ذیشان خان

Administrator
آج کا سعودی معاشرہ اور دنیا کے دوسرے ممالک سے اس کا مختصر موازنہ

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

ہمارے ایک فاضل دکتور نے اپنی ایک تحریر میں لکھا کہ آج بھی تمام خرابیوں کے باوجود سعودی معاشرے میں خوبیاں اتنی زیادہ ہیں کہ دوسرے ممالک 100 سال بھی دین داری اختیار کرنے میں لگا دیں تو ان کے عشر عشیر تک نہیں پہنچ سکتے۔ جس پر بعض اخوان کی طرف سے اعتراضات ہوئے۔ اور بعض نے تو اسے حقیقت سے کوسوں دور صرف بھکتی کا مظہر قرار دیا۔

تقاضا تو اس بات کا تھا کہ تفصیل سے موازنہ پیش کیا جاتا، لیکن ما لا يدرك كله لا يترك جله پر عمل کرتے ہوئے چند باتیں پیش کر رہا ہوں۔

جب بات دینداری کی ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے ہی اس کا موازنہ بھی کیا جائےگا۔ موازنہ کرنے کے یوں تو بے شمار پوائنٹس ہو سکتے ہیں لیکن موٹی موٹی صرف ان پانچ چیزوں کا تذکرہ کرتا ہوں جو شرعی اصطلاح میں ”حفظ الضروريات الخمس في الإسلام“ کے نام سے معروف ہیں۔ وہ ہیں:
1- حفظ الدين
2 - حفظ النفس
3 - حفظ النسل
4 - حفظ العقل
5 - حفظ المال

شریعت کی نگاہ میں یہ وہ بنیادی پانچ چیزیں ہیں جن پر کسی بھی معاشرے کی اصلاح کا دار ومدار ہے۔

اب آپ ایک ایک چیز پر نظر دوڑائیں۔

1 - حفظ الدين
دین کی حفاظت میں بالاتفاق شرک وبدعات سے ایمان وعقیدہ کی حفاظت سب پر مقدم ہے۔ آپ ہی انصاف کے ساتھ بتائیں کہ شرک وبدعات سے جس قدر آج کا سعودی معاشرہ پاک ہے کوئی ملک آج سے کوشش شروع کرے تو یہاں تک پہنچنے میں اسے کتنا وقت لگ سکتا ہے۔
اللہ کے فضل سے یہاں کوئی ایک بھی ایسا اڈا نہیں جسے شرک وبدعت کا اڈا کہا جا سکے۔

کسی بھی دوسرے ملک کو اگر اس باب میں اس لیول تک پہنچنا ہو تو کتنا وقت لگ سکتا ہے خود ہی فیصلہ کر لیں۔

2 - حفظ النفس
آپ خود اندازہ لگائیں کہ آج بھی سال بھر میں یہاں کتنے قتل کے کیس واقع ہوتے ہیں، اور دوسرے ممالک میں کتنے۔ نفس کو جو امن وامان یہاں حاصل ہے یہاں تک کسی دوسرے ملک کو پہنچنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔

3 - حفظ النسل
آپ خود اندازہ لگائیں کہ آج بھی تمام برائیوں کے باوجود سال بھر میں یہاں کتنے زنا کے واقعات رونما ہوتے ہیں، اور دوسرے ممالک میں کتنے۔
جو خفیہ طور پر ہوتے ہیں اور کسی سروے میں نہیں آتے انھیں تو چھوڑ ہی دیں، جو رکارڈ ہوتے ہیں اور جن کی شہادت خود وہ ممالک دیتے ہیں صرف انھیں کا موازنہ کر لیں۔
پھر بتائیں کہ سعودیہ کے لیول تک کسی ملک کو پہنچنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔

4 - حفظ العقل
شراب کو ام الخبائث کہا گیا ہے جس میں پوری دنیا غرق ہے۔ اللہ کے فضل سے آج بھی سعودی معاشرہ شراب خوری سے جس قدر دور ہے وہ دوسرے ممالک کے لئے ایک نظیر ہے۔ یہاں تک پہنچنے میں انھیں کتنا وقت لگ سکتا ہے آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔

5 - حفظ المال
یہاں کی عدالتوں میں حدود نافذ ہونے کی وجہ سے الحمد للہ مال کی حفاظت میں جو مقام سعودیہ کو حاصل ہے اور ایک عام شہری بھی بغیر کسی اسلحے کے رات کے اندھیرے میں اکیلے دور دراز کے علاقوں تک بلا خوف وخطر سفر کرتا ہے اکثر ممالک میں یہ تصور تک نہیں جا سکتا۔ بر صغیر میں تو بالکل بھی نہیں۔ ہاں یوروپی ممالک میں قدرے غنیمت ہے۔

چند مہینہ پہلے مجھے طائف جانا تھا۔ عشاء کے وقت مدینہ سے نکلا، 600 کیلو میٹر تک اکیلے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے بعد فجر تک سفر کرتا رہا۔ کبھی بھی ذرہ برابر دل میں یہ خیال تک نہیں آیا کہ کوئی راستے میں مجھے جان ومال کا نقصان پہنچا سکتا ہے، لہذا سنسان رات میں اکیلے مجھے اتنا لمبا سفر نہیں کرنا چاہئے۔

ایک عام شخص کے دل میں یہ اطمینان بیٹھانے کے لئے کسی ملک کو کتنا وقت لگ سکتا ہے خود فیصلہ کر لیں۔
 
Top