مولانا آپ بھی چلے گئے

(مولانا عبد الشکور اثری کا سانحہ ٔ ارتحال)​

تراوش ِ قلم :عبد السلام بن صلاح الدین مدنی

الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی أشرف الأنبیاء و المرسلین ۔أما بعد

سعد اللہ نگر بلرام پور یوپی کے گاؤں بنکٹوا کے لعل,دیکھنے سننے میں صاحب ِ جاہ و جلال,مقرر با کمال,خطیب ِ باک و بے مثال,ملکِ عزیز کی اثری دانش گاہ دار الحدیث جامعہ اثریہ مئو کےسابق شیخ الحدیث و شیخ الجامعہ,لاکھوں تلامذہ کے استاذ ِ لا زوال ؛استاذ االأساتذہ فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا عبد الشکور بن محمد عمر بن محمد امین الاثری گزشتہ رات ۳۰ دسمبر ۲۰۲۱ء کو راہی ملک عدم ہوگئے,اور اپنی گھن گھرج کے ساتھ اس دار ِ فانی کو خیر آباد کہہ کر اپنے مالک ِ حقیقی سے جا ملے؎

عجب قیامت کا حادثہ ہے، آستیں نہیں ہے زمین کی رونق چلی گئی ہے، اُفق پہ مہر مبیں نہیں ہے

تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہےمگر تری مرگ ناگہاں کا اب تک یقیں نہیں ہے

مولانا اثری کی وفات کوئی غیر متوقع نہ تھی,کل ۲۹ دسمبر ۲۰۲۱ء کو جب فضیلۃ الشیخ ابو صالح دل محمد سلفی(استاد جامعہ سلفیہ بنارس ) نے اپنے فیس بک وال پر مولانا مرحوم کی تشویش ناک حالت کی خبر دی تھی,جب سے ہی ذہن کسی بھی وقت مولانا کی وفات کی خبر سننے کو تیار تھا,کیوں کہ آپ ایک مدت ِ مدید سے بستر ِ مرگ پر بیماری سے جوجھ رہے تھے,لہذا آج صبح بھی جب ((إنا للہ وإنا إلیہ راجعون))کی صدائے کرخت سنی تو بے ساختہ کہہ اٹھا کہ ہو نہ ہو مولانا کی وفات کی خبر ہو ؎

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیںکہیں سے آبِ بقائے دوام لا ساقی

,اور جب تفصیل پڑھی تو شک یقین میں بدل گیا؛اور بے ساختہ آنکھوں میں آنسو بھر آئے,إنا للہ و إنا إلیہ راجعون پڑھا,دل واقعی بیٹھ گیا,انگلیاں کچھ لکھنے سے معذرت کر بیٹھیں,ذہن کچھ سوچنے سمجھنے سے لاچار نظر آنے لگا,اور یہ کہہ کر موبائل بند کر دیا((آہ !

آپ چلے گئے مولانا

إنا لله و انا اليه راجعون

اللهم اغفر له و ارحمه و عافه و اعف عنه و اكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد و نقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس و أبدله دارا خيرا من داره واهلا خيرا من أهله و زوجا خيرا من زوجه وأدخله الجنة واعذه من عذاب القبر و من عذاب النار.

مولانا کے تعلق سے کچھ لکھوں گا ان شاء اللہ,ابھی انگلیوں نے بھی جواب دے دیا ہے))

اور اس وقت جبکہ قلم کو کچھ یارا ملا ہے,کچھ منتشر احساسات ترتیب دینے بیٹھ گیا۔

مولانا اثری ۔رحمہ اللہ۔سے میرا استاذی و شاگردی کا رشتہ و علاقہ تو نہیں ہے,تاہم چونکہ آں رحمہ اللہ۔ برادرِ مکرم,استاد ِ محترم,مربی ٔ فاضل حضرت مولانا قاری محمد یونس اثری۔حفظہ اللہ۔کے ہم نوالہ ہم پیالہ تھے؛آں رحمہ اللہ سے کچھ مراسم ضرور تھے,اور گاہے بہ گاہے ان سے کچھ سمجھنے,سننے اور استفادہ کرنے کا موقعہ ضرور ملا ہے,مئو ناتھ بھنجن میں زمانہ ٔ طالب علمی میں آپ کے خطبہ ہائے جمعہ سننے کے لئے بارہا آپ کی مسجد (باغچہ والی میں) حاضری کا شرف حاصل رہا ہے,اب جبکہ آپ کے نام کے ساتھ رحمہ اللہ لکھنا پڑ رہا ہے,آپ کی یادیں آر ہیں ,مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی تقریریں ,گھن گرج والی آوازیں سماعت کے پردوں سے ٹکرا ری ہیں ,اوررب کریم کے فیصلہ پر رضامندی کے سوا کوئی چارہ بھی نظر نہیں آتا ہے,مولانا عبد الشکور اثری ۔رحمہ اللہ۔ اس دنیا سے چلے گئے,اب آپ نہیں آئیں گے,مگر آپ کی یادیں ضرور لوگوں کو ستائیں گی؎

جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں

مولانا کی وہ گرج دار آواز ان کے لاکھوں معتقدین کو ضرور پریشان کرے گی ؎

جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے

آپ کی تقریریں عوام و خواص میں یکساں طور پر مقبول تھیں, آں رحمہ اللہ کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے عجیب کشش رکھی تھی،آپ کے اندر سامعین و حاضرین کو اپنی طرف مائل کرنے کا ہنر تھا اور بلا کاہنر کا تھا؛آپ کی تقریر شروع ہونے کے بعد کسی کی مجال نہیں کہ ٹس سے مس ہوجائے,جب آپ کی تقریر ہوتی تو سامعین کے سروں پر چڑیا بیٹھ جاتی تھی,اور موضوع کا پورا پورا حق ادا کیا کرتے تھے ۔

دار الحدیث جامعہ اثریہ مئو سے فراغت کے بعد جامعہ سے مربوط ہوئے؛اور تا دمِ واپسیں جڑے رہے,جامعہ کی خدمت کی اور بے لوث خدمت کی,استادی سے لے کرشیخ الحدیث اور شیخ الجامعہ کی کرسی تک میں فائز رہ کر طالبان ِ علوم نبوت کی تربیت کی اور اسلامی طرز پر تربیت کی,ملک کے طول و عرض میں بپا ہونے والے اجلاس ہائے عام,کانفرنسوں,سیمیناروں اور انجمنوں میں شرکت فرمائی,اور جہاں بھی شرکت فرمائی؛کامیابی کی ضمانت ثابت ہوئے,یہ آں رحمہ اللہ پر اللہ کا خاص فضل و کرم تھا,و ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء, واللہ ذو الفضل العظیم

مولانا نے اپنے پیچھے مجازی اولاد کی بہت بڑی تعداد چھوڑی ہے,ان میں قلم کار بھی ہیں,اور صحافت و خطابت کے فنکار بھی,دعوت و تبلیغ کے شہسوار بھی ہیں اور تعلیم و تربیت کے سپہ سالار بھی

مولانا کی حیات و خدمات پر لکھنے والے خوب لکھیں گے,ان کی حیات و خدمات کے گوشے اجاگر کریں گے,اور امت و ملت کے سامنے پیش کریں گے,اپنی اس تحریر میں خاکسار چند ایسے نمونوں کا تذکرہ کرنے کی جسارت کر رہا ہے,جنہیں خاکسار نے بہ چشم ِ خود مشاہدہ کیا ہے,اور سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

(۱)یہ کوئی ۱۹۸۸ء کے پس و پیش کی بات ہوگی,جب سر زمین مئو ناتھ بھنجن میں مولوی طاہر گیاوی کا ورود ِ نا مسعود ہوا تھا,اور مئو کے شیر و شکر ماحول کو گدلا کرنے ,جماعت اہل حدیث کو طعن و تشنیع کرنے,اور سب و شتم کرنے کی ناورا کوشش کی گئی,جمعرات کی رات کو گیاوی موصوف کی تقریر تھی,اور اگلی صبح جمعہ کا دن ,مولانا اثری مرحوم کو خبر ہوئی ,ان دنوں مولانا اثری۔رحمہ اللہ۔اپنے خطبہ ہائے جمعہ کے دوران تفسیری سلسلہ میں علم و ادب کے موتی رول رہے تھے,گیاوی کی زہر افشاں تقریر کی خبر ہوتے ہی اپنے تفسیری سلسلہ کو روک کر خطبہ ٔ جمعہ میں جو خبر لی گئی,اور جس گھن گرج کے ساتھ نوٹس لیا گیا,آج بھی وہ تقریر کانوں میں رس گھول رہی ہے,مولانا نے گیاوی موصوف کو ترکی بہ ترکی جواب دیا,دو بدو گفتگو کی دعوت دی,مگر ان میں ہمت کہاں ؟نوبت بایں جا رسید کہ گیاوی کو راہ ِ فرار اختیار کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نظر نہیں آیا؛واضح ہو کہ مولانا مرحوم مئو کی باغیچہ والی مسجد کے مستقل خطیب تھے اور آپ کے خطبہ ہائے جمعہ کو سننے کے لئے عوام و خواص دور دور سے تشریف لایا کرتے تھے,آپ کا انداز جداگانہ ,نرالا,اور انتہائی بےباکانہ ہوا کرتا تھا

(۲)تقریبا ۱۹۸۸ء کا ہی زمانہ تھا؛سرزمین مئو میں باغیچہ والی مسجد کے بغل میں ایک اصلاحی اجلاس رکھا گیا تھا؛مولانا بھی بہ حیثیت مقرر شریک اجلاس تھے,اسٹیج پر تشریف لائے,تو آپ کو ((زبان کی حفاظت))پر تقریر کرنے کا حکم دیا گیا,مولانا کسی دوسرے موضوع پر تیاری کرکے تشریف لائے تھے,اور اسٹیج پر عنوانِ خطاب دئے جانے پر چیں بہ جبیں تو ضرور ہوئے,مگر جب تقریر شروع فرمائی,تو علم کے دریا بہا دئے,خطابت کے ایسے جوہر دکھائے کہ سامعین سراپا گوش ہوگئے,گویا کہ ان کے سروں پر چڑیا بیٹھی ہو,اپنی تقریر کے آخر میں بالخصوص تمام منتظمین ِ اجلاس سے عہد لیا (جو آپ کا خاص انداز تھا)کہ آج سے نماز نہ چھوڑنے کا عہد کیجئے,بصورت ِ دیگر مجھے اپنے اجلاس میں دعوت نہ دیجئے

(۳)۲۰۰۳ء میں صوبہ ٔ جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہہ کے علم و ادب کی مشہوربستی(ماتھاسیر)میں ایک عظیم الشان اجلاس منعقد کیا گیا تھا,جس کی صدارت حالیہ امیر ِ صوبائی جمعیت اہل حدیث جھارکھنڈ حضرت مولانا قاری محمد یونس اثری نے فرمائی تھی,اور انتظام کی ذمہ داری راقم الحروف (عبد السلام بن صلاح الدین مدنی)کو سونپی گئی تھی,اس اجلاس میں بطور ِ خاص حضرت مولانا عبد الشکور اثری اور حضرت مولانا محمد اشفاق سلفی مدنی (دربھنگہ) بہ حیثیت مقرر مدعو تھے,خاکسار نے انتظام سے لے کر مولانا مرحوم کے ماتھاسیر میں آنے سے لے کر رخصت کرنے تک آپ کی رفاقت حاصل کی,خدمت کا بھی موقعہ میسر آیا اور خوب خوب میسر آیا؛چونکہ آں رحمہ اللہ حضرت مولانا قاری محمد یونس صاحب اثری کے ہم جولی اور رفیق و یار تھے,اس لئے آپ کو اجلاس میں مدعو کرنے,اور شریک ہونے کے لئے صرف یہی کہنا کافی ہوتا تھا کہ ((میں قاری یونس کا بھائی ہوں)),اور مولانا ۔رحمہ اللہ۔ اپنی منظوری سے شادکام فرما دیا کرتے تھے,پھر مولانا سے قربت بڑھی,اور خوب بڑھی,مولانا ماتھاسیر کےاجلاس میں شریک ہوئے,اور اصلاح ِ معاشرہ پر ایسی تقریر فرمائی کہ کیا اپنے کیا غیر سبھوں نے آپ کو اپنا نقد دل دیا,اور آپ کے مداح ہوگئے,آپ نے اپنی تقریر کے آخر میں جہیز نہ لینے پر بھی قول و قرار بھی لیا تھا,اور بہیترے حضرات نے عہد و پیمان باندھا ,کچھ نے نبھایا اور کچھ نہ نبھا سکے؛جس میں سر ِ فہرست خاکسار کے بڑے بھائی جناب سفیر الدین صاحب نے بھی عہد لیا تھا,اور بحمدہ تعالی اپنے دونوں بیٹوں کی شادیوں میں ایک کوڑی جہیز کی مانگ نہیں کی؛فالحمد للہ علی ذالک۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اجلاس کے دونوں مقررین(فضیلۃ الشیخ محمد اشفاق سلفی مدنی,اور فضیلۃ الشیخ عبد الشکور اثری) خاکسار کی جھونپڑی میں مہمان بنے,قیام فرمایا,اس درمیان میں نے دیکھا کہ بعض علمی مباحثے میں مولانا۔رحمہ اللہ۔کس قدر سخی واقع ہوئے ہیں,اور علمی گیرائی و گہرائی سے لیس اور مسلح ہیں,اللہم فاغفر لہ و ارحمہ,و تقبل جہودہ۔

ماتھاسیر کا یہ اجلاس شدت ِ امس میں منعقد ہوا تھا,خال خال پانی ملتا تھا,خاکسار کے گھر کے کنواں میں کچھ پانی تھا,جہاں آپ نے غسل فرمایا تھا,اس قلت ِ پانی کا حوالہ جامعہ اثریہ میں آں رحمہ اللہ دیا کرتے تھے,اورجب کوئی طالب ِ علم وافر مقدار میں پانی بہاتا تھا تو کہتے تھے:(پانی کی قیمت کا اندازہ لگانا ہے تو جاؤ ماتھاسیرپتہ چلے گا؛پانی کی کیا اہمیت ہے)

(۴)۲۰۰۴ء کے ماہ ِ مارچ کی ۱۳,۱۴,اور ۱۵ ویں تاریخ کو آل انڈیا اہل حدیث پاکوڑ کانفرنس منعقد ہوئی تھی,جس میں ملک و بیرون ِ ملک کی مقتدر ہستیاں شریک ِ کانفرنس تھیں,اور جماعت ِ اہل حدیث کے لعل و گہر یکجا ہوئے تھے,مولانا ۔رحمہ اللہ۔بھی بہ حیثیت مقررِ خصوصی مدعو تھے,آپ کا عنوان (سود کی تباہ کاریاں)بھی مشتہر تھا,مگر بوجوہ آپ کا خطاب ِ نایاب نہ ہوسکا,جب ناظم اجلاس نے آپ کے بار بار استفسار و اصرار پر آپ کو دعوت ِ خطاب دینے میں ٹال مٹول کیا,تو مولانا ۔رحمہ اللہ۔نے از خود مائیک تھاما,اور جو کچھ کہنا تھا,دو تین منٹ کے اندر کہا,سنا ,بوریا بستر اٹھایا,اور روانہ ٔ مئو ہوگئے؛خاکسار بھی اپنی ایک مختصر سی نفری کے ساتھ شریک ِ کانفرنس تھا,راستے میں پاکوڑ اسٹیشن جاتے ہوئے,اپنی گاڑی پر سوار کرنے کی کوشش کی,مگر مولانا نے صاف انکار کردیا,اور پیدل ریلوے اسٹیشن تک تشریف لے گئے,اس وقت آپ نے جو موقف اپنایا تھا,وہ بھی دیدنی تھا,اور قابل رحم بھی,غفر اللہ لنا و لہ ۔

(۵)۲۰۰۴ء کے ماہ ِ اپریل میں صوبہ ٔ جھارکھنڈ کا مشہور و معروف ادارہ جامعہ اصلاح المؤمنین برہیٹ میں جلسہ ٔ دستار بندی منعقد ہوا؛مولانا مرحوم بھی بہ حیثیت مقررِ خصوصی مدعو کئے گئے,اور وہی موضوع دیا گیا جو پاکوڑ کانفرنس کے لئے منتخب تھا؛آپ کی شاندار تقریر ہوئی,نظامت کی ذمہ داری خاکسار نے ادا کی,سود کی تباہ کاریاں کے عنوان سے آپ نے جو تقریر برہیٹ میں پیش کی تھی,انتہائی مدلل و مبرہن ,کتاب و سنت سے مزین و مرصع اور موضوع کے جملہ جوانب اور گوشوں کو محیط تھی,جو سننے سے تعلق رکھتی ہے؛واضح ہو کہ اس اجلاس میں مولانا ۔رحمہ اللہ ۔ کے ساتھ مولانا جرجیس سراجی,اور مولانا جلال الدین قاسمی بھی مدعو تھے ؛حفظہم اللہ جمیعا و رحم من مات منہم۔

(۶)جب آپ کافی کمزور ہوگئے تھے,آپ کو زیارت ِ حرمین شریفین کی توفیق میسر ہوئی,خاکسار (راقم )بھی اس وقت مسجد ِ نبوی کی زیارت کو گیا ہوا تھا,پتہ چلا کہ آں رحمہ اللہ بھی مدینے میں موجود ہیں, شوق ِ ملاقات نے کچوکے لگایا,اور مسجد نبوی کے صحن میں ملاقات کا شرف حاصل کیا,تب مولانا کافی کمزور ہوچکے تھے,پہچان کرانے پر بہ مشقت ِ تمام پہچان پائے,دعائیں دیں,اور دونوں نے اپنی اپنی راہیں لی,مولانا کو اس وقت دیکھا,ماتھاسیر کا واقعہ یاد دلایا,مولانا کی آنکھوں میں آنسو تھے,اور میں سراپا حسرت و یاس؎

اب دل کی تمنا ہے تو اے کاش یہی ہو آنسو کی جگہ آنکھ سے حسرت نکل آئے

یہ چند غیر مربوط احساسات و جذبات کی ہوائیں تھیں,جو نوک ِ قلم پر آگئیں ہیں,جو مولانا کی حیات و خدمات کے بعض گوشوں کو اجاگر کر تی ہیں,اور یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ ہمارے علمائے اسلام دینی دعوت کے لئے کس قدر حریص تھے,اور کتنی تکلیفیں برداشت کرتے تھے۔

مولانا ۔رحمہ اللہ۔ کاہمارے خطہ ٔ جھارکھنڈ سے گہرا رشتہ تھا,(دوسرے صوبوں میں جہاں جاتے)اکثر و بیشتر بہ حیثیت مقرر صوبہ ٔ جھارکھنڈ بھی خطابت کے جوہر دکھانے تشریف لایا کرتے تھے؛اور دعوت و اصلاح کا کام کیا کرتے تھے؛جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند اور جامعہ اسلامیہ یوسفیہ منکڈیہا میں تو بار بار آپ کو مدعو کیا جاتا تھا,اور آپ تشریف لاتے تھے؛آپ کی تقریر عوام و خواص میں خوب خوب پسند کی جاتی تھی۔

اللہ رب العزت سے دست بدعا ہیں کہ اللہ رب العزت آپ کی لغزشوں کو درگزر فرمائے اور آپ کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے,اس امت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے,آپ کے جملہ جہود و مساعی کو شرف ِ قبولیت بخشے,اور آپ کے میزان ِ حسنات میں رکھے

آمین یارب العالمین
 

Attachments

Top