عبد السلام بن صلاح الدین فیضی مدنی

کا

مختصر سوانحی خاکہ

نام :عبد السلام بن صلاح الدین(الفیضی المدنی) بن لودھو میاں بن شوفل میاں بن حسینی میاں بن فقیر میاں ہے ‘کنیت :أبو أسامہ لکھا کرتا ہوں ‘عبد السلام صلاح الدین کے نام سے عام طور پر متعارف ہوں

تاریخ پیدائش و جائے پیدائش :سرکاری و غیر سرکاری دستاویزات کے مطابق :۷ مارچ ۱۹۷۶ء میری تاریخ پیدائش ہے‘بمقام ماتھاسیر‘پوسٹ پربت پور ‘گریڈیہہ ‘جھارکھنڈ

خاندانی منظر و پس ِ منظر

شیخ الکل فی الکل محدث سید نذیر حسین دہلوی ۔رحمہ اللہ ۔کے شاگردان کا جال پورے ملک کے طول و عرض میں بچھا ہوا ہے‘یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ وہ وہ جہاں بھی گئے ‘علم و حکمت کی کرنیں منور کرتے گئے ‘وہ جہاں بھی پہنچے اپنے علمی فیوض و برکات سے سب کو روشن کرگئے ‘مغربی بنگال کے امبھا کے جناب مولانا عبد الرحیم انبھاوی ([1])کا شمار آپ کے شاگردوں میں ہوتا ہے ‘آپ نے بھی علامہ دہلوی سے کسب ِ فیض کرنے کے بعد کچھ وقت کے لئے جھارکھنڈ کےضلع جامتاڑا ایک معروف گاؤں (پوکھریا) کواپنا مسکن بنایا اور پورے سنتھال پرگنہ میں گھوم گھوم کر دعوت و تبلیغ کرنا شروع کیا اور سلفیت کی ترویج و اشاعت کا بھر پور کام کیا ‘کتاب و سنت کی تعلیم کو خوب خوب عام کیا ‘یہ بات ۱۹۳۳۔۱۹۳۲ کے پس و پیش کی ہوگی جب مولاناانبھاوی بیربھومی ۔رحمہ اللہ ۔ کی تحریک و تذکیر سے گاؤں کے گاؤں اہل حدیث ہوئے ‘انہیں واقعات میں سے ایک واقعہ ضلع گریڈیہہ کے ایک گاؤں (بانکی خورد)کا ہے ‘جب آپ کے حرکت و عمل سے متاثر ہوکر لوگوں نے کتاب و سنت کو جانا ‘صحیح سمجھا‘اور ان پر عمل کرنا شروع کردیا ‘پھر کیا تھا (چونکہ بانکی خورد)میں سب حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ‘اس لئے کچھ جیالوں نے ایک الگ بستی بسانے کی سوچی جو خالص اہل حدیثوں کی ہو مگر ؎




چنانچہ ۱۹۳۳ء کے پس و پیش بانکی خورد سے الگ ہوکر ایک اہل حدیث بستی بسائی گئی جسے ~ماتھاسیر}کے نام سے موسوم کیا گیا‘اور وہ لوگ جو مولانا انبھاوی کے تعلیم و تذکیر اور وعظ و نصیحت سے متاثر تھے‘ وہیں جا آباد ہوئے ‘ان میں میرے دادا جان (جناب لودھو )میاں۔رحمہ اللہ۔ بھی تھے (
[2])دادا جان کے بارے میں یہ تو پتہ نہ چل سکا کہ انہوں نے تعلیم کہاں تک پائی تھی ‘مگر اتنی بات تو مسلم ہے کہ دینی تعلیم کی بہترین شد بد رکھتے تھے‘ کتاب و سنت کی تعلیم جہاں اور جس سے ملتی ‘حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ‘اس کے لئے دور دراز کا سفر بھی کرتےتھے ‘دور دور تک جلسے جلوس میں شرکت بھی فرماتے تھے ‘علمائے کرام سے بھر پور استفادہ فرماتے ‘اور جسے حق سمجھتے فورا عمل کرتے اور اسی کا نتیجہ تھا کہ جن لوگوں نے بانکی خورد سے الگ ہوکر ماتھاسیر کی بستی بسائی ‘ان میں دادا جان بھی تھے۔


جب آپ لوگ ماتھاسیر آئے تھے ‘اس وقت لوگوں کی تعداد انتہائی قلیل تھی ‘پھر ایسا ہوا کہ ؎

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب ِ منزل مگر v لوگ آتے گئے اور کارواں ‘بنتا گیا

لوگ آتے گئے ‘بستی بنتی گئی ‘اس طرح حاملین ِ کتاب و سنت کی ایک مستقل بستی بن گئی اور اس بستی میں کتاب و سنت کی تعلیمات گونجنے لگی ‘اور اب یہ بستی بھری پری ہوگئی ہے ‘اس میں علماء ‘حفاظ ‘ادباء ‘فقہاء‘خطیبان ‘انشاء پردازان اور مقالہ نگاران کی عظیم تعداد ہے ‘جن کی خدمات بے مثل ہیں ‘یہاں پر تین تین جامع مسجد ہیں ‘یہاں کے علماء کا شمار جھارکھنڈ کے کبار علماء میں ہوتا ہے ‘فالحمد للہ علی ذلک ‘کسی موقعے سے ان جہود و مساعی کا تذکرہ بھی کیا جائے گا۔ان شاء اللہ۔

دادا جان ۔رحمہ اللہ۔ ایک خدا ترس ‘متقی ‘متواضع ‘دین پسند ‘دین دار ‘علم پرور‘علماء نواز تھے ‘دین پر مرمٹنا اپنا واجبی حق سمجھتے تھے۔ دادا جان جناب~ لودھو میاں }۔رحمہ اللہ۔ماتھاسیر میں آکر بسے اور اللہ نے انہیں پانچ اولاد سے نوازا ‘جن کے نام حسب ذیل ہیں


(۱)الحاج محمد مسلم صاحب (
[3])(۲)مولی میاں صاحب([4]) (۳) صلاح الدین صاحب ([5])(۴) ابراہیم صاحب ([6]) (۵) ایک لڑکی (جن کا نام وغیرہ نہیں معلوم ہوسکا)


یہ تو رہا خاندانی پس ّ منظر کی مختصر سی ایک جھلک ‘اب آئیے ممدوح ِ مکرم کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں :۔

ابتدائی تعلیم :جامعہ اسلامیہ یوسفیہ منکڈیہا (پربت پور‘گریڈیہہ)میں شروع کی گئی ‘جہاں

مولانا محمد قربان اثری ‘مولانا محمد عطاء اللہ محمدی ‘مولانا عبد الخالق اثری‘حافظ طالب حسین اصلاحی جیسے اساتدہ سے کسب فیض کیا

پھر

متوسطہ و ثانویہ (فارسی کی دوسری کتاب سے لے کر جماعت ِ ثالثہ تک) کے لئے والد گرامی نے قاری محمد یونس اثری ۔حفظہ اللہ ۔کے ایماء و اشارہ پر جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند میں داخل کردیا‘جامعہ محمدیہ اس وقت علاقہ کا مرکزی ادارہ تھا‘جہاں ایک سے بڑھ کر ایک اجلہ اساتذہ علم و فن تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دے رہے تھے‘جامعہ کا اس وقت طوطی بولتا تھا‘اس کی شہرت عروج کو تھی‘وہاں داخل ہوا اور پھروہاں

مولانا شفاء اللہ فیضی (ناظم مرحوم)‘مولانا عبد الخالق جامعی‘قاری جمال الدین مظاہری ‘ استاد القلم مولانا محمد خالد فیضی‘مولانا عبد الستار اثری ‘قاری محمد یونس اثری ‘مسعود عالم فیضی ‘مولانا عبد الرشید شائقی‘مولانا عبد اللہ مدنی‘مولانا محمد جرجیس سلفی‘مولانا عبد العلیم مدنی ‘جیسے اجلہ اساتذہ ٔ علم و فن سے علمی تشنگی بجھائی

جامعہ محمدیہ میں گزرے ایام :۔

پھر اعلی تعلیم کے لئے

جامعہ عالیہ عربیہ مئو ناتھ بھنجن میں جا داخل ہوا اور

وہاں شیخ محمد مظہر سلفی ‘شیخ شریف اللہ سلفی ‘شیخ أسلم مدنی‘شفیق أحمد ندوی ‘جیسے اساطین علم و فضل سے علمی گرسنگی اور تعلیمی تشنگی بجھائی ‘پھر

جامعہ فیض عام مئو میں چوتھی جماعت میں داخلہ لیا ‘اور درج ذیل اساتذہ سے کسب ِ فیض کیا :

اساتذہ:شیخ عبد الغنی فیضی‘شیخ نسیم اختر فیضی‘شیخ زین العابدین سلفی فیضی‘شیخ حماد الرحمن سلفی فیضی۔

اس کے بعد شیخ مختار عالم ریاضی (بابوڈیہہ)کی معیت میں

جامعہ ریاض العلوم دہلی کے لئے رخت سفر باندھا‘اور وہاں عالمیت(عربی کی پانچویں و چھٹی جماعت)کی تعلیم مکمل کی اور علامہ شیخ شبیر ازہر میرٹھی‘شیخ و مفتی عبید الرحمن مدنی ‘شیخ جمیل احمد مدنی ‘شیخ عبد الأحد بن عبد اللطیف مدنی‘شیخ عبد التواب مدنی جیسے اجلہ اساتذہ علم و فن سے اکتساب ِ فیض کا شرف حاصل ہوا ‘شیخ عبد الأحد مدنی سے کافی متاثر ہوا ‘اور آپ حفظہ اللہ خاکسار سے بھی کافی متاثر ہوئے‘دہلی کا یہ سفر اپنے دو عزیزوں (شیخ عبد المتین فیضی اور شیخ ہلال الدین ریاضی)کے ساتھ ہوا تھا‘جو دو سال (جب تک ریاض العلوم میں رہے)تک میرے ساتھ رہے‘پھر ساتھ ہی دونوں عزیزان فیض عام بھی آئے‘البتہ عزیزم ہلال نے دو بارہ دہلی کا رخ کیا اور ریاض العلوم سے فراغت حاصل کی)

پھر دوبارہ فضیلت کے لئے جامعہ فیض عام مئو آگیا ‘اور فضلیت مکمل کی ‘اور

جنوری ۱۹۹۵ء(بروز جمعرات )فراغت کی سند حاصل کی ‘اور دستار ِ فضیلت عطا کی گئی‘آخری درس ِ حدیث کے لئے جامعہ سلفیہ کے مایہ ٔ ناز شیخ الحدیث‘مناظر ِ اسلام ‘درجنوں کتابوں کے مؤلف و مترجم علامہ رئیں الأحرار ندوی مدعو کئے گئے ‘اور آپ سے ہی آخری حدیث لی گئی ‘دستاری بندی کی مناسبت سے خطاب کے لئے قاری زبیر فیضی مدعو تھے ‘جبکہ بخاری شریف کی پہلی حدیث کے لئے شیخ الجامعہ علامہ محفوظ الرحمن فیضی ۔حفظہ اللہ۔نے اپنے استاذ گرامی قدر مفتی حبیب الرحمن فیضی کو منتخب فرمایا ‘اور آں رحمہ اللہ نے بخاری کی پہلی حدیث کا درس دیا ‘فالحمد للہ ‘اس طرح مفتی حبیب الرحمن فیضی ۔رحمہ اللہ۔ بھی ہمارے اساتذہ کی فہرست میں شامل ہیں

الحمد للہ دستار بندی حضرت قاری و حافظ نثار احمد فیضی کے بدست انجام پژیر ہوئی ‘قاری صاحب سے دستار بندھوانے کے لئے فارغین ترستے تھے ‘قاری صاحب نے دستار باندھتے ہوئے فرمایا تھا:,,بیٹے اس دستار کا ہمیشہ خیال رکھنا‘‘ آپ کے وہ جملے آج بھی میرے کانوں میں رس گھولتے ہیں‘اور خوب خوب زندہ ہیں۔

دستار بندی کے موقعے پر استاذ گرامی حضرت مولانا قاری محمد یونس اثری ‘برادرِ گرامی سفیر الدین صاحبان مئو تشریف لائے ‘اور حوصلہ بڑھا‘فراغت کی دوسری صبح جمعہ کا دن تھا‘خطبہ ٔ جمعہ کے لئے استاذ گرامی شیخ نسیم اختر فیضی کی مسجد کے لئے منتخب کیا گیا ‘اور وہیں پر خطبہ دیا‘اپنے زمیل ِ درس شیخ عشرت پرویز فیضی کے یہاں کھانے پر مدعو کئے گئے ‘ہمارے ساتھ برادرِ گرامی سفیر الدین (ابو خورشید)اور قاری محمد یونس اثری صاحبان بھی مدعو تھے

جامعہ فیض عام میں جن اساتذہ ٔ علم و فن اور اساطین ِ فقہ و حدیث سے اخذ و استفادہ کا شرف حاصل ہوا ‘ان میں :شیخ الحدیث شیخ محفوظ الرحمن فیضی ‘حافظ و قاری نثار أحمد فیضی۔رحمہ اللہ۔‘شیخ ابو القاسم عبد العظیم مدنی ‘شیخ عبد الحمید فیضی اور شیخ عبد المعید قاسمی ۔رحمہ اللہ۔ خاص طور پر قابل ِ ذکر ہیں‘شیخ محفوظ الرحمن فیضی سے خاص قربت رہی‘آپ مجھ خاکسار کو کافی اہمیت دیا کرتے تھے ‘اور تا ہنوز علمی استفادہ کرنے کا شرف حاصل ہے۔

شیخ محفوظ الرحمن فیضی ۔حفظہ اللہ۔بخاری کا درس دیتے تھے تو عبارت خوانی کی ذمہ داری اکثر میرے اوپر ڈالا کرتے تھے ‘میرے ہم سبق ڈاکٹر امتیاز فیضی‘شیخ نصر اللہ فیضی ‘شیخ ابراہیم بن عبد الشکور فیضی اور شیخ عبد المعید ازہر فیضی بھی ہمارے معاون ہوا کرتے تھے ۔

ایک بار کا ذکر ہے کہ بہار اکزام بورڈ کا امتحان ہو رہا تھا ‘سارے لڑکے ۔جنہیں امتحان دینا تھا۔گھر جا رہے تھے ‘میں بھی چھٹی لے کر چلا گیا ‘جب واپس ہوا تو صدر صاحب(شیخ محفوظ الرحمن فیضی )نے انتہائی والہانہ انداز میں مسکراتے ہوئے فرمایا:کہاں چلے گئے تھے جی!تمہارے بغیر درس میں اچھا ہی نہیں لگتا ہے ‘‘

ہمارے ایک ساتھی فیاض فیضی از راہ ِ مذاق کہتے تھے کہ :صدر صاحب سے آپ کا کیا تعلق ہے کہ اتنا بیقرار ہو رہے تھے ؟

پھر ۱۹۹۵ء میں جب جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دے رہا تھا ‘اسی اثناءعالم اسلام کی مشہور ِ یونیوسیٹی (جامعہ اسلامیہ مدینہ) کی طرف سے دورہ تدریبیہ دہلی میں شیخ عبد الحمید رحمانی ۔رحمہ اللہ۔ کے عظیم ادارے (مرکز ابو الکلام آزاد للتوعیۃ )کے زیر انتظام منعقد ہوا‘جامعہ فیض عام کی طرف سے خاکسار کی ترشیح ہوئی ‘دورہ تدریبیہ میں شریک ہا‘اور بحمدہ تعالی دس ممتاز لڑکوں میں شامل ہوا ‘سعودی مشایخ کے ہاتھوں تکریم کی گئی ‘اور کاغذات لئے گئے ‘

دورہ ٔ تدریبیہ (جو ۲۱ دنوں پر محیط تھا)میں جن اساتذہ سے کسب ِ فیض کیا ‘ان میں ڈاکٹر محمد بن ربیع المدخلی ‘ڈاکٹر یوسف المغیربی‘ڈاکٹر عبد الخالق الشمرانی جیسے اجلہ علمائے عرب خاص طور پر قابل ذ کر ہیں‘پھر تدریس کے لئے کشمیر لوٹ گیا ‘اور مرکز تعالیم القرآن کے زمانہ ٔ تدریس میں جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ سے داخلے کی نوید آئی‘اور ۱۹۹۶ ء میں مدینہ طیبہ جا وارد ہوا ‘اور وہاں جامعہ کے ایک مشہور فیکلٹی

(کلیۃ الدعوۃ و أصول الدین) سے ۲۰۰۱۔۲۰۰۰ء میں بی اے کی تعلیم مکمل کی‘جہاں پر

ڈاکٹر محمد بن صالح العقیل‘ڈاکٹر صالح سندی‘ڈاکٹر عبد اللہ بن محمد الغنیمان ‘ڈاکٹر محمد بن محمد الشنقیطی ‘ڈاکٹر محمد بن صالح البراک ‘ڈاکٹر علی بن عبد العزیز الشبل ‘ڈاکٹر عبد الخالق الشمرانی ‘ڈاکٹر أحمد بن عبد اللہ الحمدان ‘ڈاکٹر خلیف بن مبطی السہلی‘ڈاکٹر محمد نور ولی ‘ڈاکٹر خوجہ ‘ڈاکٹر عبد الرحیم المغذّوی‘ڈاکٹر سعود الدعجان ‘ وغیرہ جیسے دکاترہ ٔ علم و فضل سے علم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا

پھر جامعہ میں ماجستیر کے لئے داخلہ امتحان میں شریک ہوا ‘الحمد للہ کامیاب بھی ہوگیا ‘نام بھی آگیا ‘لیکن بعض امور کی وجہ سے دراسات علیا کی تعلیم جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے مکمل نہ کرسکا ‘و للہ فی خلقہ شؤؤن ۔

ہوسکتا ہے کہ اللہ نے اسی میں کوئی عظیم مصلحت رکھی ہو‘جہاں تک ہماری رسائی نہ ہو ‘و الحمد للہ علی کل حال

مسجد ِ نبوی میں قائم دروس کے اساتذہ

جامعہ میں پڑھنے کے زمانے میں مسجد نبوی میں بالخصوص قائم تمام ہی دروس میں شرکت کرتا رہا ‘اور وقت کے محدثین ‘فقہائے عظام اور مفسرین سے اخذ و استفادہ کرتا رہا ‘جن میں:

محدث المدینہ و فقیہہا علامہ عبد المحسن بن حمد العباد البدر‘شیخ عبد الرزاق بن عبد المحسن البدر‘شیخ ابو بکر جابر الجزائری‘شیخ صالح العبود(مدیر الجامعہ الإسلامیہ بالمدینہ)‘فقیہ ِ وقت:شیخ محمد بن محمد المختار الشنقیطی ‘شیخ حمود الوائلی ‘شیخ عمر فلاتہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں (یہ وہ اساتذہ ہیں‘جن سے باستمرار دروس حاصل کئے ہیں‘الحمد للہ)

پھر

ایم اے (ماجستیر)جامعہ اسلامیہ منیسوتا‘امریکہ (فرع الیمن )(قسم السنۃ النبویۃ و علومہا)(آن لائن)مکمل کیا ‘درج ذیل اساتذہ سے بھر پور استفادہ کیا:ڈاکٹر فلاح کرکولی‘ڈاکٹر محمد الشیخ ‘ ‘ڈاکٹر عبد الرحمن سید بلح‘ڈاکٹر یحیی جابر ‘ڈاکٹر نضال ثلجی وغیرہ

موضوع مقالہ تھا :الشیخ محفوظ الرحمن الفیضی و جہودہ فی خدمۃ السنۃ النبویۃ

پھر پی ایچ ڈی بھی جامعہ اسلامیہ منیسوتا‘امریکہ (فرع الیمن ) (قسم السنۃ النبویۃ و علومہا)سے کرنے کا شرف حاصل رہا ‘اور درج ذیل اساتذہ سے اکتساب ِ فیض کرتا رہا

اساتذہ : ڈاکٹر فیصل العطائی ‘ڈاکٹر نضال ثلجی‘ڈاکٹر فلاح کرکولی‘ڈاکٹر عبد المعین إکرام شامل استفادہ رہے ۔

پی ایچ ڈی کے لئے جو موضوع منتخب کیا تھا وہ ہے‘:جهود علماء جاركند(كوكبةٌ من أئمة النور و الهدى في دياجير الظلمات بولاية جاركند ()

اہم انجازات و اعمال

(۱)زندگی میں تو بہت سے ایسے کام ہوئے ہیں جو انجام دئے گئے ہیں‘اللہ قبول فرمائے ‘لیکن خصوصی طور پر مرکز آزاد التعلیمی الإسلامی ‘بلاقی روڈ گریڈیہہ ‘جھارکھنڈ کا قیام انتہائی اہم ہے‘جس کے قیام میں میرے دو دوست شیخ محمد کلیم انور مدنی اور حافظ محمد ایوب سلفی برابر کے شریک تھے ‘یہ الگ سی بات ہے کہ ان دونوں بزرگوں نے(خصوصی طور پر) مجھ ناچیز کو رئیس (صدر)بندیا تھا ‘حافظ و قاری ایوب سلفی صدر بنائے گئے تھے ‘اور شیخ محمد کلیم انور مدنی نائب صدر (ورنہ تینوں میں کوئی فرق نہ تھا)

(۲)جمعیۃ الحرمین التعلیمیہ و الخیریہ رانچی کا قیام

یہ ادارہ بھی تین اشخاص(مولانا و قاری ایوب سلفی,مولانا کلیم انور تیمی ,مولانا نصیر الدین فیضی اورخاکسار)کی محنت سے وجود میں آیا,مگر کسی کی نظر ِ بد لگ گئی اور پھول کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گیا (فاللہ المستعان)

(۳)لائف انٹر نیشنل انگلش میڈیم(رانی ٹانڑ ) کا قیام

لائف انٹر نیشنل اسکول رانی ٹانڑ کا قیام بھی ناچیز کے اہم انجازات میں شامل کیا جا سکتا ہے ‘۱۴ فروری ۲۰۲۱ءکو علماء‘زعماء اور مختلف عظیم شخصیات کی موجودگی میں جس کا افتتاح کیا گیا ‘اللہ قبول فرمائے‘آمین یا رب العالمین

واضح ہو کہ اس کے لئے ایک لانگ پلاننگ(طویل المیعاد منصوبہ بندی) کی گئی تھی,مگر تا ہنوز (کرونا کی وجہ سے)تعلیم کا آغاز نہیں ہوسکا

بڑے مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس اسکول کے افتتاح کے موقعے پر علماء نے کچھ نے کھل کر تو کچھ نے پس ِ پردہ مخالفت کی,اور خوب خوب مخالفت کی,اس کی بھی ایک درد ناک بلکہ عبرت ناک کہانی ہے,جسے بعد کے لئے اٹھا رکھتا ہوں

(۴)اللہ تعالی نے ناچیز کے ہاتھوں کئی مساجد کی تعمیر بھی کروائی ‘جس میں :جامع الفاروق گریڈیہہ(جو قلب شہر میں واقع ہے‘اور بدعات و خرافات کے قلع قمع اور سنت و توحید کے احیاء میں اہم رول ادا کیا ہے‘فللہ الحمد و المنہ ‘اسی طرح جامع التوبہ ‘ماتھاسیر ‘گریڈیہہ ‘کی تعمیر میں بھی بھر پور کردار رہا‘اللہ قبول فرمائے

(۵)خاکسار کے ہاتھوں علاقے کے مختلف گاووں میں‘مختلف مساجد میں چاپاکل (بورویل)کا کام بھی انجام پایا ہے ‘اللہ قبول فرمائے

(۶)ماہ ِ رمضان میں افطار پارٹی کا بھی انتظام خاکسار کی طرف سے مختلف مساجد و قریہ جات میں ہوتا ہے

(۷)عید کے موقعے پر فقراء و مساکین کے درمیان عیدی بھی باستمرار تقسیم کا عمل بھی خاکسار کے توسط سے انجام پاتا ہے

(۸)جھارکھنڈ کے عوامی مرکزی ادارہ جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند کی نشأۃ ثانیہ کے لئے بھر پور کوشش کی گئی ‘اس کے لئے ایک خاص گروپ بھی تشکیل دیا گیا ‘اایک واٹ ایپ پر انتخاب بھی عمل میں آیا,جس کے لئے صدارت کا عہدہ تفویض کیا گیا ,مگر کچھ اپنے جامعہ کے بد خواہوں کی نظر لگ گئی,اور اس عہدہ سے دست بردار ہوگیا,تا ہم الحمد للہ جامعہ دو بارہ اپنی رفتار پر ہے ‘اسے بھی اہم انجازات میں شامل کیا جا سکتا ہے(یہ الگ سی بات ہے کہ بعد میں پھر پژمردگی آئی)

(۹)سعودی عرب کے مختلف دعوتی سینٹر (مکاتب جالیات)میں ۲۰۰۵ء سے تا ہنوز کام کرنے کا سنہرا موقع حاصل ہے‘جس کے توسط سے دروس ‘محاضرات ‘کلمات پیش کرنے پا شرف حاصل رہا ہے ‘الحمد للہ علی ذلک

(۱۰)اس درمیان مختلف دوروں میں شریک ہونے کا موقعہ بھی ملا‘اور مختلف اصحاب ِ علم و فن سے فیض یابی کا شرف بھی حاصل رہا ہے

تعلیم و تدریس :

۔فراغت کے بعد (۱۹۹۵ء)میں جموں و کشمیر میں قائم ایک سلفی ادارہ بنام (مرکز تعالیم القرآن و السنۃ ‘ناچلانہ)میں تعلیم و تدریس کا سنہرا موقعہ ملا‘جس میں کچھ ہی دنوں کے بعد نائب پرنسپل بنادیا گیا تھا‘وہاں ‘ مشکاۃ المصابیح ‘بلوغ المرام ‘شرح الوقایہ ‘اور مجموعۃ من النظم و النثرکی تدریس کا موقعہ ملا‘بعض لوگ وہاں پر طرز تدریس کو دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ انہوں نے تو فقہ میں پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے(یہ کلمات بعض کشمیریوں کے ہیں‘حالانکہ من آنم کہ من دانم ‘نہ فقیہ ہوں‘نہ فقہ سے بہت زیادہ دلچسپی ہے؛ہاں کچھ حاصل کرنے,معلومات جمع کرنے کی ضرور کوشش کرتا ہوں)

مرکز تعالیم القرآن میں جن تلامذہ نے نام پیدا کیا ‘ان میں :شمعون أحمد مدنی ‘نذیر احمد مدنی ‘نثار احمد مدنی ‘عبد القیوم سراجی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ,یہاں کی مدت تدریس کوئی ڈیڑھ سال بنتی ہے۔

۔کچھ دنوں کے لئے مرکز آزاد میں بھی ۔کلیدی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ۔ تدریسی فرائض انجام دئے ہیں ‘جس میں عقیدہ خاص طور پر پڑھانے کا موقعہ ملا ہے ‘مرکز آزاد میں پڑھنے والے جن تلامذہ نے بعد میں خاصا نام پیدا کیا ‘ان میں :شیخ ذوالفقار علی سکندر تیمی ‘شیخ ریاض سلفی ‘شیخ مظہر سکندرتیمی‘شیخ محمد قاسم ندوی خاص طور پر قابل ذکر ہیں؛یہاں کوئی ڈھائی سال بطور مدیر اعلی زمین پر رہ کر کام کیا,اور اس زمانے میں بحمدہ تعالی ایک سے بڑھ کر ایک لڑکے مرکز سے نکلے اور آسمان ِ صحافت و خطابت,دعوت و تدریس اور تعلیم و تربیت کے جوہرِ نایاب بن کر نکلے

تالیفات و تراجم

(۱)قرآن خوانی کتاب و سنت کی عدالت میں ‘مراجعہ و تقدیم :شیخ محفوظ الرحمن الفیضی ‘سابق شیخ الجامعہ‘جامعہ اسلامیہ فیض عام (۶۱ صفحات)(اس کتاب پر شیخ گرامی نے نظرِ ثانی کا کام اپنے زمانہ ٔ حج(۱۹۹۷ء) میں مدینہ منورہ میں فرمایا تھا)(مطبوع)

(۲)تعویذ و گنڈے کی شرعی حیثیت ‘مراجعہ و تقدیم :شیخ أحمد مجتبی السلفی المدنی (۶۷ صفحات) (مطبوع)

(۳)بدعات اور ان کی ہلاکت خیزیاں ‘مراجعہ و تقدیم: شیخ أحمد مجتبی سلفی مدنی (۳۷۶ صفحات) (مطبوع)

(۴)ماہ ِ رمضان اور اس کے جدید فقہی مسائل :نظر ثانی ‘شیخ محفوظ الرحمن فیضی ‘تقدیم :ڈاکٹر معراج عالم انفاق تیمی مدنی ‘ڈاکٹر محمد نصیر الدین عمری (۳۵۰ صفحات) (مطبوع)

(۵)کورونا وائرس:ایک تجزیاتی مطالعہ :نظر ِ ثانی و تقدیم :شیخ محمد اشفاق سلفی مدنی (۱۵۰ صفحات) (مطبوع)

(۶)کلا وعد اللہ الحسنی(صحابہ ٔ کرام کے فضائل و مناقب):نظر ثانی و تقدیم :شیخ محمد اشفاق سلفی مدنی(۲۴۵ صفحات) (مطبوع)

(۷)عقیدہ ہو تو ایسا (ترجمہ :العقیدہ الإسلامیۃ ‘للشیخ عبد اللہ بن عبد العزیز الجبرین)(۳۰۰ صفحات)(غیر مطبوع)

(۸)موسم ِ سرما :احکام و مسائل :نظر ثانی و تقدیم:شیخ محمد اشفاق سلفی مدنی(۱۵۶ صفحات) (مطبوع)

(۹)الشیخ محفوظ الرحمن الفیضی و جہودہ فی خدمۃ السنۃ النبویہ (عربی)(۲۶۴ صفحات) (مطبوع)

(۱۰)کوکبۃ من أئمۃ النور و الہدی فی دیاجیر الظلمات بولایۃ جارکند(عربی )(۴۰۰ صفحات) (زیر طبع)

(۱۱)انوار ِ عشرہ (۱۴۵ صفحات)

(۱۲)الشیخ محمد ضیاء الأعظمی و جہودہ فی خدمۃ السنۃ النبویۃ (زیر ِ ترتیب)

(۱۳)قاری محمد یونس اثری (ماتھاسیر کے لعل ِ بدخشاں)(غیر مطبوع)

(۱۴)سفر کے احکام و آداب (زیر ِ ترتیب)

اس کے علاوہ ہندوستان و غیر ملکی جرائد و مجلات میں مختلف قسم کے مقالات شائع ہوئے ہیں نیز شائع ہوتے رہتے ہیں‘جس میں حساس موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا ہے‘اور اہل بدع و خرافات کی قلعی کھولی جاتی ہے

شادی اور اولاد و احفاد

خاکسار نے دو شادیاں کیں‘اور دونوں سے اللہ نے درج ذیل اولاد سے نوازا

(۱)اسامہ ابرار(۲)ثمامہ احرار(۳)زہری جمال (۴)قدامہ بشار (۵)علقمہ انصار
فالحمد للہ علی ذلك

جاری ۔۔۔۔۔۔




([1]) جناب مولانا عبد الرحیم امبھاوی بیر بھومی (۱۸۶۰ء۔۱۹۶۰ء) ‘مولانا محمد جونا گڑھی اورشیخ الحدیث شمس الحق السلفی کے خسر مبارک اور معروف محقق عزیر شمس کے نانا محترم تھے‘انتہائی مالدار آدمی تھے‘جھارکھنڈ کے ضلع جامتاڑاکے ایک مشہور گاؤں ,, پوکھریا‘‘ میں وارد ہوئے ‘تو علمی فیوض کے ساتھ ساتھ رفاہی برکات و خیرات کے دریا بہادئے ‘جناب الحاج امیر الدین چمپاپوری کے تعاون کے ساتھ چمپا پور میں ایک مسجد بنائی ‘اسی طرح ایک مسجد اپنے خرچ پر ضلع دیو گھر کے برو ٹانڑ میں بنوائی‘آپ اپنے جیب ِ خاص سے ائمہ و مؤذن ین کاتقرر کیا کرتےتھے ‘تنخواہیں دیا کرتے تھے‘ موضع پوکھریا میں مدرسہ(جامع العلوم) قائم فرمایا ‘تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا ‘اور کئی نامی گرامی تلامذہ آپ کے ہاتھوں ماہر دعوت و تبلیغ بن کر نکلے ‘جن میں مولانا عبد اللطیف شمسی ‘مولانا وزیر (والد مولانا عبد الخالق جامعی)مولانا حاتم کرواوی‘جناب نندو (نور الدین )مہاشے ‘جناب عبد القادر کٹھ ڈابری ‘الحاج عبد الغفار پرنا نگر‘جناب عبد العزیز (والد گرامی شیخ عبد العلیم مدنی)الحاج امیر الدین چمپاپوری اور ان کے بھائی جناب خاطر میاں (یہ معلومات استاد گرامی مولانا محمد خالد فیضی نے بہم پہنچائیں )
([2]) یہ وہ زمانہ تھا جب سارے مسالک کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ نمازیں ادا کیا کرتے تھے‘دوگانہ ادا کرنے کے لئے دور دور سے لوگ آیا جایا کرتے تھے ‘جناب مولوی عبد العزیز (عرف بوڑھا مولوی)ماتھاسیروی کی روایت کے مطابق کوریاد نامی بستی میں دوگانہ ادا کیا جاتا تھا اور حنفی ‘دیوبندی ‘اہل حدیث سب ایک ساتھ نماز ادا کیا کرتے تھے ‘بہت بڑی عید گاہ تھی ‘علاقے کی مشہور بستی ٹوپاٹانڑ سے مولانا صاحب نماز پڑھانے کے لئے آیا کرتے ‘یا کسی کو بھیجا کرتے تھے
([3])بڑے ابا (جناب الحاج محمد مسلم صاحب)بھی دادا جان کی طرح انتہائی پرہیز گار‘متقی ‘خدا ترس ‘علم دوست ‘علماء نواز تھے ‘علاقے میں جہاں بھی کوئی جلسہ منعقد ہوتا ‘بے ساختہ پہنچ جاتے ‘مستفید ہوتے اور دوسروں کو مستفید کرتے ‘خاص کر خطیب الإسلام مولانا عبد الرؤف صاحب جھنڈا نگری رحمانی ۔رحمہ اللہ۔ کے بے تحاشہ گرویدہ تھے ‘آپ رحمہ اللہ جہاں بھی تشریف لاتے ‘بڑے اباضرور پہنچ جاتے‘بڑے ابا جھنڈا نگری کے بے تحاشہ مداح بھی تھے ‘پیدل ‘بیل کی سواری کرکے پہنچتے ‘اوران کی ہر تقریر سنتے ‘جہاں جہاں جلسے ہوتے ‘ضرور شرکت کرتے ‘حالانکہ آپ ایک تاجر بھی تھے ‘لیکن اس کی پرواہ کئے بغیر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جلسوں میں شرکت فرماتے ‘جس سے آپ ان کے دین دوستی کا بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں
اللہ نے آپ کو چھ اولاد (بیٹا بیٹیوں ) سے نوازا تھا ‘جن میں دو بیٹیاں تھیں ‘اور چار بیٹے
(۱)ممدوح مولانا و قاری محمد یونس اثری (آپ کے تعلق سے آئندہ سطور میں کچھ باتیں ملاحظہ فرما سکیں گے (۲)جناب ایوب صاحب (آپ ابھی بقید حیات ہیں اور اللہ نے دو لڑکے اور تین لڑکیوں سے مالا مال کر رکھا ہے)(۳)جناب محمد نسیم صاحب (آپ رحمہ اللہ کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا)(۴)ام ہلال (۵)ام منصور
([4]) آپ ماتھاسیر میں بہت کم عرصہ رہے ‘اللہ نے ایک لڑکا (بنام :جناب مسعود صاحب)عنایت فرمایا ہے‘جو ابھی بقیدِ حیات ہیں ‘آپ بہت پہلے ماتھاسیر میں اپنی زمین جائیداد بیچ کر ضلع دھنباد میں جا آباد ہوئے تھے ‘وہیں پر کسی قبرستان کی رکھوالی کیا کرتے تھے ‘اور وہیں انتقال فرمایا ‘اپنے عہد ِ طفولت میں میں نے آپ کو ایک آدھ بار دیکھا ہے‘ماتھاسیر آیا کرتے تھے ‘(امی جان ۔رحمہا اللہ ۔ جب بھی وہ آتے ‘بڑی خدمت کیا کرتی تھی ‘اور اپنی بہوؤں کو ان کی خدمت سے دور رکھا کرتی تھیں ‘اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ آپ ایسے مرض سے جوجھ رہے تھے جو عام طور پر متعدی سمجھا جاتا ہے‘والدہ مرحومہ خود خدمت کرتیں ‘جس پلیٹ میں کھانا کھاتے تھے ‘خود دھوتی تھیں ‘اللہ کا کرم ہے ‘کہ مرض کے چھوت چھات ہونے کے باوجود اس مرض کا شکار نہیں ہوئیں ‘الحمد للہ ‘یہ یقینا میری والدہ کے قوت ِ عقیدہ کی بین دلیل ہے)پھر اللہ نے انہیں اپنے پاس بلالیا ‘بھائی مسعود سے ایک بار ملاقات ہوئی تھی ‘اور اللہ کا کرم ہے کہ جس مقصد سے وہ تشریف لائے تھے ‘ان کی حتی المقدور تعاون پیش کرنے کا شرف حاصل رہا (اللہ قبول فرمائے)
([5])راقم السطور کے والد ِ گرامی ۔رحمہ اللہ۔اردو زبان تو پڑھے لکھے نہیں تھے ‘مگر بنگلہ زبان کے ماہر تھے ‘اللہ نے بے تحاشہ مترنم آوازسے نوازا تھا ‘بنگلہ اشعار انتہائی خوش گلو کے ساتھ پڑھتے تھے ‘اور سامعین میں ایک عجیب سماں بندھ جاتا تھا ‘اپنے عہد ِ طفولت میں بعض محافل میں آپ کو اور آپ کے ہم عصر جناب مولوی عبد العزیز کو ایک ساتھ خوش الحانی سے پڑھتے میں نے خودسنا ہے ‘محفل جھوم جاتی تھی ‘وہ منظر آج بھی مجھے یاد ہے (اللہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے)‘دادا جان پر اللہ کا ایک خاص کرم یہ بھی تھا کہ اللہ نے انہیں جو بھی اولاد عطا فرمائی ‘وہ سب انتہائی سریلی آواز کے مالک تھے ‘لحن داؤدی سے مجلس کے سامعین میں ایک عجیب طرح کا رس گھولتے تھے اور اپنی جادوئی آواز سے سامعین کو مسحور کئے رہتے تھے ۔
آپ کے متعلق ممدوح مولانا و قاری یونس اثری صاحب کا کہنا ہے کہ آپ نے مجھے بنگلہ زبان پڑھایا ہے‘اس لئے مولانا قاری صاحب والد ِ گرامی کو انتہائی قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے‘بڑی عزت فرماتے تھے ‘۱۹۹۶ میں جب والد ِ گرامی کا انتقال ہوا ‘قاری صاحب اس وقت چندے کی مہم میں مصروف ڈوکیڈیہہ گاؤں میں تھے آپ کے ساتھ آپ کے ہم نوالہ و ہم پیالہ شیخ عبد الستار اثری ۔رحمہ اللہ ۔تھے‘فون وغیرہ کا زمانہ تو بالکل بھی نہ تھا ‘شدہ شدہ آپ تک اطلاع پہنچی ‘آپ فورا گھر پہنچے ‘اس وقت ابا محترم کو نہلایا جا رہا تھا‘نہلانے والے چچا تبریز صاحب مرحوم تھے ‘آپ وہیں بیٹھ گئے اور بے تحاشہ رونے لگے ‘آپ کی چیخیں نکل گئیں ‘کسی طرح لوگوں نے سمجھابجھایا ‘آپ نے بھی اپنے آپ کو کنٹرول کیا ‘مجھے صبر کی تلقین فرمائی ‘وہ گھڑی میرے لئے واقعتا صبر آزما تھا ‘کیوں کہ تین بھائیوں میں صرف میں ہی کفن دفن کے مراسم میں شریک تھا ‘نہ بڑے بھائی تھے نہ چھوٹے بھائی ‘ایسے میں مجھے بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے ؟مگر الحمد للہ علی قضاء اللہ و قدرہ
والد ِ گرامی ۔رحمہ اللہ۔کی پروش و پرداخت اپنے مامو گھر (لال چنڈیہہ) میں ہوئی ‘وہیں آپ پلے پڑھے ‘وہیں بکریاں چرائیں‘اور غالب گمان یہ ہے کہ وہیں پر آپ نے بنگلہ زبان سیکھی ہوگی‘اسی دور میں آپ سے علاقہ ٔ جھارکھنڈ کی ایک ممتاز شخصیت اور مشہور عالم ِ دین اور استاذ گرامی مولانا شفاء اللہ صاحب فیضی (المعروف بہ : ناظم) سے آپ کی ملاقاتیں ہوتی تھیں ‘دونوں ساتھ ساتھ بکریاں چرایا کرتے تھے ‘ناظم صاحب ہمارے یہاں ماتھاسیر بہ کثرت آیا کرتے تھے ‘کیوں کہ برادر ِ گرامی قاری محمد یونس اثری ۔حفظہ اللہ۔آپ کے دست راست تھے ‘آپ کے ہر کام میں آپ کے ممد و معاون ہوا کرتے تھے ‘چنانچہ جب بھی ماتھاسیر تشریف لاتے اپنی پرانی یادوں کا تذکرہ ضرور فرمایا کرتے تھے ‘آپس میں ہنسی مذاق بھی کرتے ہم نے خود دیکھا اور مشاہدہ کیا ہے ‘اللہ دونوں ہستیوں کو جنت الفردوس میں بھی ساتھ رکھے ) اللہ نے آپ کو چار اولاد سے نوازا جن میں سے ایک لڑکی (جو پہلی بیوی سے ہیں)اور تین اولاد جو دوسری بیوی (میری والدہ ماجدہ)سے ہیں‘آپ نے پہلی بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی کی تھی‘جن سے درج ذیل اولاد پیدا ہوئی:۔(۱)سفیر الدین ‘اللہ نے آپ کودس (۱۰)اولاد سے نوازا ‘جن میں ایک (دو کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا‘باقی سب بقید حیات ہیں(۲)عبد السلام مدنی (راقم السطور)‘اللہ نے مجھے پانچ اولاد عنایت فرمائیں ‘جن میں ایک بچی(زہرہ جمال) اور چار لڑکے(اسامہ ابرار‘حافظ ثمامہ احرار‘قدامہ بشار‘اور علقمہ انصار) ہیں ‘اور الحمد للہ سب پڑھ لکھ رہے ہیں‘اللہ سب کو کامیاب کرے(۳)عبد الرب (اللہ نے انہیں چھ اولاد(تین لڑکے تین لڑکیاں)سے نوازا ہے
([6])آپ اپنے عہدِ جوانی ہی میں اللہ سے جا ملے ‘میری والدہ بیان کرتی ہیں کہ چچا ابراہیم کو بھی اللہ نے بہ تحاشہ شیرینی آواز سے نوازا تھا اور چلتے پھرتے نغمہ سرائی کرتے رہتے تھے ۔
 
Top