ذیشان خان

Administrator
عربی املا میں صادر ہونے والے بعض مشہور تسامحات

✍ فاروق عبداللہ نراین پوری

بر صغیر کے اکثر طلبہ بلکہ بعض کبار مشایخ بھی عربی املا میں بعض امور کی طرف دھیان نہیں دیتے، مثلا:
(۱)ہمزہ وصل اور ہمزہ قطع کے درمیان فرق نہ کرنا۔
(۲)حالت نصب میں تنوین کو الف کے اوپر لکھنا۔ مثلًا ”زيدًا“ لکھنا ہو تو تنوین دال کے اوپر نہ لکھ کر الف کے اوپر لکھتے ہیں۔ اسے بعض مشایخ غلط کہتے ہیں جب کہ بعض تجوزًا جائز کہتے ہیں۔ بہر حال یہ خلاف اولی ضرور ہے۔
واضح رہے کہ قاعدے کی رو سے عربی میں الف کوئی حرکت قبول نہیں کرتا اور اس کا ماقبل ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے جیسے ”قال“ میں قاف اور لام کے درمیان واقع حرف۔
(۳)کلمہ کے آخر میں یا اور الف مقصورہ کے لکھنے میں فرق نہ کرنا۔مثلا:عَلِي اور عَلَى کے املا میں فرق نہ کرنا۔
الف مقصورہ ہو تو اس یا کے نیچے دو نقطے نہیں ہوتے، جیسے موسی، عیسی، علَی، وغیرہ۔ اسے یا کی شکل میں لکھتے ہیں لیکن الف پڑھتے ہیں۔
اور یا ہو تو اس کے نیچے دو نقطے ہوتے ہیں، مثلا:عَلِي، فِي، لِي، أبِي، وغیرہ۔
بعض لوگ یہ فرق نہیں کرتے اس لےے پتہ نہیں چلتا کہ عَلِي لکھا ہے یا عَلَى، أَبِي لکھا ہے یا أَبَى۔
ان میں سے ہمزہ وصل اور ہمزہ قطع کے درمیان فرق نہ کرنا کچھ زیادہ ہی کَھلتا ہے۔
ہمزہ وصل اور قطع یہ دونوں کلمے کے شروع میں واقع ہوتے ہیں، لیکن لکھنے اور پڑھنے دونوں اعتبار سے ان میں فرق ہوتا ہے۔
ہمزہ وصل الف کی شکل میں لکھا جاتا ہے اور اس کے اوپر یا نیچے چھوٹا ہمزہ نہیں رکھا جاتا، جب کہ ہمزہ قطع لکھتے وقت الف کے اوپر یا نیچے چھوٹا ہمزہ لکھا جاتا ہے۔
اور پڑھتے وقت ہمزہ قطع ہمیشہ متحرک ہوتا ہے، اس پر کوئی نہ کوئی حرکت ضرور ہوتی ہے اور تلفظ میں کبھی بھی ساقط نہیں ہوتا۔ جب کہ ہمزہ وصل اگر کلام کے شروع میں واقع ہے تو اسے پٖڑھا جائےگا، لیکن درمیان کلام واقع ہو تو تلفظ میں ساقط ہو جائےگا۔ مثلا اللہ تعالی کا ارشاد ہے:بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمانِ [الْحُجُرَاتِ:۱۱]
یہاں پر ’اسم‘ اور ’ایمان‘ میں ہمزہ موجود ہے۔ ’اسم‘ کا ہمزہ ہمزۂِ وصلی ہے، جب کہ ’ایمان‘ کا ہمزہ ہمزۂِ قطعی۔ کلمہ ’اسم‘ درمیان میں واقع ہے، اس سے پہلے الف لام ہے، اس لےم اسے پڑھتے وقت لام کے فورا بعد سین پڑھا جائےگا، ہمزہ نطق میں نہیں آئےگا۔ گویا کہ پڑھتے وقت وہ ’لِسْمُ‘ ہو جائےگا۔ لیکن لکھتے وقت وہ ہمزہ موجود رہےگا۔
اس کا صحیح تلفظ جاننے اور سننے کے لےئ آپ شیخ حذیفی یا دوسرے معروف قرا کی زبانی اسے سن سکتے ہیں۔
قدیم مخطوطات میں ان چیزوں کے مابین فرق نہیں کیا جاتا تھا لیکن دور حاضر میں عرب علما کے نزدیک یہ فروق معروف ومتداول ہیں، ان کی رعایت نہ کرنے کو وہ معیوب سمجھتے ہیں۔ اور علمی رسائل ومسابقاتی بحوث میں انھیں املائی غلطی شمار کرتے ہیں۔ لہذا عربی لکھنے والوں کو ان چیزوں کا خیال کرنا چاہےں۔
کہاں ہمزہ وصلی ہوگا اور کہاں ہمزہ قطعی اسے جاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دیکھا جائے وہ کلمہ اسم ہے یا فعل یا حرف۔
اگر اسم ہے تو اس کا ہمزہ ہمزۂِ قطعی ہوگا سوائے دس اسما کے
،وہ دس اسما درج ذیل ہیں:
اسم، ابن، ابنة، اثنان، اثنتان، امرؤ، امرأة، ابنم، ايم، است
(نوٹ:کلمہ اثنان حالت نصب وجر میں اثنین ہو جائےگا، الاثنين سے مراد اگر عدد (دو کی گنتی)ہے تو اسے ہمزہ وصل کے ساتھ لکھا جائےگا، لیکن اگر اس سے مراد ’سوموار‘ہے تو اسے ہمزہ قطع کے ساتھ ’الإثنين‘لکھا جائےگا)
ان دس اسما میں ہمزہ وصلی ہے، ان کے علاوہ باقی اسما میں ہمزہ قطعی ہوگا۔
جہاں تک معرف باللام کا مسئلہ ہے تو لام سے پہلے جو ہمزہ ہے وہ ہمزہ وصلی ہے، قطعی نہیں۔
اگر اس معرف باللام کے بعد ہمزہ وصلی آئے تو اجتماع ساکنین سے بچنے کے لے، لام کو کسرہ دیا جائےگا، جیسے کہ اوپر ’بئسَ الِاسْم‘میں گزرا۔ اسی طرح دوسرے کلمات ہیں مثلا:الِاسْتقبال، الِاجْتماع، الِاتِّحاد، الِابْن، وغیرہ۔
اور اگر وہ کلمہ فعل ہے تو اس کا اصل یہ ہے کہ اس میں ہمزہ وصلی ہوگا سوائے چند جگہوں کے:
۱۔فعل ثلاثی کا ماضی اور مصدر، جیسے أَخَذَ، أَخْذٌ
۲۔مضارع کا صیغہ واحد متکلم، جیسے أَضْرِبُ، أَسْتَقْبِلُ
۳۔باب افعال کا ماضی، امر اور مصدر جیسے أَخْرَجَ، أَخْرِجْ، إخْرَاجٌ
ان جگہوں میں ہمزہ قطعی ہوگا، باقی جگہوں میں وصلی ہوگا۔
اور اگر وہ کلمہ حرف ہے تو اس کا ہمزہ قطعی ہوگا۔جیسے: إلَى، إنَّ، أنَّ وغیرہ۔
ان تمام قواعد کی رعایت عربی عبارت لکھتے وقت کی جائےگی۔ اگر کوئی عربی لفظ اردو تحریر میں استعمال ہو تو اس وقت الف کے اوپر چھوٹا ہمزہ لکھنا مناسب نہیں۔ مثلا کوئی اس طرح لکھے:’إمام أحمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں‘، یعنی لفظ امام کے نیچے اور لفظ احمد کے اوپر چھوٹا ہمزہ لکھے تو یہ مناسب نہیں۔ بلکہ اردو میں بغیر کسی ہمزہ کے اسے فقط الف کی شکل میں لکھا جائےگا۔ واللہ اعلم
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ان قواعد کی رعایت کرنے اور عربی زبان کو صحیح صحیح لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
 
Top