ذیشان خان

Administrator
برهان الدين ابو اسحاق ابراهيم بن احمد ابن علوان التنوخي (متوفی 800هـ)

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

کیا آپ نے ان کا نام سنا ہے؟

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی استاد سے شاگرد نے حد درجہ کسب فیض کیا، شاگرد تو پوری دنیا میں عزت وشہرت کی بلند چوٹی پر پہنچ گئے، لیکن استاد کو وہ شہرت حاصل نہ ہو سکی، بلکہ وہ تقریبا گمنام رہ گئے۔

شاید اس کی ایک اہم وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کتابیں کسی شخص کو زندہ رکھتی ہیں، اگر کسی نے تصنیف وتالیف کی طرف توجہ نہیں دی تو آہستہ آہستہ ان کی یادیں مٹنے لگتی ہیں، لیکن اگر انھوں نے کوئی اہم کتاب تصنیف کی ہو تو کتاب کے ساتھ ساتھ ان کی یاد بھی زندہ رہتی ہے۔

یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے، اور اس کے بر عکس بھی بے شمار مثالیں موجود ہین، لیکن اکثر وبیشتر ایسا ہی ہوتا ہے۔

برہان الدین ابراہیم التنوخی یہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے ان اساتذہ میں سے ہیں جن سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔ تقریبا تین سال تک آپ ان سے کسب فیض کرتے رہے۔ اور اس دوران ایک دو نہیں بلکہ سَو (100) سے زائد کتابیں ان سے پڑھیں۔ سورہ فاتحہ سے لے کر صحیح بخاری تک تقریبا تمام ہی کتابیں ان سے پڑھ ڈالیں۔

آج کے زمانے میں ہم تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کوئی کسی استاد سے سو کتابیں پڑھ لے۔
بلکہ آج کا ماڈرن زمانہ تو بغیر استاد کے ذاتی مطالعہ سے علم حاصل کرنے کا ہے۔ آج انٹرنیٹ کے اس ترقی یافتہ دور میں کون اس طرح کی سطحی ودقیانوسی سوچ رکھے؟
اللہ المستعان وعلیہ التکلان!!

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنے اساتذہ کے سوانح پر ایک نہایت ہی شاندار کتاب تصنیف کی ہے جو چار جلدوں میں مطبوع ہے۔ نام ہے: ”الـمَجْمَع الـمُؤسِّس للمُعْجَم الـمُفَهْرِس“۔
اس کتاب میں اکثر اساتذہ کا انھوں نے بالاختصار تذکرہ کیا ہے، لیکن برہان الدین ابراہیم التنوخی کا تذکرہ بہت ہی مفصل انداز میں کیا ہے۔ مطبوعہ نسخے میں ان کی سیرت تقریبا ایک سو بیس صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔
اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حافظ ابن حجر نے ان سے کتنا زیادہ استفادہ کیا ہے، اور ان سے کس قدر آپ متاثر تھے۔
اس کتاب میں اپنے اساتذہ کی فہرست کی شروعات انھوں نے برہان الدین ابراہیم التنوخی سے ہی کی ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا سوانح لکھتے ہوئے مجھے ان کے سات سو (700) سے زائد اساتذہ میں سے ایسے دس اساتذہ کا انتخاب کرنا تھا جن کا ان کی علمی زندگی پر گہرا اثر رہا، برہان الدین ابراہیم التنوخی کو میں نے پانچویں نمبر پر ذکر کیا ہے۔
کسی موقع پر باقی اساتذہ کا بھی اسی طرح مختصر تعارف پیش کیا جائےگا، ان شاء اللہ۔
 
Top