ذیشان خان

Administrator
حج کے بعض اہم مسائل

مقبول احمد سلفی
مرکزالدعوۃ والارشاد ، طائف
(1) سعودی عرب میں بلاتصریح حج کرنا قانونا جرم ہے ، اور دوسالوں سے اس قانون میں بڑی سختی آئی ہے ۔ گذشتہ سال کی بنسبت امسال کچھ زیادہ ہی سختیاں ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم تمام لوگوں سے مجھے یہ کہنا ہے کہ بلاتصریح حج کرکے خود کو مصیبت میں نہ ڈالیں۔
(2) اکثر لوگ کپڑے کو احرام سمجھتے ہیں حالانکہ میقات پہ حج یا عمرہ کی نیت کرنے کا احرام کہا جاتا ہے ، آپ دیکھتے ہیں کہ عورتیں اپنے عام لباس میں ہوتی ہیں صرف وہ نیت کرتی ہیں لبیک عمرۃ یا لبیک حجا۔
(3) اگر کوئی آدمی میقات سے گذرے اور وہاں پہ حج کی نیت کرلے مگر احرام کا لباس نہ لگائے ، میقات تجاوز کرکے آگے کسی جگہ سے یا مکہ سے احرام لگائےتو اس پرتین میں سے کوئی ایک کرنا ہے یاتوتین روزہ رکھ لے یا ایک جانور ذبح کرے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلادے کیونکہ اس نے حالت احرام میں سلا ہوا کپڑا استعمال کیا۔اور اگر میقات پہ احرام کی نیت نہ کی ، آگے جاکر احرام کا لباس لگایا اور حج کی نیت کی (خواہ مسجد عائشہ سے نیت کی ہو) اس کے اوپر جانور ذبح کرنا ہے ۔
(4) آج کل بہت سارے ملکوں سے لوگ آسانی کی غرض سے جدہ ایرپورٹ پہ اترتے ہیں اور وہیں سے احرام باندھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دو میں سے ایک کام کرنا ہے ، چاہے کسی میقات پہ جاکے وہاں سے احرام باندھے یا پھر میقات پہ احرام نہ باندھنے کی وجہ سے دم دے ۔
(5) افضل ہے کہ 8/ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے اور منی جائے (تمتع کرنے والا سہولت کی غرض سے 8/ذی الحجہ سے پہلے عمرہ کرکے حلال ہوجائے )، اگرکوئی مجبوری ہواور 9/ذی الحجہ کو احرام باندھنے کے لئے فرصت ملے تو وہ حج افراد یا حج قران آسانی سے کرسکتا ہے ۔وہ بایں طور کہ افراد یا قران کی نیت کرکے براہ راست میدان عرفات چلا جائے اور وہاں سے ویسے ہی حج کرے جیسےقارن یا مفرد کرتا ہے ۔ چاہے تو کچھ پریشانی اٹھاکر 9/ذی الحجہ کو تمتع بھی کرسکتا ہے۔ اس کے لئے پہلے مکہ جاکر عمرہ کرے پھر سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے میدان عرفات پہنچ جائے ورنہ حج نہیں ہوگا۔
(6) بچے کا بھی حج صحیح ہے مگر فریضہ ساقط نہیں ہوگا۔ بلوغت کے بعد حج کا فریضہ ادا کرنا ہوگا۔
(7) عورت پر اس وقت حج فرض ہوگا جب جسمانی اور مالی طاقت کے علاوہ اس کے ساتھ کوئی حج پہ آنے والا محرم ہو(مثلاباپ، بھائی ، بیٹا، چچا، شوہر، داماد وغیرہ)۔ بغیر محرم کے اگر کسی خاتون نے حج کرلیا تو حج صحیح ہے مگر گنہگار ہوگی۔ جس عورت کا محرم نہ ہو اس کے حق میں جائز ہے کہ وہ اپنے مال سے کسی کو نائب بناکر حج ادا کرلے۔
(8) حیض یا نفاس کا آنا حج کرنے سے مانع نہیں ہے ۔ اگر کسی خاتون کو میقات پہ یا دوران سفر حیض آجائے تو اسی حالت میں میقات پہ غسل کرکےحج کی نیت کرلے ۔
ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :
جب حائضہ اورنفاس والی عورت میقات پرپہنچے تووہ غسل کرکے احرام باندھیں اوربیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی سارے مناسک پورے کریں ۔ سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1744 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ابوداود میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
(9) مالی اعتبار سے مستطیع مگر جسمانی اعتبار سے معذور مرد یا عورت کی طرف سے حج بدل کرنا شرعا درست ہے ، حج بدل کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنا حج کرچکا ہو، اس کی دلیل شبرمہ والی حدیث ہے ۔
(10) اگر کوئی نیکی کرنے والے حصول نیکی کی غرض سے کسی دوسرے شخص کو فری میں حج کراتا ہے تو یہ حج بھی صحیح ہے ۔ عنداللہ دونوں ماجور ہونگے۔
(11) میت کی طرف سے حج کرنے کے متعلق علماء کے مابین دواقوال ہیں۔ ابن القیم رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اگر میت نے حج کی وصیت کی ہو تو اس کی طرف سے حج کیا جائے گا ، اگر وصیت نہ کی ہو ،سستی میں حج چھوڑا ہو تو تعزیرا اس کی طرف سے حج نہیں کیا جائے گا۔ راحج قول جمہور کا ہے ، ان کے نزدیک ہے کہ میت کی طرف سے حج کیا جائے گا چاہے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔
(12) حج کی استطاعت ہوجانے کے بعد بغیر کسی تاخیر کے فورا حج کرنا چاہئے ، مگر لوگوں میں بڑھاپے میں حج کرنے کا خیال عام ہے ۔ یہ ایک بڑی غلطی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ موت آجاتی ہے لیکن بہت سارے لوگ مناسک حج کی ادائیگی سے محروم رہ جاتے ہیں یا جو بڑھاپے میں حج کرتے ہیں انہیں بہت سارا جوکھم اٹھانا پڑتا ہے۔
(13) جس کے اوپر قرض ہو اور وہ آسانی سے قرض ادا کرسکتا ہو،یا قرض دینے والا اسے مزید کچھ مہلت دے رہاہوتو وہ حج کرسکتا ہے ، اس کا حج درست ہے ۔ اگر اس کا قرض بارگراں ہو، اس کی ادئیگی مشکل ہویا قرض دینے والا مہلت نہ دے کر قرض کا مطالبہ کرتا ہو، ایسی صورت میں حج کرنا صحیح نہ ہوگا۔ مگر پھر بھی کسی نے ایسی صورت حال میں حج کرلیا تو اس کا حج تو ہوجائے گا مگر وہ گنہگار ہوگا۔
(14) اگر کوئی اندھا جسمانی و مالی اعتبار سے حج کی طاقت رکھتا ہو(اور کسی کو ساتھ رکھنے کی اجرت رکھتا ہو) تو اس پر بھی حج فرض ہے ، لہذا اسے بھی خود سےاپناحج کرنا چاہئے ، ساتھ میں ہمسفر لے لینا چاہئے(رمی جمار میں ہمسفر کو وکیل بنالے) ۔اور اگر تعاون کے باوجود ٹھیک سے سفر کرنے اور مناسک کی ادائیگی کرنے کی طاقت نہ ہو تو کسی کو اپنی نیابت سونپ دے۔آپ ﷺ نے نابینا صحابی کو مسجد میں آکر نماز پڑھنے کا حکم دیا تھاجبکہ ان کو کوئی سہارا دینے والا نہیں تھا۔
(15) بہت ساری عورتوں کو معلوم نہیں ہوتا اور وہ حالت احرام میں نقاب یا برقع( آنکھ کے پاس کھلا ہوا کپڑا) پہنے رہتی ہیں جبکہ یہ ممنوعات احرام میں سے ہے ، اور اس کے ارتکاب پہ فدیہ دینا پڑتا ہے ۔ اسی طرح خواتین میں بےپردگی بھی عام ہے جو کہ بڑافتنہ ہے ۔
(16) عورتوں میں یہ خیال عام ہے کہ حج میں چہرہ نہیں ڈھانپنا ہے ، یہ خیال غلط ہے ۔ عورت حج پہ ہوں یا غیرحج پہ ہرجگہ اجنبی مردوں سے پردہ کرے گی اور اگر اجنبی مرد کوئی نہیں تو چہرہ کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(17) مردوں میں بھی ایک غلطی عام ہے، وہ ہے ہمیشہ دایاں کندھا کھلا رکھنا جسے اضطباع کہتے ہیں ۔ یہ صرف اور صرف طواف میں ہے جبکہ لوگوں کو عام طور سے اس حالت میں دیکھا جاتا ہے ۔ منی میں ، مزدلفہ میں ، سعی میں یہاں تک کہ بعض لوگ میقات پہ احرام باندھتے وقت ہی یہ طریقہ اختیار کرلیتے ہیں ۔
(18) بہت سے لوگ قربانی کے ڈر سے حج قران یا تمتع نہیں کرتے یا دم کے طور پہ جانور ذبح کرنا ہو تو غفلت برت جاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے عرض کرنا ہے کہ آپ حج تمتع کریں جو سب سے افضل ہے اور اگر ہدی (قربانی) کی طاقت نہ ہو تو قربانی کی جگہ دس روزہ رکھ لیں (تین ایام حج میں اور سات حج سے لوٹنے کے بعد) ۔ اسی طرح کسی کو واجب چھوڑنے پہ دم (جانورذبح کرنا) دینا پڑ جائے اور وہ قربانی کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ بھی اس کے بدلے دس روزہ رکھ لے ۔
نوٹ : ان میں سے بعض مسائل میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ، اس لئے آداب ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دلائل کی روشنی میں بحث کی جاسکتی ہے ۔ گذرشتہ تمام امور پہ قصم (سعودی عرب) کے شیخ عبدالعزیز المھنا سے میری بحث ہوئی ہے موصوف وزارہ کے حالیہ داعی اور جالیات وسط بریدہ القصیم کےمدیر عام رہ چکے ہیں ۔
 
Top