ذیشان خان

Administrator
حاجی کی قربانی


📗مقبول احمد سلفی
جو آدمی حج کرے ان کی قربانی سے متعلق بعض مسائل.
1/ اگر حج قران یا تمتع کرے تو ان پر ایک قربانی واجب ہے.
2/ اگر حج افراد ہے تو اس میں قربانی نہیں ہے.
3/ حج کرنے والا اگر عیدالاضحی کی مناسب سے قربانی دینا چاہے تو دے سکتا ہے مگر ان پہ یہ ضروری نہیں.
4/ اگر حج کرنے والا مکہ کا باشندہ ہے تو ان پہ حج کی قربانی نہیں ہے.
5/ اگر حاجی عید قرباں کی مناسبت سے قربانی کرے تو انہیں بهی اپنا بال اور ناخن نہیں کاٹنا چاہئے.
6/ حج تمتع کرنے والا عمرہ سے حلال ہوتے وقت اور دس ذی الحجہ کو رمی کے بعد بال کٹا سکتا ہے ، اسی طرح قران کرنے والا بھی دس کی رمی کے بعد بال کٹا سکتا ہے ۔

7/ اگر متمتع یا قارن کو قربانی دینے کی طاقت نہ ہو تو دس روزہ رکھے ، تین حج کے دنوں میں اور سات حج سے واپسی کے بعد ۔
 
Top