ذیشان خان

Administrator
مِائَةٌ يا مِئَةٌ؟

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

اس لفظ کو ہر کوئی پڑھتے وقت ”مِئَةٌ“ ہی پڑھتا ہے، لیکن لکھتے وقت ہم دیکھتے ہیں کہ میم کے بعد الف بڑھا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہاں الف کا کوئی محل نہیں۔ اصول کے مطابق الف سے پہلے ہمیشہ فتحہ (زبر) ہوگا، فتحہ کے علاوہ کسی دوسری حرکت کا ہونا ممکن ہی نہیں۔

اب سوال ہے کہ یہاں پھر میم پر کسرہ (زیر) ہونے کے باوجود اس کے بعد الف کیوں لکھا جاتا ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم مخطوطات میں عموما نقطے اور حرکات نہیں ہوتے تھے۔ اس لئے کسی خاص مقصد یا خوف سے بعض کلمات کسی دوسری طرح لکھے جاتے تھے۔ مثلا: لفظ "مئۃ" کو مخطوطات میں میم کے بعد الف کے اضافے کے ساتھ اس طرح "مائة" لکھا جاتا تھا تاکہ وہ 'فِئَة"، "مِنْهُ"، یا "فِيهِ"، یا اس سے قریب تر کسی دوسرے کلمہ سے نہ بدل جائے۔

لیکن اب الحمد للہ کمپیوٹر کا زمانہ آنے کے بعد یہ خوف زائل ہوچکا ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ اسے اصل رسم (حذف الف) کے ساتھ لکھا جائے۔

ہمارے ایک استاد شیخ عبد العزیز البعیمی حفظہ اللہ آج کے زمانے میں بھی الف کے اضافے کے ساتھ اسے لکھنے پر بگڑ جاتے ہیں۔ آپ کلاس میں اگر کسی کو دیکھ لیتے کہ الف کے اضافے کے ساتھ اسے لکھا ہے تو کہتے کہ سو ریال یا پانچ سو ریال کا کوئی نیا نوٹ ہو تو دیکھو کہ اس میں یہ لفظ کیسے لکھا ہوا ہے۔ شیخ حفظہ اللہ اس میں کچھ زیادہ ہی سختی برتتے تھے۔ حالانکہ اب بھی بعض علما اسے میم کے بعد الف کے اضافے کے ساتھ لکھنا پسند کرتے ہیں۔
رسم الخط کے معاملے میں ان شاء اللہ وسعت ہے، لیکن بہر حال آج کے دور میں افضل یہی ہے کہ اسے اصل رسم اور جدید املا میں حذف الف کے ساتھ ”مِئَةٌ“ لکھا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
 
Top