليه، حدیث کے اس جزء سے نبی ﷺ کے حسن بیان اور بلاغت کلام کا اثبات ہوتا ہے، اس طرح سے کہ دنیا یا عورت کی خاطر ہجرت کرنا ایسا حقیر عمل ہے کہ آپﷺ نے اسے قابل ذکر نہیں سمجھا اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے ہجرت کرنا ایسا مبارک وعظیم عمل ہے کہ آپ نے اسے ذکر کیا۔
۸)تعلیم وتربیت میں مثالوں کو ذکر کرنے کی اہمیت، جیسا کہ آپ نے ہجرت اور دنیا کی مثال دے کر صالح نیت کی اہمیت اور فاسد نیت کی سنگینی کو واضح کیا۔
۹)لوگوں کو عورتوں کے فتنے سے ڈرانا، اس فتنے کی خطرناکی کی وجہ سے آپ نے الگ سے اس کا ذکر کیا، جبکہ دنیا کی مثال میں وہ بھی شامل تھا۔
۱۰)نیت نام ہے قصد وارادہ کا، اس کا محل دل ہے، اس لئے زبانی نیت بدعت ہے۔
۱۱)بعض عبادات کا آغاز مشروع اذکار سے لفظوں میں ثابت ہونا، اس سے زبانی نیت کے جواز پر استدلال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ذکر ہے نہ کہ نیت ۔
۱۲)ہمیشہ اپنی نیتوں کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے اوراپنے آپ کو ریا ونمود کے جذبات سے پاک رکھنا چاہئے، کیونکہ اخلاص نیت نفس انسانی پر مشکل ترین چیز ہے۔
۱۳)صالح نیت صالح عمل میں ہو، کیونکہ اگر عمل صالح نہ ہو تو نیت کی درستی سے کوئی فائدہ نہیں۔
ابو حمدان اشرف فیضی ؍ ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ،آندھرا پردیش
 
Top