ذیشان خان

Administrator
دعاۃ ڈاکٹر بنیں، ایکٹر نہیں

✍️
فاروق عبد اللہ نراین پوری

داعی کو ڈاکٹر کی طرح ہونا چاہئے، اور سامنے والے کو وہ مواد پیش کرنا چاہئے جو اس کی دنیا وآخرت کے لئے مفید ہو، چاہے اس کی رغبت کے خلاف ہی کیوں نا ہو۔
جس طرح ایک ڈاکٹر مریض کا علاج کرتے وقت اس کی رغبت نہیں بلکہ اس کی صحت کی بقا کو مقدم رکھتا ہے اسی طرح داعی کو مدعو کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔
رغبت کے ساتھ رہبت ضروری ہے۔
امر بالمعروف کے ساتھ نہی عن المنکر ضروری ہے۔
اگر اہل باطل واہل بدعت پر رد کی ضرورت ہو تو اس میں بھی ذرہ برابر تردد نہیں کرنا چاہئے کہ اس سے میری شخصیت منفی قسم کی بن جائےگی۔ بعض لوگوں کو اس کی بڑی فکر ہوتی ہے اور اس سے دور دور رہنا دور اندیشی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اپنی شخصیت سے کہیں زیادہ دعوتی ذمہ داری کی ادائیگی ضروری ہے۔ عمومی دعوت کے ساتھ ساتھ اہل بدعت پر رد کرنا دعوت کا ایک اہم باب ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور دوسرے اسلاف نے اپنی پوری زندگی اس میں گزار دی ہے۔
اللہ کے رسول اہل مکہ کے نزدیک بھی بڑے پیارے، امین وصادق تھے، اگر ان کے معبودان باطلہ پر رد نہ کرتے تو آرام کی زندگی گزار رہے ہوتے۔ انھیں مکارم اخلاق وغیرہ کی دعوت وتبلیغ سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔
پریشانی کا اصل سبب یہ تھا: "أجعل الآلهة إلها واحدًا إن هذا لشيء عجاب".
اس لئے دعات سے درخواست ہے ڈاکٹر بنیں، ایکٹر نہیں۔
 
Top