ذیشان خان

Administrator
حج کی اقسام

حج ادا کرنے کی تین اقسام ہیں۔
(1) حج تمتّع :۔ میقات سے صرف عمرہ کی نیت کریں اور یہ کہیں ’’لبیک عمرۃ‘‘ مکہ آنے کے بعد پہلے عمرہ کریں۔عمرہ مکمل کر لینے کے بعد احرام کھول دیں اور حلال ہو جائیں ۔پھر آٹھ ذو الحجہ کو دوبارہ حج کی نیت سے مکہ ہی(اپنی رہائش) سے احرام باندھیں اور حج کے اعمال انجام دیں۔یہ حج کی سب سے افضل قسم ہے کیونکہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو بھی حکم دیا اور خود بھی اس کی خواہش ظاہر کی ۔
(2)حج قران:۔ میقا ت سے حج اور عمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کریں اور کہیں’’لبیک حجاً وعمرۃً‘‘مکہ پہنچ کر عمرہ کریں اور احرام میں ہی باقی رہیں اور اسی احرام میں آٹھ ذو الحجہ کو حج کے اعمال شروع کر دیں گے۔ نبی ﷺ نے یہی حج ادا فرمایا تھا۔
(3) حج افراد :۔ میقات سے صرف حج کی ہی نیت کریں اور کہیں’’لبیک حجاً‘‘اب آپ مکہ جا کر پہلے طواف قدوم کریں گے ‘پھرسعی۔اگر آپ نے طواف قدوم کے ساتھ سعی کر لی تو طواف افاضہ کے بعد سعی کی ضرورت نہیں۔ دس ذو الحجہ تک اسی احرام میں رہیں گے ۔اور آٹھ ذو الحجہ کو حج کے اعمال اسی احرام میں شروع کر دیں گے۔
:::چند مسائل:::
٭حج تمتّع اور حج قران کرنے والے پر قربانی ضروری ہے جبکہ حج مفرد کرنے والے پر قربانی نہیں ہے۔
٭ گر میسر ہو تو حج تمتع کریں وگرنہ ان میں سے کوئی بھی حج کرسکتے ہیں ۔ ان تمام قسم کے حج مبرور کا بدلہ جنت ہے ۔
٭ مکہ والے اگر حج تمتع کرے تو حدود حرم سے باہر جاکر عمرہ کی نیت سے احرام باندھے ، عمرہ کرکے حلال ہوجائے اور آٹھ ذی الحجہ سے پھر اپنی رہائش سے احرام باندھکر حج کرے ۔
٭ اہل مکہ پر قربانی نہیں ہے ۔
٭ حج قران اور حج تمتع کرنے والوں پہ ایک ہی قربانی واجب ہے جو کہ مکہ میں دینا ہے ، اگر کوئی عیدقرباں کے تعلق سے اپنے ملکوں میں بھی دینا چاہے تو دے سکتا ہے مگر یہ واجب نہیں ہے ۔
٭ عورت اگر حج کے لئے سفر کرے تو ساتھ میں محرم ہونا ضروری ہے ورنہ گنہگار ہوگی ۔
 
Top