ذیشان خان

Administrator
قرآن کی بعض آیتیں ایسی ہیں جنھیں ایک عام آدمی بھی پڑھ کر ہدایت پا سکتا ہے

✍
فاروق عبد اللہ نراین پوری

قرآن کی بعض آیتیں ایسی ہیں جنھیں ایک عام آدمی بھی پڑھ کر ہدایت پا سکتا ہے، کفر وتوحید اور ہدایت وضلالت کے مابین تفریق کر سکتا ہے، اگر کوئی صدق دل سے پڑھے تو اس کی نصیحت کے لئے کافی ہے۔ ان میں وحدہ لاشریک کی ایسی واضح نشانیاں ہیں کہ غور وفکر کرنے سے کفر وشرک کی تاریکیوں سے نکل کر نور وہدایت کو پا سکتا ہے۔
یہ آیتیں بندوں پر حجت قائم کرنے کے لئے ہیں۔
ایسی ہی آیتوں کے بارے اللہ تعالی نے کہا ہے: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں ان آیتوں کو پڑھتے ہوئے سنا تو ان کی دنیا بدل گئی: {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الخَالِقُونَ، أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ، أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ المُسَيْطِرُونَ}
ان آیتوں کی تلاوت سن کر اپنے دل کی حالت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ (بخاری: 4854)
جب کہ بعض آیتیں ایسی ہیں جن کا معنی ومفہوم سمجھنا ایک عام آدمی کے لئے ممکن نہیں۔ اس کے لئے علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ علما ہی کی ان تک رسائی ہو سکتی ہے۔ جہاں استنباط کی ضرورت ہو وہاں اگر عام آدمی زبردستی کوشش کرےگا تو صرف ٹھوکر کھائےگا۔
ان کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے: وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ
سلف صالحین کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ اس سے مراد علما اور فقہا ہیں، عام آدمی نہیں۔
جہاں استدلال واستنباط کی ضرورت ہو اگر اس کا سمجھنا اتنا ہی آسان ہوتا تو عرب ممالک کا ہر بندہ عالم ہوتا کیونکہ قرآن وحدیث تو ان کی زبان میں ہے۔
جب کہ حالت یہ ہے کہ خود صحابہ کرام بھی بعض آیتوں کے متعلق لا علمی کا اظہار کرتے، اور اللہ کے رسول کی طرف رجوع کرتے حالانکہ قرآن ان کی زبان میں نازل ہوا تھا۔
 
Top