ذیشان خان

Administrator
اتحاد کا نعرہ، مرکز اتحاد کے بغیر صرف دعوی ہے

✍حافظ عبدالرشید عمری

ہندوستان کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا المیہ یہ ہے کہ وہ اتحاد کی بات کرتے ہیں،
لیکن مرکز اتحاد کو اجاگر نہیں کرتے ہیں،
گویا مختلف مکاتب فکر کے اکثر علماء یہ کہنا چاہتے ہیں،
کہ سارے مسالک کے پاس اعتقادی اور عملی تعلیمات اور احکامات کی شکل میں جو کچھ ہے وہ سب کچھ صحیح ہے،
اس طرح ہر ایک کو اس کی اسی حالت پر چھوڑ دیا جائے، جس حالت میں وہ زندگی گزار رہا ہے،
قرآن و سنت کا صحیح علم و فہم رکھنے والے علماء کا تو یہ خیال نہیں ہو سکتا ہے،
کیوں کہ ہر مسلک کے علماء کے مابین خود کئی چیزوں میں اختلاف پایا جاتا ہے،
یہ تو اہل سنت و جماعت کی طرف منسوب مسالک کی بات ہے ،
ان کے علاوہ کتنے گمراہ فرقے ہیں جن میں شرک و بدعت اور کئی خلاف شریعت افکار و تصورات پائے جاتے ہیں۔
تو پھر مسلمانوں کو اسی حق یا ناحق کی حالت میں چھوڑ دیا جائے تو علماء کرام کا فریضہ کیا باقی رہ جاتا ہے،
درحقیقت ہندوستان میں مسلمانوں کے روبرو قرآن و سنت کی تعلیمات کو کھول کھول کر بیان کرنے کی ضرورت ہے،
اور حق کو اجاگر نہ کرنے اور حق کو چھپانے کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث میں سخت وعید آئی ہے،

اور علماء کرام کو دعوت و تبلیغ اور امر بالمعروف و نہی عن المنكر کی راہ میں اخلاص نیت اور اتباع سنت کی ایمانی صفت سے متصف ہونا ضروری ہے،
اور کسی ملامت کنندہ کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حکمت و بصیرت اور نرمی اور خیرخواہی جیسی اخلاقی صفات کے حامل ہو کر اپنا فرض منصبی جاری رکھنے کی ضرورت ہے،
اور سارے مسلمانوں کو یہ یقین دہانی کرانے کی ضرورت ہے کہ اتحاد کے لئے مرکز اتحاد بھی معلوم ہونا چاہئے،
اور مرکز اتحاد اتباع سبیل المؤمنين
یعنی صحابہ کے راہ کی پیروی ضروری ہے،
یعنی قرآن و سنت کو فہم صحابہ کی روشنی میں سمجھنے کی سخت ضرورت ہے ۔
یہی مرکز اتحاد ہے، اور ایسے ہی اتحاد میں خیر و برکت اور ثبات ہے۔
اس مرکز اتحاد کے بغیر اتحاد کی بات دعوی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
اللہ تعالٰی علماء کرام کو اتحاد کے عوامل اور اسباب کو قرآن و سنت کے نصوص اور فہم سلف کی روشنی میں اجاگر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔
امت مسلمہ کے روبرو قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات کو اجاگر کرنا اور اسلام کا صحیح پیغام پہنچانا علماء کا کام ہے،
اور کوششوں کو ثمر آور بنانا اور کامیاب بنانا اللہ تعالٰی کا کام ہے۔
 
Top