نیت کی اہمیت اور اقوال سلف
ابو حمدان اشرف فیضی ؍ ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1- یحییٰ بن کثیر کا قول: تعلموا النية فإنها أبلغ من العمل [حلية الأولياء لأبي نعيم : 3/70]نیت کو درست کرو کیونکہ اس کی درستی عمل سے بہتر ہے۔
2- قال يوسف بن الحسين: "أعز شيء في الدنيا الإخلاص، وكم أجتهدُ في إسقاط الرياء عن قلبي، فكأنه ينبت على لون آخر" [مدارج السالكين:2/ 96]دنیا میں سب سے مشکل چیز اخلاص نیت ہے، میں اپنے دل سے ریاء کو ختم کرنے کی کتنی بھی کوشش کرتا ہوں مگر وہ دوسرے کسی شکل میں ظاہر ہوجاتا ہے۔
3- سفيان ثوري کا قول: "ما عالجت شيئًا أشد عليّ من نيتي؛ لأنها تتقلب عليّ"[جامع العلوم والحكم:12،المجموع : 1/29،الجامع لأخلاق الراوي للبغدادي: 1/317]میں نے نیت سے زیادہ سخت کسی اور چیز کا علاج نہیں کیا کیونکہ یہ ہر لمحہ پلٹتی رہتی ہے۔
4- يوسف بن أسباط کا قول: "تخليص النية من فسادها أشد على العاملين من طول الاجتهاد" [جامع العلوم والحكم:29] نیت کو اس کے بگاڑ اور فساد سے خالص کرنا لمبی محنت اور مشقت سے زیادہ مشکل ہے۔
5- سہل بن عبد اللہ تستری سے سوال کیا گیا: "أي شيء أشد على النفس؟! قال: "الإخلاص؛ لأنه ليس لها فيه نصيب".[مدارج السالكين لابن القيم: 2/92]نفس انسانی پر سب سے مشکل ترین چیز کون سی ہے؟ کہا: اخلاص نیت، کیونکہ اس میں اس کو کوئی حصہ نہیں۔
6-قال الفضل بن زياد : سألت أبا عبد الله ـ يعني الإمام أحمد بن حنبل ـ سألته عن النية في العمل ، قلت : كيف النية ، قال : يعالج نفسه إذا أراد عملاً لا يريد به الناس[جامع العلوم والحكم: 61] فضل بن زیاد نے کہا میں نے ابو عبد اللہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے عمل میں نیت سے متعلق سوال کیا، میں نے کہا: آدمی عمل میں نیت کیسے پیدا کریں؟ کہا: جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے تو یہ کوشش کرے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کا قصد نہ کرے۔
7-مطرف بن عبد اللہ فرماتے ہیں: "صلاح القلب بصلاح العمل، وصلاح العمل بصلاح النية"[ أورده ابن أبي الدنيا في الإخلاص والنية (ص:73].دل کی درستی عمل کی درستی سے ہے اور عمل کی درستی اچھی نیت سے ہوتی ہے۔
8- وقال ابن عجلان: لا يصلح العمل إلا بثلاث: التقوى لله، والنية الحسنة، والإصابة.[جامع العلوم والحكم: 71]عمل صالح نہیں ہوسکتا مگر تین چیزوں سے: اللہ کا تقوی، اچھی نیت اور موافقت سنت۔
9- قال الأوزاعي رحمه الله:"لا يستقيم الإيمان إلا بالقول ، ولا يستقيم الإيمان والقـول إلا بالعمــل ، ولا يستقيم الإيمان والقول والعمل إلا بنية موافقة للسنة. [الإبانة لابن بطة 2/807]ایمان بغیر قول کے درست نہیں ہوسکتا اور ایمان اور قول درست نہیں ہوسکتے بغیر عمل کے اور ایمان، قول اور عمل تینوں درست نہیں ہوسکتے تصحیح نیت اور موافقت سنت کے بغیر۔
10- قال بشر بن الحارث : لا تعمل لتذكر ، اكتم الحسنة كما تكتم السيئة[سير أعلام النبلاء:10/476]شہرت کے لئے عمل نہ کرو نیکی کو ویسے ہی چھپاؤ جیسے برائی کو چھپاتے ہو۔
 
Top