ذیشان خان

Administrator
علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ (متوفی 808 هـ) کہا کرتے تھے کہ صحیح بخاری کی شایان شان شرح لکھنا امت پر ایک قرض ہے۔
اگر آپ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی شرح فتح الباری دیکھ لیتے تو یقینا آپ کی آنکھ ٹھنڈی ہو جاتی۔ علامہ سخاوی فرماتے ہیں کہ بہت سارے علما نے اس بات کی صراحت کی ہے۔
ایک لمبی مدت (تقریبا 8 سال) تک صحیح بخاری کی بعض دیگر شروحات کو دیکھنے کے بعد میرا تجزیہ یہ ہے کہ واقعی فتح الباری کے ذریعہ یہ قرض ادا کر دیا گیا ہے۔
اس کی ایک ایک خوبی پر کبھی غور کرتا ہوں تو دنگ رہ جاتا ہوں۔ بلا شبہ یہ اللہ تعالی کا حافظ ابن حجر پر ایک خاص کرم تھا کہ ان سے یہ کام لے لیا۔ ورنہ کوئی کسی ایک کتاب کی تصنیف میں 38 سال تک مسلسل لگا رہے وہ بھی ماہر طلبہ کی ایک ٹیم کے ساتھ کتاب میں درج کئے گئے مسائل پر بحث ومناقشہ ہو، اور پھر جو نکھر کر سامنے آئے اسے شامل کتاب کیا جائے شبہ نا ممکن ہے۔ لیکن اللہ کے خاص فضل وکرم سے آپ نے یہ نا ممکن کام ممکن کر دکھایا۔

✍
فاروق عبد اللہ نراین پوری
 
Top