ذیشان خان

Administrator
کیا آپ علامہ ثَبَجِی کو جانتے ہیں؟

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

اس سے مراد علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ ہیں۔

انھیں مؤلفین مختلف ناموں سے ذکر کرتے ہیں جس سے بسا اوقات بعض طلبہ کو انھیں پہچاننے میں دشواری ہو جاتی ہے۔

بعض مولفین ان کے لئے "ابو الفتح القشیری" استعمال کرتے ہیں، جب کہ بعض صرف "ابو الفتح" پر اکتفا کرتے ہیں۔
ایک بار کلیہ الحدیث کے ایک استاد نے میرا امتحان لیا تھا کہ ابو الفتح کون ہیں؟
تو اس سے مراد علامہ ابن دقیق العید ہیں۔

اور بعض انہیں "ثَبَجِي" سے یاد کرتے ہیں، جیسے کہ علامہ عراقی نے اپنے "الفیہ" میں انھیں ایک شعر میں اسی نسبت سے ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

يعرف بالركة قلت استشكلا
الثبجي القطع بالوضع على

خود ابن دقیق العید نے اپنے لئے یہ نسبت اپنے ہاتھوں سے بعض جگہوں پر لکھا ہے۔

ثبج کہتے ہیں ساحل سمندر کو، ایک حدیث میں یہ لفظ وارد ہے: (يركبون ثبج هذا البحر)، اس حدیث کو علامہ عراقی نے شرح الالفیہ میں صحیح کہا ہے۔ چونکہ علامہ ابن دقیق العید یبنع میں سمندر (لال ساگر) کے ساحل میں پیدا ہوئے تھے اس لئے انہیں ثبجی بھی کہا جاتا ہے۔
 
Top