علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لا تغتر اذا لم تر اثر ذنبك في حينه فقد تجد اثره بعد اربعين سنة
( الداء والدواء : ١٣٠)

تمہیں اپنے گناہوں کا اثر اگر فوری نظر نہ آئے تو دھوکے میں مبتلا نہ ہو کیونکہ چالیس سال کے بعد اس کا اثر دیکھو گے،

گناہوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں فوری نہیں تو دیر میں ضرور۔
اس لئے ہر قسم کے گناہوں سے بچیں اور پرسکون زندگی گزاریں،

عدل وانصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَاۤ أَصَـٰبَكُم مِّن مُّصِیبَةࣲ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَیۡدِیكُمۡ وَیَعۡفُوا۟ عَن كَثِیرࣲ﴾ [الشورى ٣٠]

اور فرمایا:

﴿ظَهَرَ ٱلۡفَسَادُ فِی ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَیۡدِی ٱلنَّاسِ لِیُذِیقَهُم بَعۡضَ ٱلَّذِی عَمِلُوا۟ لَعَلَّهُمۡ یَرۡجِعُونَ﴾ [الروم ٤١]
----------------
ابو حمدان اشرف فیضی جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
 
Top