سال نو کا جشن اور مسلمان
ابو حمدان اشرف فیضی؍ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
منظر نامہ:عیسوی کلینڈر کے اعتبار سے ماہ جنوری سے سال کا آغاز اور ماہ دسمبر پر اختتام ہوتا ہے ،دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ۳۱؍دسمبرکی شب بارہ بجے کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیںاور جیسے ہی بارہ بجتے ہیں ہر طرف سے HAPPY NEW YEAR(نیا سال مبارک )کی صدائیں بلند ہوتی ہیں،ایک دوسرے کو مبارکباد یاں دی جاتی ہیں،تحفے تحائف کا اہتمام ہوتا ہے، پٹاخے داغے جاتے ہیں،لائٹنگ اور قمقموں کا شاندار انتظام ہوتا ہے،آتش بازیاں ہوتی ہیں،مخلوط ماحول کے ساتھ رقص وسرود کی محفلیں منعقد ہوتی ہیںاور ان محفلوں میں شراب وکباب کا دور دورہ ہوتا ہے،کیک کاٹا جاتا ہے ،موٹر سائکلوں میں اونچی آواز سیٹ کراکے تیزرفتاری سے شہر کی گلیوں اور سڑکوں پر دوڑائی جاتی ہیں ،الغرض فحاشی وبے حیائی اور موج مستی کا ایک طوفان نظر آتا ہے،اس ایک رات میں متعدد گناہوں کے ساتھ مال اور وقت کا بے حساب ضیاع ہوتا ہے،کئی جانیں ہلاک ہوجاتی ہیں،کئی حیا سوز مناظر دکھائی دیتے ہیں۔الامان والحفیظ۔یہ سب کرنے والے اکثر غیر مسلم ہوتے ہیں،مگر ہمارے کچھ ایسے مسلم نوجوان جو غیر تربیت یافتہ ہوتے ہیں،غلط نوجوانوں کی صحبت میں پڑ کر یہ سب کام انجام دیتے ہیں،مسلم نوجوانوں کو ان خرافات سے بچانے اور ان کی اصلاح کے مقصد سے زیر نظر مضمون قلمبند کیا گیا،اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اورمسلم نوجوانوں کو ایمان واسلام پر باقی رکھے۔آمین
آغاز وابتدا:عیسوی سال نو کا پہلا جشن یکم جنوری1600ء؁ کواسکاٹ لینڈ میں منایا گیا،یہ عیسائیوں کی ایجاد کردہ رسم ہے۔(نئے سال کا جشن اور اسلامی تعلیمات:مولانا ندیم احمد انصاری)
مسلمانوں کا کردار:اس موقع پر مسلمان کیا کریں؟ذیل کے سطور میں چند اہم امور کا تذکرہ کیا جارہا ہے:
٭۱؍جنوری سے انگریزی سال شروع ہوتا ہے ،اسلامی سال محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے اور ذی الحجہ پر ختم ہوتا ہے اور یہ دونوں حرمت کے مہینوں میں سے ہیں،اس لئے یہ ہمارا نیا سال ہی نہیں ہے تو پھر جشن منانے کا کیا مطلب؟؟
٭اسلام کی بہت سی عبادتیں قمری تاریخ سے مربوط ہیں،مثلاً:نماز،روزہ،قربانی،حج وغیرہ،لہٰذا مسلمانوں کو قمری(ہجری)کلینڈر کا اہتمام کرنا چاہئے،یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ ہمیں چند مخصوص مہینوں کے علاوہ دیگر مہینوں کا آغاز واختتام بھی معلوم نہیں ہوتا۔
٭قمری اور ہجری کلینڈر کے اعتبار سے جب محرم الحرام آنے پر اسلامی سال شروع ہوتا ہے اس وقت بھی جشن منانے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا اسلام میں کوئی تصور نہیںہے۔
٭در اصل یہ غیروں کی ایجاد کردہ رسم ہے اس لئے اس موقع پر کسی قسم کا اہتمام کرنا یہ ان کی مشابہت ہے اور ایک مسلمان کو یہود ونصاری کی مشابہت اختیار کرنے سے بچنا چاہئے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من تشبہ بقوم فہو منہم[صحیح سنن أبی داؤد:کتاب اللباس ،باب فی لبس الشہرۃ،الارواء:۱۲۶۹]جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کا شمار انہیں میں ہوگا۔یہ تو ہمارے دین ومذہب کے سخت دشمن ہیں،اس طرح کے کاموں سے یہ ہمیں ہمارے دین ومذہب سے منحرف کرنا چاہتے ہیںاور یہ ان کی دلی خواہش ہے ،جیسا کہ اللہ نے فرمایا:وَلَن تَرْضَی عَنکَ الْیَہُودُ وَلاَ النَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ قُلْ إِنَّ ہُدَی اللّہِ ہُوَ الْہُدَی وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَہْوَاء ہُم بَعْدَ الَّذِیْ جَاء کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللّہِ مِن وَلِیٍّ وَلاَ نَصِیْرٍ[البقرۃ:۱۲۰]آپ سے یہود ونصاری ہرگز راضی نہیں ہوںگے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں۔ دوسری جگہ فرمایا:یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوَاْ إِن تُطِیْعُواْ فَرِیْقاً مِّنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ یَرُدُّوکُم بَعْدَ إِیْمَانِکُمْ کَافِرِیْن[آل عمران:۱۰۰]اے ایمان والو!اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد مرتد کافر بنا دیں گے۔یہ ہر دور میں مسلمانوں کے خلاف مکروفریب کرتے رہے ہیںاس لئے مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے اوران کی ناپاک کوششوں سے محتاط رہنا چاہئے۔
٭ہم مسلمان ہیں،ہمیں اسلامی تہذیب وتمدن اور اسلامی ثقافت وکلچر زندگی کے تمام شعبوں میں اختیار کرنا چاہئے،اور کسی بھی حال میں غیروں کی تہذیب وثقافت سے مرعوب یا متاثر نہیں ہونا چاہئے،ہم اللہ پر کامل یقین وبھروسہ رکھیں وہی ہمارا حقیقی محافظ ونگہبان ہے۔
٭دن اور رات کا آنا جانا اور ماہ وسال کا گزرنا یہ رب کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے،یقینا ان نشانیوں میں غور وفکر کرنے والوں کے لئے عبرت ونصیحت کے کئی پہلو ہیں۔جیسا کہ اللہ نے فرمایا:إِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ لآیَاتٍ لِّأُوْلِیْ الألْبَاب[آل عمران:۱۹۰]آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقینا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔دوسری جگہ فرمایا: یُقَلِّبُ اللَّہُ اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَعِبْرَۃً لِّأُوْلِیْ الْأَبْصَار[النور:۴۴]اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کو ردوبدل کرتا رہتا ہے آنکھوں والوں کے لئے تو اس میں یقینا بڑی بڑی عبرتیں ہیں۔اس لئے ماہ وسال کے آغاز واختتام پر جشن منانے کے بجائے ہمیں رب کی قدرت پر غوروفکر کرنا چاہئے ۔
٭سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز پر جشن اور مبارکبادی آخر کس وجہ سے ؟کیا اس لئے کہ ہماری مقررہ زندگی کا ایک سال کم ہوگیا اور ہم اپنی موت اور قبر سے ایک سال اور قریب ہوگئے،یہ تو خوشی ومسرت کا موقع نہیں بلکہ غم وفکر کا موقع ہے عقلمندوں کے لئے۔
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی
اور کسی نے کہا:
ایک اور اینٹ گر گئی دیوار حیات سے
نادان کہہ رہے ہیں نیا سال مبارک
٭اس موقع پر ہمیں دنیا کی حقیقت اور اس کی بے ثباتی پر غور کرنا چاہئے کہ کتنی تیزی کے ساتھ زندگی کا یہ سفر ہم طے کررہے ہیں ،ایک دن آئے گا وہ دن کہ جب ہم سب کو سسکتا بلکتا چھوڑ کر سفر آخرت پر روانہ ہوجائیں گے،اس وقت ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہوں گے جو ہم زندگی میں کئے ہوں گے،اچھے عمل کا اچھا بدلہ ملے گا جبکہ برے اعمال پر ہمارا مواخذہ ہوگا۔یقینا یہ دنیا کھیل اور تماشا ہے،دھوکے کا سامان ہے ،اس لئے اس عارضی وفانی دنیا کے پیچھے پڑکر اپنی آخرت کو بربادکرنا عقلمندی کی بات نہیں ہے،ارشاد ربانی ہے: وَمَا أُوتِیْتُم مِّن شَیْْء ٍ فَمَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُہَا وَمَا عِندَ اللَّہِ خَیْْرٌ وَأَبْقَی أَفَلَا تَعْقِلُون[القصص:۶۰]اور تمہیںجو کچھ دیا گیا ہے وہ صرف زندگی دنیا کا سامان اور اسی کی رونق ہے ،ہاں اللہ کے پاس جو ہے وہ بہت ہی بہتر اور دیرپا ہے ،کیا تم نہیں سمجھتے ؟
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
کتاب وسنت میںکثرت سے دنیا کی بے ثباتی کو مختلف انداز میں واضح کیا گیا ہے نیز اس سلسلے میںنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جامع اسوہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پاکیزہ سیرت بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔
٭اس مناسبت سے ہمیں اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہئے کہ سال گزشتہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا،کتنے اچھے اعمال کئے اور کتنے برے اعمال،مختلف گوشوںسے ہمیں جائزہ لینا چاہئے اور خامیوں وکوتاہیوں کی اصلاح کرلینا چاہئے کیونکہ یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت درا الجزاء،یہاں پر سنبھلنے اور سنورنے کا موقع ہے،آخرت میں سوائے حسرت وافسوس کے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔احتساب زندہ قوموں کی علامت ہے،سچ کہا کسی شاعر نے:
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا احتساب
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُون[الحشر:۱۸]اے ایمان والو!اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت)کے واسطے اس نے (اعمال کا)کیا ذخیرہ بھیجا ہے ،اور( ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو ،اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔
یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
زندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے
٭سال نو کا استقبال ہم اس عزم وارادہ سے کریںکہ ہم اس سال نماز روزے کی پابندی کریں گے،ہر قسم کے معاصی ومنکرات سے حتی المقدور اپنے آپ کو بچائیں گے،اعمال خیر میں سبقت کریں گے،ہم اپنے اوقات کو اچھے اور بھلے کاموں میں صرف کریں گے ۔الغرض اس موقع پر ہمیں دینی ودنیوی ہر اعتبار سے پختہ منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔
٭سال نو کا استقبال ہم اس عزم وارادہ سے کریں کہ رواں سال ہمارے لئے دینی ودنیوی ہر اعتبار سے انقلابی سال ثابت ہو،اس کے لئے ہم اپنے آپ کو ہر اعتبار سے بدلنے کی کوشش کریں،تب جا کر دونوں جہاں میں ہم عزت وسرفرازی حاصل کر سکتے ہیں،ہم غور کریں کہ آج مسلم قوم جو ہر جگہ مظلوم ومقہور ہے اس کی بنیادی وجہ ہماری بداعمالیاں ہیں ،ورنہ اہل ایمان کے لئے اللہ نے عزت وسربلندی،کامیابی وکامرانی اور قیادت وسیادت کا وعدہ کیا ہے اور یہ وعدہ ہر دور کے مسلمانوں کے کے لئے ہے،مسلمانوں کا شاندار ماضی اس کی روشن مثال ہے،آج بھی اگر ہم اپنے آپ کو بدل لیں تو نصرت الٰہی اور فتح وغلبہ ہمارا مقدر ہوگا ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
سچ کہا کسی شاعر نے:
نتیجہ پھر وہی ہوگا سنا ہے چال بدلے گا
پرندے بھی وہی ہوں گے شکاری جال بدلے گا
بدلنے ہیں تو دن بدلو بدلتے کیوں ہو ہندسے کو
مہینے پھر وہی ہوں گے سنا ہے سال بدلے گا
وہی حاکم وہی غربت وہی قاتل وہی ظالم
بتاؤ کتنے سالوں میں ہمارا حال بدلے گا؟
الٰہی ہمیں تیری مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔آمین
 
Top