ذیشان خان

Administrator
علماء سے بےنیازی باعث گمراہی ہے

✍ حافظ عبدالرشید عمری

اللہ تعالٰی نے انسانوں اور جنوں کو صرف اپنی ہی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے،
لیکن اللہ تعالٰی کی عبادت کی معرفت حاصل کرنے میں ہر انسان آزاد نہیں ہے،
بلکہ پہلے نبی آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم تک ہر دور میں انبیاء و رسل علیہم السلام کا مبارک سلسلہ اللہ تعالٰی نے جاری فرمایا ہے،
اور ساری دنیا کے لوگوں کے آخری نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اللہ تعالٰی نے نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کردیا ہے۔
اب تاقیامت سارے لوگوں کی ہدایت کے لئے قرآن و سنت دو ہی چیزیں ہیں۔
اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن وسنت کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کی عظیم الشان ذمہ داری علماء کرام پر عائد فرمائی ہے،
اس لئے ساری دنیا کے لوگ قرآن و سنت کے علم و فہم میں آزاد نہیں ہیں،
بلکہ قرآن و سنت کے علم و فہم میں سارے لوگ علماء کرام کے محتاج ہیں،
اور علماء کرام بھی اپنی عقل اور اپنے فہم سے قرآن و سنت کا علم و فہم لوگوں کو نہیں سکھائیں گے،
بلکہ سارے ہی علماء کرام قرآن و سنت کے علم و فہم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے علم و فہم کے محتاج ہیں،
اور یہ ایک ناقابل انکار اٹل حقیقت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین قرآن و سنت کا علم و فہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سیکھا،
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے قرآن و سنت کا سیکھا ہوا علم و فہم تابعین کو سکھایا،
اور صحابہ کرام کے آخری عہد میں بعض گمراہ فرقوں کا وجود کا سبب یہی تھا کہ ان گمراہ فرقوں نے قرآن و سنت کے علم و فہم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے علم و فہم کو پیش نظر نہیں رکھا،
اور قرآن وسنت کے علم کو اپنی عقل اور اپنے فہم سے حاصل کرنے کی کوشش کی اور وہ گمراہ ہو گئے،
اس لئے قرآن و سنت کے علم و فہم میں اسی وقت سے ایک خط امتیاز قائم کرتے ہوئے علماء اہل سنت سے
قرآن و سنت کا علم و فہم حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے ،
اور علماء اہل بدعت سے حصول علم کے سنگین نتائج اور نقصانات کو اسلاف کرام نے خوب تفصیل سے اجاگر کیا ہے۔
آج بھی اہل سنت و جماعت کے حاملین کو اور عام مسلمانوں کو یہ بات بتانے کی ضرورت ہے کہ گمراہ فرقوں کی کتابوں اور گمراہ فرقوں کے علماء سے علم حاصل کرنے والے مسلمانوں کا دین و ایمان ہمیشہ خطرہ میں ہے،
اور آخرت میں ان کے نیک اعمال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔
اور مسلمانوں کو یہ بات بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ علماء اہل سنت کی مجلسوں میں شریک ہو کر براہ راست ان کے دروس اور خطابات سن
کر تادم حیات دین اسلام کا بنیادی اور ضروری علم حاصل کرتے رہیں،
اور ان علماء اہل سنت کی موعظت و نصیحت کی مجلسوں میں شرکت کرتے رہیں تاکہ جذبہء عمل بیدار رہے اور آخرت کا شعور زندہ رہے،
آجکل کے دور میں بہت سے لوگ علماء کرام کے علمی دروس و خطابات اور موعظت و نصیحت کی مجلسوں سے بےنیاز ہو کر غیر معروف عالم اور غیر عالم اور جاہل لوگوں کے انٹرنیٹ اور شوشل میڈیا میں پھیلے بےتکے اور الٹے سیدھے خطابات اور بیانات سن کر دین اسلام کی صحیح اور ناقابل شک تعلیمات کے تئیں اپنے اندر کئی قسم کے شکوک و شبہات پیدا کر لیتے ہیں،
اور اس قسم کے شکوک و شبہات کے پیدا ہونے کے کئی اسباب اور وجوہات میں سے ایک اہم سبب علماء اہل سنت سے بےنیازی اور ان سے دوری ہے،
یا صرف کتابوں سے حصول علم اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں غیر علماء اور جہلاء کی گمراہ کن باتوں کا سننا اور پڑھنا ہے۔
مسلمانوں کو قرآن و سنت کا صحیح علم و فہم علماء اہل سنت سےحاصل کرنا ہوگا۔
اور ہندوستان میں سوؤں مساجد میں غیر عالم امام بھی خطابت اور درس کی ذمہ داری سنبھال کرلوگوں کے لئے گمراہی کا سبب بن رہے ہیں،
اس لئے غیر عالم کو خطبہء جمعہ اور دروس وغیرہ کی ذمہ داری نہیں دینی چاہئے۔
بہرحال مسلمانوں کا علماء کرام سے بےنیاز ہونا دین و ایمان کی حیثت سے اور آخرت کے لحاظ سے ان کے حق میں گھاٹے کا سودا ہے۔
 
Top