والدین بچوں کے تئیں غفلت کا شکار نہ ہوں
امابعد
بعض والدین حصول رزق کے
چکر میں بچوں سے غافل ہو جاتے ہیں،خصوصاٙٙ اخلاقی تربیت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، حالانکہ موجودہ وسائل (موبائل وغیرہ کے ذریعے بھی اخلاقی تربیت، بچوں پہ نظر آسانی سے کی جا سکتی ہے۔
لیکن اس کے باوجود والدین محنت کے چکر میں اخلاقیات کو ضائع کر دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر بچے اور بچیاں سوشل میڈیا کے رہن سہن ان کے کپڑے، سواریاں، ھدیہ وغیرہ دیکھ کر بڑ کپن اور تکبر میں ویسے ہی بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس سے ہم سب واقف ہیں ۔
لیکن ہم تھوڑا سا ٹھہر کر اپنے بچوں کے بارے میں یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے مقابلے میں یہ کون لوگ ہیں ؟ یہ شہرت پرست ہیں،غیرضروری فخر و مباہات اور تکبر کا شکار ہیں، انہی چیزوں کو دیکھ کر کتنے خاندان ضائع اور برباد ہوگئے، طلاق و خلع کی نوبت آگئی، خاندان میں نفرت نے جنم لیا، اور اس طرح کے بہت سارے مفاسد کا شکار ہوگئے۔

اسی لئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے گنہگار ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے دیکھ بھال کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے۔
کتنے لوگ ہیں، کتنے والدین ہیں جو دین اسلام کی تعلیمات کو چھوڑ دیتے ہیں۔
اور بغیر اسلام کے انسان جانور کی طرح ہے ۔
پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی فتنوں، برائیوں اور بداخلاقیوں کے زمانے کے بارے میں فرمایا :
ایک زمانہ آئے گا جب مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں لے کر چلا جائے گا تاکہ اس طرح اپنے دین و ایمان کو فتنوں سے بچا لے۔

آج ہم سنتے ہیں کہ لڑکیاں نوجوانوں کو متوجہ کرنے کے لئے ڈانس، اور ننگے جسم کی نمائش کرتی ہیں تاکہ پیسہ کمائیں۔
حالانکہ ہمارے اسلام کی کیا تعلیم ہے۔
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا سکھلایا ہے۔
ام المومنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ( اعتکاف میں ) تھے آپ کے پاس ازواج مطہرات بیٹھی تھیں۔ جب وہ چلنے لگیں تو آپ نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ جلدی نہ کریں، میں آپ کو چھوڑنے چلتا ہوں۔ ان کا حجرہ دار اسامہ رضی اللہ عنہ میں تھا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے تو دو انصاری صحابیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی۔ ان دونوں حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور جلدی سے آگے بڑھ جانا چاہا۔ لیکن آپ نے فرمایا ٹھہرو ! ادھر سنو ! یہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا ہیں ( جو میری بیوی ہیں ) ان حضرات نے عرض کیا، سبحان اللہ ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا کہ شیطان ( انسان کے جسم میں ) خون کی طرح دوڑتا ہے اورمجھے خطرہ یہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی بات نہ ڈال دے۔
ایک مسلمان کو یہ شرف حاصل ہے کہ اسلام نے عزت و آبرو کو اس طرح سے محفوظ رکھنے کا ہمیں سلیقہ سکھلایا۔
کتنے عقلاء اور پڑھے لکھے لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کو بے پردہ رکھتے ہیں۔
الحمدللہ اللہ نے ہمیں اسلام دیا، اور اس طرح کی خرافات سے بچنے کا حکم دیا،اور اسی سبب تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی۔
اللہ ہمیں اس کی پابندی اور فتنوں سے محفوظ رہنے کی توفیق بخشے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس داخل ہونے سے عمومی طور سے ڈرایا ہے، اور خصوصاً جب شوہر گھر پہ نہ ہو تو داخل ہونے سے منع کیا ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ایاکم و الدخول علی النساء
کہ عورتوں پر داخل ہونے سے بچو
ایسے ہی آپ نے فرمایا :
لا یدخلھن رجل علی مغیبة الا و معہ غیرہ
یعنی کوئی آدمی کسی ایسی عورت پر داخل نہ ہو جس کا شوہر غیر موجود ہو، الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی دوسرا محرم موجود ہو ۔

اللہ کے بندو میں اپنی طرف سے یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ ایسا کیجئے۔
بلکہ خالق کائنات کے اس پیغام کے ذریعے سے آپ کو میں دعوت دے رہا ہوں۔

اللہ تعالی سورہ قصص کے اندر فرماتا ہے :
بے شک قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا پھر ان پر اکڑنے لگا، اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی کنجیاں ایک طاقت ور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں، جب اس سے اس کی قوم نے کہا اِترا مت، بے شک اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اور جو کچھ تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر حاصل کر، اور اپنا حصہ دنیا میں سے نہ بھول، اور بھلائی کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے، اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
کہا یہ تو مجھے ایک ہنر سے ملا ہے جو میرے پاس ہے، کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمیعت میں زیادہ تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں، اور گناہگاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔
زندگی کے طالب تھے کہنے لگے اے کاش ہمارے لئے بھی ویسا ہوتا جیسا کہ قارون کو دیا گیا ہے، بے شک وہ بڑے نصیب والا ہے۔
اور علم والوں نے کہا تم پر افسوس ہے اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لئے جو ایمان لایا اور نیک کام کیا، مگر صبر کرنے والوں کے سوا نہیں ملا کرتا۔
پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر اس کی ایسی کوئی جماعت نہ تھی جو اسے اللہ سے بچا لیتی اور نہ وہ خود بچ سکا۔
اور وہ لوگ جو کل اس کے مرتبہ کی تمنا کرتے تھے آج صبح کو کہنے لگے کہ ہائے شامت! اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، اگر ہم پر اللہ کا احسان نہ ہوتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا، ہائے! کافر نجات نہیں پا سکتے۔
یہ آخرت کا گھر ہم انہیں کو دیتے ہیں جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے، اور نیک انجام تو پرہیزگاروں ہی کا ہے۔
جو بھلائی لے کر آیا اسے اس سے بہتر ملے گا، اور جو برائی لے کر آیا پس برائیاں کرنے والوں کو وہی سزا ملے گی جو کچھ وہ کرتے تھے۔

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
 
Top