حدیث انما الاعمال بالنیات کا سبب ورود
ابوحمدان اشرف فیضی ۔ ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث:

عن أمير المؤمنين أبي حفصٍ عمرَ بن الخطاب رضي الله عنه قال: سمعتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها أو امرأةٍ ينكحها فهجرته إلى ما هاجر إليه۔
ترجمہ:
امیر المومنین ابو حفص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے شمار ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے مقصد سے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی مقصد کے لیے شمار ہوگی۔
تخریج:
[صحیح البخاری:کتاب بدء الوحي، باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم:1 ، صحيح مسلم: كتاب الإمارة، باب قوله صلى الله عليه وسلم إنما الأعمال بالنية:1907، سنن أبي داؤد:كتاب الطلاق، باب فيماعني به الطلاق والنيات:2201، سنن الترمذي: ابواب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء فيمن يقاتل رياء وللدنيا:1647، سنن النسائي:كتاب الطهارة، باب النية في الوضوء:75، سنن ابن ماجه:كتاب الزهد، باب النية:4227، مسند احمد:مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه:168، المؤطا:983، صحيح الترغيب:10]
سبب ورود:
بعض احادیث میں اس حدیث کا سبب ورود یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے ام قیس نامی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا، اس نے اس وقت تک نکاح کرنے سے انکار کر دیا جب تک وہ ہجرت نہ کرے، چنانچہ انہوں نے اس کی اس شرط کی وجہ سے ہجرت کی اور وہاں جاکر دونوں کا نکاح ہو گیا، صحابہ کرام میں ان کا نام ہی مہاجر ام قیس مشہور ہوگیا۔ [المعجم الكبير: 9/103]
یہ واقعہ سند کے اعتبار سے صحیح ہے، جیساکہ بہت سے علماء نے اس حدیث پر صحت کا حکم لگایا ہے:
1- حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: ہذا اسناد صحيح على شرط الشيخين. [فتح الباري: 1/16]
2- علامہ مزی رحمہ اللہ نے کہا: ہذا اسناد صحيح. [تهذيب الكمال: 16/126]
3- امام ذہبی رحمہ اللہ نے سعید بن منصور کے ترجمہ کے تحت اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد کہا: اسناده صحيح.[سير أعلام النبلاء: 10/590]
4- علامہ ہیثمی نے کہا: رواه الطبراني في الكبير ورجاله رجال الصحيح۔ (2/(101]
اسی وجہ سے بہت سے علماء نے اس واقعے کو اس حدیث کا سبب ورود بتایا ہے، مثلاً: امام ابن دقیق العید نے [إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: 1/11]میں اور امام سیوطی نے [تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي: 2/929] میں ذکر کیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فتاویٰ میں مختلف مقامات پر اس واقعے کو اس حدیث کا سبب ورود بتایا ہے، ملاحظہ ہو: [مجموع الفتاوى: 18/253، 20/222، 27/47]
لیکن دیگر محققین نے اس کا انکار کیا ہے اور کہا : مہاجر ام قیس کا واقعہ سند کے اعتبار سے صحیح ہے مگر کسی بھی روایت میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ اسی واقعے کے پس منظر میں نبی کریم ﷺ نے یہ حدیث بیان کی، جیساکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس واقعے کو ذکر کرنے کے بعد کہا:
وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين ، لكن ليس فيه أن حديث الأعمال سيق بسبب ذلك ، ولم أر في شيء من الطرق ما يقتضي التصريح بذلك ۔[فتح الباري:1 / 10]
یہ حدیث صحيح ہے مگر اس میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ اس کا سبب ورود یہی ہے اور نہ کسی بھی روایت میں اس کی صراحت ہے۔ اسی طرح حافظ ابن رجب حنبلی نے بھی اس کا انکار کیا ہے اور کہا کہ : یہ بات مشہور ہے کہ مہاجر ام قیس کا واقعہ اس حدیث کا سبب ورود ہے اور بہت سے متاخرین علماء نے اپنی کتابوں میں اسے ذکر بھی کیا ہے،لیکن اس کی کوئی اصل نہیں ہے،فرمایا:
وقد اشتُهر أن قصة " مهاجر أم قيس " هي كانت سبب قول النبي صلى الله عليه وسلم ( من كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة ينكحها ) وذكر ذلك كثير من المتأخرين في كتبهم ، ولم نرَ لذلك أصلاً يصح " [جامع العلوم والحِكَم: 14]
بکر بن عبد اللہ ابو زید کا بھی یہی موقف ہے: [التأصيل: 1/73]
 
Top