مولانا یوسف جمیل جامعی رحمہ اللہ ۔ کچھ یادیں ،کچھ باتیں
ابو حمدان اشرف فیضی؍ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
مورخہ ۳۰؍اپریل ۲۰۲۰ء بعد نماز مغرب یہ جاں کاہ خبر موصول ہوئی کہ جنوبی ہند کے مایہ ناز عالم دین،کہنہ مشق سلفی شاعر ،لائق وفائق معلم ومربی،عظیم داعی ومبلغ،جماعت وجمعیت کے بے لوث خادم اور جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ کے ہونہار،ممتاز،قدیم فارغ مولانا یوسف جمیل جامعی کا انتقال ہوگیا ہے،إنا للہ وإنا الیہ راجعون،اس جاں گداز خبر نے میرے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ،مگر صبروہمت سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ کو سنبھالا اور قضا وقدر کے فیصلے سے راضی برضا ہوگیا،کیونکہ یہ ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں ،یہ تلخ جام ہر متنفس کو پینا ہے،ارشاد ربانی ہے:کل نفس ذائقۃ الموت[آل عمران:۱۸۵]دنیا میںکسی کو نہیں معلوم کہ اس کی موت کب،کہاں اور کس حال میں ہوگی؟وما تدری نفس بأی أرض تموت[لقمان:۳۴]
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج ان کی تو کل ہماری باری ہے
حیرت الہ آبادی نے کہا تھا:
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

مولانا موصوف مختصر علالت کے بعد اچانک ہم سے ایسے وقت رحلت فرماگئے جب کہ وبائی مہلک بیماری کرونا کی مہاماری تھی،ملک میںہرطرف لاک ڈاؤن نافذ تھا،آپ کے اعزہ واقرباء ،محبین ومتعلقین آخری دیدار اور نماز جنازہ وتدفین میں شرکت سے محروم رہ گئے،یقینا یہ انتہائی افسوس ناک اور روح فرسا حادثہ تھاجس نے سبھوں کوبے چین اور مغموم کردیا:
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا (خالد شریف)
مولانا یوسف جمیل جامعی رحمہ اللہ کی شخصیت ہمہ گیر شخصیت تھی،آپ اپنے اعلیٰ اخلاق ،بلند کردار اور نیک صفات کی وجہ سے ہر خاص وعام میں آپ مقبول ومحبوب تھے،اللہ تعالیٰ نے آپ کو گوناگوں خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا،جس کی وجہ سے ہر میدان میں آپ کی شخصیت منفرد ویگانہ روزگار تھی،ذیل کی سطور میں آپ کی زندگی کے چند اہم گوشوں کا ذکرجمیل کرنا مناسب سمجھتا ہوں تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے آپ کی زندگی مشعل راہ ثابت ہو۔
بحیثیت طالب علم:آپ کی ابتدائی تعلیم آپ کی بستی کملاپور میں ہوئی،چوتھی جماعت تک مقامی اردو یلمنٹری اسکول میں تعلیم حاصل کی ،اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بارہ سال کی عمر میں ۱۹۶۲ء میں جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ میں داخلہ لیا،آپ کے مشہور اساتذہ میں مولانا سید عباس حامی عمری ،مولانا عبد الغنی سیفی عمری،مولانا عبد الرحیم عمری،مولانا محمد علی خالد نائطی عمری مدنی رحمہم اللہ قابل ذکر ہیں،۱۹۷۲ء میں فضیلت کے ساتھ منشی فاضل کا امتحان دے کر اول درجے سے سرٹیفیکٹ حاصل کی،سالانہ اجلاس میں مولانا داؤد راز رحمہ اللہ (شارح صحیح بخاری)نے اپنے ہاتھوں سے سر پر پگڑی باندھی ،سند فضیلت عطا کی اور خوب دعاؤں سے نوازا، آپ بڑے ذہین وفطین اور محنتی طالب علم تھے،اساتذہ کا ادب واحترام کرتے تھے،تمام اساتذہ کے محبوب نظر تھے،ہم درس وہم عصر ساتھیوں میں قابل قدر تھے۔
بحیثیت امام وخطیب:جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ سے فراغت کے بعد اس عظیم علم اور امانت کا حق اداکرنے اور اس کی نشر واشاعت کے لئے آپ نے زبان وبیان اور قلم وقرطاس دونوں ہتھیار کا استعمال کیا،نیک بختی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دونوں کا عظیم شہسوار بنایا تھا،بحیثیت مدرس پہلی تقرری آپ کی انجمن ہائی اسکول گنٹکل میںہوئی،۱۹۷۲ء سے۱۹۷۳ء یہاں تدریسی فرائض انجام دیئے ،گنٹکل میں تدریسی ذمہ داری کے ساتھ خطبات جمعہ بھی دیا کرتے تھے ،مسجد قباء کرنول میں تیس سال خطیب رہے،بعد نماز فجر درس قرآن کا اہتمام کرتے تھے،حین حیات اس ذمہ داری کو بحسن وخوبی سنبھالتے رہے،خطبات جمعہ کے علاوہ ہفتہ واری وماہانہ اجتماعات اور دینی پروگراموں میں شرکت فرماتے اور اپنے مواعظ حسنہ سے سامعین کو مستفیض فرماتے،قرب وجوار اور علاقے کے بڑے اجتماعات اور مدارس کے سالانہ اجلاس میں اکثر آپ بحیثیت صدر مدعو کئے جاتے تھے ،متعدد مرتبہ صوبائی اور مرکزی کانفرنسوں میں بھی آپ نے جمعیت کی نمائندگی کی،عیدین کی نماز اور خطبے بھی عموما آپ ہی کے ہوتے تھے،آپ کی شخصیت بڑی بارعب اور باوقارتھی ،انداز خطابت بڑا دلنشیں تھا،آپ کی خطابت میں نبوی صفات احمرت عیناہ،علا صوتہ،کأنہ منذر جیش موجود تھے، سامعین کے علمی مستوی اور ذہنی استعداد کو دیکھ کر آپ خطاب کرتے تھے،عوام الناس کی مجلس میں عام فہم طریقہ اختیار کرتے تھے اور علمی حلقات میں عالمانہ شان میں وقیع خطاب فرماتے تھے، دوران خطاب ادبی جملے اور برمحل عمدہ اشعار سے سامعین کی حسن سماعت دوبالا ہوجاتی اور باتیں قلوب واذہان میں گھر کرجاتی تھیں،خطبات جمعہ کے لئے اکثر اصلاحی موضوعات کا انتخاب فرماتے تھے،اختلافی موضوعات سے بہت دور رہتے تھے،عقیدہ توحید،اتباع سنت،احترام انسانیت،احترام علم وعلماء،اخلاق حسنہ،اصلاح نفس،عقیدہ آخرت،حقیقت دنیا،سیرت نبوی ﷺ ،عظمت صحابہ رضی اللہ عنہم،احترام ائمہ وغیرہ آپ کے پسندیدہ موضوعات تھے،رسم ورواج کے خلاف خوب جم کربولتے تھے،بالخصوص تقریب نکاح کی مجلس میں عوام کو ترغیب دلاتے کہ نکاح کو آسان بنائیںاور سنت کے مطابق اسراف سے بچتے ہوئے سادگی سے نکاح کا عمل انجام دیں ، مولانا نے اپنے خطبات ودروس سے بہت سارے لوگوں کے عقائد کی اصلاح کی اور ان کی زندگیوں کو تبدیل کیا،اللہ تعالیٰ آپ کی دعوتی جہود کو شرف قبولیت سے نوازے اور میزان حسنات میں شامل فرمائے،آمین۔
بحیثیت مدرس ومعلم:دو سال انجمن ہائی اسکول گنٹکل میں بحیثیت عربک استاذ خدمت انجام دی،اس کے بعد۱۹۷۴ء ؁میںعمر عربک ہائی اسکول کرنول میں مستقل طور پر فارسی ٹیچر مقرر ہوئے اور ۲۰۰۹ء؁ میں وظیفہ یاب ہوئے ، آپ کی تربیت میں رہ کر بہت سے شاگردوں نے نمایاں مقام حاصل کیا اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے،آپ کی مثالی تدریس سے متاثر ہوکر متعدد اعزازات وایوارڈ سے آپ کو نوازا گیا:
۱۹۹۲ء؁ میں صدر جمہوریہ شنکر دیال شرما کے ہاتھوں نیشنل بیسٹ ٹیچر ایوارڈ حاصل کیا۔
۲۰۰۷ء؁ میں اردواکیڈمی متحدہ آندھراپردیش کی جانب سے اسٹیٹ بیسٹ ٹیچر ایوارڈ حاصل کیا۔
۲۰۰۸ء؁ میں کرنول ڈسٹرکٹ بیسٹ ٹیچر ایوارڈ حاصل کیا۔

بحیثیت ادیب وشاعر:آپ رحمہ اللہ کے بقول آپ کے ادبی سفر کا آغاز زمانہ طالب علمی میں ۱۹۶۸ء سے ہی ہوگیا،فراغت کے بعد کرنول میں اقامت کے بعد کرنول کے ادبی ماحول نے آپ کی شاعری کو پروان چڑھایا ،آپ کا قلم بڑا سیال تھا،آپ برجستہ اور برمحل کسی بھی مضمون پر لکھتے تھے،ملک کے مشہور جرائد ورسائل اور اخباروںمیں آپ کے مضامین شائع ہوتے تھے،مختلف علماء کی تصانیف میں تاثرات اور مقدمے تحریر فرمائے،ابناء قدیم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ کے مجلہ کاروان سلف کے آپ حین حیات مدیر تھے،آپ ایک کہنہ مشق سلفی شاعر تھے،شعروادب کی دنیا میں آپ بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے،آپ نے خالص اسلامی شاعری کی،آپ کے پاس دیگر شعراء کی طرح افراط وتفریط اور غلوومبالغہ آرائی کی صفت نہیں تھی،آپ حق گو اور راست باز شاعر تھے،زبان وبیان اور وعظ ونصیحت کے علاوہ آپ نے اپنی شاعری سے دین اسلام کی عظیم خدمت انجام دی،حمدونعت،نظم وغزل،رباعی ومسدس،ہر صنف میں آپ نے شاعری کی،مدارس وجامعات کے ترانے لکھے،آپ کی حیات میں ہی آپ کی شاعری کے مختلف مجموعے بنام ’’ ذوق جمیل،لوح جمیل،عکس جمیل،شائع ہوکر مقبول عام ہوئے،کبار شعراء وادباء نے آپ کی شاعری کو پسند کیا اور خراج تحسین پیش کیا،سلفی دنیا میں ’’ترانہ اہل حدیث ‘‘سے آپ کو پہچانا جاتا تھا،مدارس وجامعات کے سالانہ اجلاس اور دینی اجتماعات میں بڑی عقیدت سے یہ ترانہ پڑھا جاتا تھا،اس ترانہ میں آپ نے منہج سلف کو بہترین انداز میں پیش کیاہے،جس سے آپ کی سلفیت اور جماعتی غیرت وحمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے،مادر علمی جامعہ اسلامیہ دریاباد کی سالانہ انجمن میں راقم سے یہ ترانہ بصد شوق پڑھایا جاتا تھانیزجامعہ میں معزز مہمانوں کی آمد پر منعقدہ اعزازی اجلاس میں بھی یہ ترانہ ہمہ تن گوش ہوکر سنا جاتا تھا،جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ میں تدریسی خدمت انجام دیتے ہوئے جب آپ سے پہلی ملاقات ہوئی اور تعارف میں یہ بتایا گیا کہ ’’ترانہ اہل حدیث ‘‘ آپ ہی کی تخلیق ہے،تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی،اسی وقت سے آپ کی محبت میرے دل میں راسخ ہوگئی ،قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ رحمہ اللہ نے جب میرے اندرشعری ذوق دیکھا تو مجھ سے بے انتہا عقیدت رکھتے تھے یہاں تک کہ ابتدا میں مجھے بھی شاعر سمجھتے تھے،بعد میں کسی مجلس میں میں نے وضاحت کی کہ میں شاعر تو نہیں ہوں البتہ اچھی شاعری کو پسند کرتاہوں ،تواس وضاحت کے بعد آپ رحمہ اللہ بیحد تعجب کئے۔
بحیثیت منتظم وقائد:اللہ تعالیٰ نے آپ کو قائدانہ صلاحیتوں سے نوازا تھا،آپ ایک باکمال منتظم اور قائد تھے،جماعت وجمعیت کے احباب نے آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کو دیکھ کر آپ کو متعدد اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا،آپ شہری جمعیت اہل حدیث کرنول کے امیر رہے،چارمیعاد صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش کے نائب امیر منتخب ہوئے،۲۰۰۴ء میں آپ کی تحریک پر ابناء جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ کی جمعیت قائم ہوئی،جس میں آپ؍ رحمہ اللہ کو نائب امیر منتخب کیا گیا،مختلف اداروں کے آپ سرپرست رہے،الغرض عمر کے آخری مرحلے تک مختلف عہدوں پر فائز رہ کر آپ نے جماعت وجمعیت کی بے مثال خدمت انجام دی،آپ کی چالیس سالہ شاندار علمی،ادبی،دینی،دعوتی ،جماعتی اور تدریسی خدمات کے اعتراف میں مرکز دعوۃ الجالیات کویت اور ابناء قدیم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ ،شاخ کویت،کی طرف سے مورخہ ۱؍۳؍۲۰۱۲ء آپ کی تکریم میں اجتماع منعقد کیا گیااورفضیلۃ الشیخ فلاح خالد المطیری؍حفظہ اللہ(مدیر اللجنۃ القارۃ الہندیۃبالکویت)،شیخ صلاح الدین مقبول احمد؍حفظہ اللہ اور شیخ عارف جاوید محمدی؍حفظہ اللہ کے بدست آپ کی خدمت میں باوقار شیلڈ پیش کی گئی اور پروقار تمغہ سے آپ کو نوازا گیا،اللہ تعالیٰ آپ کی متنوع خدمات کو قبول فرمائے،آمین۔
اخلاق وعادات:مولانا موصوف بلند اخلاق وکرادر کے مالک تھے،جوشخص ایک مرتبہ آپ سے ملاقات کی سعادت حاصل کرتا آپ کی تواضع وخاکساری اور محبت وملنساری سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا،آپ علم ،عمراور منصب میں بڑے ہونے کے باوجود اپنے سے چھوٹے،کم عمر اور کم علم علماء سے محبت کرتے تھے،ان کی حوصلہ افزائی فرماتے اور دعاؤں سے نوازتے تھے، آپ کی تواضع کا سچا واقعہ جو راقم کے ساتھ پیش آیا قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کا شرف حاصل کررہا ہوں:
صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھرا پردیش کے زیراہتمام دو روزہ علمی کنونشن مورخہ:۲۷۔۲۸؍اکتوبر ۲۰۱۸ء بعنوان’’ منہج سلف دنیا کے لئے رحمت‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا،جس میں آپ رحمہ اللہ بھی خصوصی مدعوئین میں سے تھے،کنونشن کی ایک نشست آپ کی صدارت میں منعقد ہوئی،اس کنونشن میں احقر بھی بحیثیت مقالہ نگار مدعو تھا،دوران سفر مختلف امور پر آپ سے تبادلہ خیال ہوا،گفتگو کے دوران آپ نے مجھ سے کہا:مختلف موضوعات پر خطبات جمعہ کے آپ کے تحریری نکات جو سوشل میڈیا پر نشر ہوتے ہیں وہ بہت علمی اور علماء وائمہ کے لئے مفید ہوتے ہیں،میری خواہش ہے کہ اس سلسلے کو آپ جاری رکھیں،آپ کے اس جملے میں جہاں آپ کی کمال تواضع وخاکساری جھلک رہی تھی وہیںمجھ جیسے حقیر وادنی طالب علم کی تشجیع وحوصلہ افزائی مقصود تھی،
؁ کی بات ہے،طلبہ جامعہ کے سالنامہ ’’ السلسبیل ‘‘ کے شمارہ کا اجراء عمل میں آیا،اجلاس کے اختتام پر علماء وذمہ داران جامعہ کی دفتر میں مجلس قائم ہوئی،ارباب مجلس میں سے کسی نے سالنامہ پر تاثرات پیش کرتے ہوئے خوب مدح سرائی کی اور آخر میں مشورہ دیا کہ’’ ذرہ فانٹ سائز اگر بڑا ہوتا تو بہتر ہوتا تھا‘‘ مولانا کو یہ برداشت نہ ہوا اور مجھے تنہائی میں لے جاکر سرگوشی کرتے ہوئے کہا:ذرہ بھی نہیں ،کچھ بھی نہیں ،سب بہتر ہے ،کچھ بھی کمی نہیں ہے ،کچھ لوگوں کو کمیاں نکالنے کی عادت ہوتی ہے،مجلہ بڑا معیاری ہے۔یقینا مولانا کی حوصلہ افزاء باتیں اور پرخلوص دعائیں اب رہ رہ کے یاد آرہی ہیں،مگرافسوس:

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے،آمین۔
جامعہ سے آپ کی عقیدت:مولانارحمہ اللہ کو جامعہ ،ابناء جامعہ،اساتذہ وطلبہ جامعہ سے بے پناہ محبت تھی،جامعہ کی تعلیمی،دعوتی اور تنظیمی سرگرمیوں کو دیکھ کر ،سن کر دلی خوشی ومسرت کا اظہار کرتے تھے اور ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازتے تھے،بالخصوص طلبہ جامعہ میں شعری ذوق دیکھ کر آپ نے ایک پروگرام میں بیحد خوشی کا اظہار کیا،طلبہ جامعہ کی ادبی وشعری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں آپ کاعظیم کردار رہاہے،جب بھی طلبہ کی لکھی ہوئی منظومات اور غزلوں کی تصحیح ونظرثانی کے لئے آپ کی خدمت میں روانہ کیا جاتا تو بلاتاخیر تصحیح فرماتے اور مفید مشوروں اور عمدہ نصیحتوں سے نوازتے تھے، جامعہ کے مشترکہ وسالانہ اجلاس میں متعدد مرتبہ آپ کو بحیثیت صدر مدعو کیا گیا،ہمیشہ جامعہ کی دعوت پر آپ لبیک کہتے اور جامعہ حاضر ہوکر اپنے مواعظ حسنہ سے مستفیض فرماتے تھے،مورخہ ۲۱؍جنوری ۲۰۱۰ء بروز پنجشنبہ جامعہ کی جدید
عمارت کے افتتاحی اجلاس میں آپ کوخصوصی دعوت دی گئی اور اس عظیم تاریخی اجلاس میں آپ کو ’’فخر جامعہ ‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا،یقینا آپ رحمہ اللہ جامعہ کی پہچان تھے،اپنی علمی خدمات سے ہرچہار جانب جامعہ کی بہترین نمائندگی فرماتے تھے،اللہ تعالیٰ جامعہ اور جماعت کو آپ کا نعم البدل عطافرمائے،آمین۔
خلاصہ کلام:
بلاشبہہ آپ رحمہ اللہ جماعت کے ایک ممتاز عالم دین،عظیم داعی،باکمال ادیب وسلفی شاعر،فعال ومتحرک قائد ومنتظم،بے مثال معلم ومربی،بے لوث خادم اور مشفق رہنما وسرپرست تھے،آپ کی اچانک رحلت جماعت وجمعیت کے لئے عظیم علمی خسارہ ہے،علم وادب کا روشن آفتاب وماہتاب غروب ہوگیا:
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی (کیفی اعظمی)
رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ،اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ،وأدخلہ الفردوس الأعلیٰ،وأعذہ من عذاب القبر وعذاب النار یاعزیز یا غفار،یا أرحم الراحمین۔
اللہ تعالیٰ آپ کی ہمہ جہت دینی خدمات کو قبول فرمائے،بشری لغزشوں وکوتاہیوں کو معاف فرمائے،جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے،آمین۔
 
Top