حدیث انما الاعمال بالنیات کے اہم فوائد ودروس
ابو حمدان اشرف فیضی ۔ ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱)یہ حدیث دین کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے، اس کا شمار جوامع الکلم میں ہوتا ہے۔
۲)یہ حدیث باطنی اعمال کے لئے میزان ہے۔
۳)تمام اعمال وعبادات میں نیت شرط ہے، اس کے بغیر کسی عمل کا شمار نہیں ہوگا، بلکہ تمام اعمال میں نیت کو روح کی حیثیت حاصل ہے، بغیر صالح نیت کے عمل بے جان ہے۔
۴)اعمال کی صحت اور جزاء کا دارومدار نیت پر ہے، نیت کے مطابق ہی اجروثواب حاصل ہوگا، اس لئے ہر عمل میں نیت صالحہ کا استحضار ہونا چاہئے۔
۵)عبادات اور عادات میں تمیز نیت ہی سے ہوتی ہے۔
۶)ہجرت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔
۷) فهجرته الى ما هاجر اليه، حدیث کے اس جزء سے نبی ﷺ کے حسن بیان اور بلاغت کلام کا اثبات ہوتا ہے، اس طرح سے کہ دنیا یا عورت کی خاطر ہجرت کرنا ایسا حقیر عمل ہے کہ آپﷺ نے اسے قابل ذکر نہیں سمجھا اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے ہجرت کرنا ایسا مبارک وعظیم عمل ہے کہ آپ نے اسے ذکر کیا۔
۸)تعلیم وتربیت میں مثالوں کو ذکر کرنے کی اہمیت، جیسا کہ آپ نے ہجرت اور دنیا کی مثال دے کر صالح نیت کی اہمیت اور فاسد نیت کی سنگینی کو واضح کیا۔
۹)لوگوں کو عورتوں کے فتنے سے ڈرانا، اس فتنے کی خطرناکی کی وجہ سے آپ نے الگ سے اس کا ذکر کیا، جبکہ دنیا کی مثال میں وہ بھی شامل تھا۔
۱۰)نیت نام ہے قصد وارادہ کا، اس کا محل دل ہے، اس لئے زبانی نیت بدعت ہے۔
۱۱)بعض عبادات کا آغاز مشروع اذکار سے لفظوں میں ثابت ہونا، اس سے زبانی نیت کے جواز پر استدلال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ذکر ہے نہ کہ نیت ۔
۱۲)ہمیشہ اپنی نیتوں کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے اوراپنے آپ کو ریا ونمود کے جذبات سے پاک رکھنا چاہئے، کیونکہ اخلاص نیت نفس انسانی پر مشکل ترین چیز ہے۔
۱۳)صالح نیت صالح عمل میں ہو، کیونکہ اگر عمل صالح نہ ہو تو نیت کی درستی سے کوئی فائدہ نہیں۔
 
Top