ذیشان خان

Administrator
حالات مسلماں دیکھ کے دل خون کے آنسو روتا ہے!

✍ عتیق الرحمن ریاضی، استاذکلیہ سمیہ بلکڈیہوانیپال

کتنے لوگوں کا وجود ایک بیکار اور لا یعنی چیز بن گیا ہے جس کا نہ وہ اپنے نفس کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ معاشرے کو ۔۔۔۔۔

ایمان ، اخلاق اور اعمال کی کمزوری ، نا امیدی اور پست ہمتی نے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رکھا ہے ۔۔۔۔

اپنی جوابدہی کا احساس و شعور ختم اور فرائض و واجبات کی ادائیگی میں غیرسنجیدگی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کا برتاو؛ آخر یہ سب کچھ کب تک چلے گا ۔۔۔۔۔۔؟

اس وقت معاشرہ کے اہل علم، صاحب فراست و بصیرت اور ذمہ دار طبقہ کا فرض بنتا ہے کہ عوام الناس کو کس طرح اس بات کا احساس دلایا جائے کہ اللہ تعالی نے انہیں ایسے ہی بے کار اور فضول نہیں پیدا کیا؛ بلکہ انہیں ایک نہایت عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔

ان کی زندگی کے مقصد کو بتلایا اور سمجھایا جائے ، انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ دن اور رات پے در پے گزرتے چلے جارہے ہیں، ایام زندگی لپیٹے جا رہے ہیں ،گردش شب و روز اس چیز کو ہمارے قریب تر کر رہی ہے جسے ہم دور سمجھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔

لوگوں کے اندر بیداری لائی جائے کہ آج کے دن کی جانے والی بھلائی کو کل تک کے لئے نہ چھوڑیں ، شاید کل کا دن آئے اور آپ نہ ہوں ، اگر آج کے دن اچھے کاموں کے لیے آپ نے خود کو محنت کرکے تھکا دیا تو اس کا نفع آپ کو ملے گا ۔۔۔۔ان شاء اللہ

یاد رکھیں! ان لوگوں کا انجام نہایت ہی برا ہوگا جو اللہ کی یاد اور اس کی عبادت سے یکسر غافل ہیں ، نہ خود ان کے دل میں احساس و شعور پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی نصیحت ان پر کارگر ہے ، دنیوی عیش و عشرت نے ان کو اندھا کر کے رکھ دیا ہے ایسے لوگوں کی آنکھیں کھلنے کا وقت قریب آ رہا ہے ۔۔۔۔۔

ذرا سوچیں! اس عمر کی مقدار کیا ہے جس کی آخری حد سو سال ہے؟ اس میں بھی بلوغت سے پہلے کی جہالت اور ستر کے بعد بڑھاپے کی کمزوری، بے بسی اور خجالت ، درمیانی عرصہ جو باقی بچا اس میں بھی آدھا نیند کا اور آدھا کھانے پینے و روزی روٹی کمانے کا اور جو عبادت کے لئے باقی بچا وہ انتہائی تھوڑا ۔۔۔۔۔

پس اس تھوڑے کے بدلے بھی وہ دائمی نعمتیں نہیں خرید رہا ہے۔۔۔۔۔۔ حقیقت میں اس فائدہ مند تجارت سے غافل رہنا عقل میں واضح کھوٹ اور کمزور ایمان کی علامت ہے۔۔۔۔۔

گزارش۔۔۔۔۔
خیر و بھلائی کے حصول میں تاخیر نہ کریں اور نہ کسی کے لئے خیر خواہی میں بخل و حسد سے کام لیں، بلکہ پیار و محبت کی فضا کو فروغ دیتے ہوئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچائیں اور لوگوں کا رشتہ اللہ سے مضبوط کرنے کے لیے جی جان لگا دیں ، دعوت و تبلیغ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جماعت کو مضبوط و منظم کریں ، کاہلی و سستی کی زندگی چھوڑ کر سالار قافلہ بن کر قوم و ملت کی خدمت میں آگے بڑھیں۔۔۔۔
اسی میں خیر و فلاح اور دنیا و آخرت کی سعادت ہے، ان شاءاللہ۔۔۔۔۔۔

اللہ ہم سب کو اپنے دین کی دعوت اور خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔ آمین
نگہ بلند سخن دل نواز جان پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top