ذیشان خان

Administrator
ہمارے منہج پر اعتراض تو اکابر علماے اہل حدیث کے منہج پر کیوں نہیں؟

✍ فاروق عبداللہ نراین پوری

آج جب ”منہج سلف“ کی بات کی جاتی ہے تو بعض حضرات بڑی خوبصورتی سے یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے بر صغیر کے اکابر علماے اہل حدیث کے یہاں بھی تصوف اور اسما وصفات وغیرہ کے ابواب میں خلل موجود ہے، تو ان کے منہج پر بھی اعتراض کریں۔
سب سے پہلے تو ایسے حضرات سے یہ کہنا چاہوں گا کہ پہلے آپ یہ فیصلہ کریں کہ اسما وصفات اور دیگر ابواب میں حق کیا ہے اور باطل کیا۔ حق وباطل کی صحیح تمیز کے بعد ہی آپ کے لیے اس پر عمل کرنا ممکن ہوگا، ورنہ آپ کبھی اس ڈال پر ہوں گے، اور کبھی اس ڈال پر۔

اللہ تعالی نے صرف انبیا کو معصوم بنایا ہے، باقی ہر ایک سے غلطی کا صدور ممکن ہے۔ جب آپ کے پاس مسئلہ کی صحیح معرفت ہوگی تو کسی بھی شخصیت کو پڑھتے ہوئے ان سے سرزد ہوئی غلطی میں ان کی اتباع کرنے سے محفوظ رہیں گے۔
اس مقدمہ کو سمجھنے کے بعد اب بر صغیر کے اکابر اہل حدیث کی طرف آئیں۔ آپ پہلے یہ فیصلہ کریں کہ جن مسائل میں آپ اکابرین کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں خود آپ کے نزدیک ان کا موقف ان مسائل میں صحیح ہے یا غلط؟

اگر آپ بھی مانتے ہیں کہ ان کا موقف صحیح نہیں تھا تو کیا یہ انصاف ہے کہ ان مسائل میں بھی ان کا دفاع کیا جائے؟ یا ان کو اپنی ڈھال بنائی جائے؟
کیا اسی زمانے میں جب بعض سے ایسی غلطیاں سرزد ہوئیں تو دیگر اکابرین نے ان پر اعتراض نہیں کیا؟
اب یہ سوال کہ ”اگر آج ان مسائل کی وجہ سے کسی کی سلفیت اور منہج پر کلام کیا جاتا ہے تو ان اکابرین کی سلفیت پر کوئی کلام کیوں نہیں کرتا؟“
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل حق ہر زمانے میں اہل باطل سے ممتاز رہے ہیں، ہر زمانے میں ماحول کے حساب سے بعض خاص مسائل معروف رہے ہیں جن کے ذریعہ اہل حق اور اہل باطل کے مابین تفریق کیا جاتا رہا ہے۔
اسی وجہ سے بعض ایسے مسائل بھی ہمیں کتب عقائد میں نظر آتے ہیں جو خالص فقہی ہیں، عقدی نہیں۔ لیکن چونکہ ان کے زمانے میں اہل حق وباطل کے مابین تمیز کے لیے وہ مسئلہ ایک علامت بن چکا تھا اس لیے اس دور کے علما نے عقدی مسائل کے ساتھ اس کا بھی تذکرہ کتب عقائد میں کیا۔ مثلا ”مسح علی الخفین کا مسئلہ“ اہل سنت اور روافض کے مابین امتیاز کی حیثیت رکھتا تھا، اور موزے پر مسح کے مسئلہ کو وہ کتب عقائد میں ذکر کرتے تھے۔ حالانکہ یہ ایک فقہی مسئلہ تھا۔
اسی طرح آج کے بر صغیر کے ماحول میں مقلدین اور سلفیوں کے مابین تمیز کے لیے رفع یدین، سینے پر ہاتھ باندھنا اور آمین بالجہر جیسے خالص فقہی مسائل امتیازی مسائل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی رفع یدین نہیں کرتا، ناف کے نیچے ہاتھ باندھتا ہے تو یہ ایک علامت ہے کہ اس کے منہج میں بگاڑ ہے۔ آپ جب گہرائی سے اس شخص کی تحقیق کریں گے تو پائیں گے کہ اس میں اور بھی بے شمار منہجی انحرافات موجود ہیں، الا ما شاء اللہ۔
جہاں تک بارہویں وتیرہوں صدی ہجری کے ہندوستان کی بات ہے تو اس وقت کے اکابر علمائے اہل حدیث کی خدمات ”احیاءِ سنت اور ترک تقلید“ کے لیے معروف ہیں نہ کہ اسما وصفات وغیرہ ابواب میں منہج سلف کی تنقیح اور ترویج و اشاعت کے لیے۔
ولی اللہی خاندان نے جس طور سے خطے میں شرک و بدعت پر کام کیا جماعت اہل حدیث ان کا احسان مند ہے، اور اس سے جو بھی نتائج برآمد ہوئے وہ یقینا لائق تحسین ہیں، لیکن ان کے یہاں عقیدے اور منہج (خصوصا اسما وصفات کے باب میں) کی مکمل تنقیح نہیں ملتی، بلکہ بہت ساری تصنیفات میں ماتریدی اور متصوفانہ افکار کی نمائندگی ملتی ہے۔
لہذا اہل علم نے ان کی خدمات کے اعتراف کے باوجود ان کے مذکورہ موقف پر تنقید کی ہے، اور ثابت کیا ہے کہ یہ فکر کتاب وسنت سے متصادم ہے۔
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ سے استواء علی العرش کے مسئلہ میں چوک ہونے پر انھی کے معاصر مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے مستقل کتاب تصنیف کی۔ اس طرح اس دور کے علما نے بھی اپنا کردار نبھایا۔
اگر دو صدی پہلے تقلیدی انحراف سے مقابلہ کے لیے سلفی وغیر سلفی کے مابین تقلید کا مسئلہ امتیازی حیثیت رکھتا تھا تو آج کے ماحول میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ اخوانی فکر سے سلفیت کا مقابلہ ہے۔ آج کے زمانے میں سلفی علما اس فکر اور اس کے حاملین سے امت کو آگاہ کر رہے ہیں۔
لہذا آج کے ماحول میں عالم اسلام میں اخوانی فرقے کے فتنہ وفساد کے ظہور کے بعد کوئی ان کے باطل افکار کی نشر واشاعت کرنا چاہے اور ان کے منہج پر اعتراض ہونے پر بارہویں وتیرہوں صدی ہجری کے اکابر اہل حدیث پر اپنا قیاس کرے اور ان کے دامن میں اپنا جرم چھپانا چاہے تو انھیں نہ اس کی اجازت مل سکتی ہے، اور نہ کامیابی۔
 
Top