ذیشان خان

Administrator
حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا

مقبول احمد سلفی
لوگوں میں عام طور سے ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے سے حج فرض ہوجاتا ہے یا یہ کہ حج کے مہینوں میں بغیر حج کے عمرہ نہیں کرنا چاہئے ۔
حج کے مہینے شوال ، ذی القعدہ اور ذی الحجہ ہیں۔
جیسے عمرہ کرنا دیگر مہینوں میں مسنون ہے ویسے ہی کسی کے لئے بغیر حج کی نیت کے عمرہ کرنا مسنون ہے یعنی اشہر حج میں عمرہ کرنے سے حج فرض نہیں ہوجاتا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتٰی عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ (مسلم)
ترجمہ : نبی کريم صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے جس وقت آپ نے ان يہ سب مواقيت ان لوگوں كے لئے ہيں جو وہاں کے رہنے والے ہيں اور ان کے علاوہ لوگوں کے لئے بھی ہيں جو وہاں سے حج يا عمره ادا كرنے کے ارادہ سے گزريں۔
اس حدیث سے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی دلیل ملتی ہے ۔ نیز نبی ﷺ سے بھی حج کے مہینوں میں حج کے بغیر عمرہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ آپ ﷺ سے چار عمرہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے اور یہ سارے عمرے ذوالقعدہ میں آپ نے ادا فرمایا ، اور سبھی جانتے ہیں کہ ذوالقعدہ حج کے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے ۔ بخاری و مسلم میں موجود ہے ۔
عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتمر أربع عُمر كلهن في ذي القعدة إلا التي مع حجته :عمرة من الحديبية أو زمن الحديبية في ذي القعدة ، وعمرة من العام المقبل في ذي القعدة ، وعمرة من جِعْرانة حيث قسم غنائم حنين في ذي القعدة ، وعمرة مع حجته۔ (صحیح البخاري :4148 وصحیح مسلم :1253)
ترجمہ : امام بخاری اورمسلم رحمہما اللہ نے انس رضي اللہ تعالی سے بیان کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چارعمرے کیے اوریہ سارے عمرے ذی القعدہ کے مہینہ میں تھے صرف وہ عمرہ جوآپ نے حج کےساتھ کیا وہ نہيں ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
انس اورابن عمررضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث کا حاصل یہ ہے کہ دونوں کا چارعمروں میں اتفاق ہے اوران میں سے ایک چھ ہجری ذی القعدہ کے مہینہ میں حدیبیہ کےسال تھا اس میں انہیں روک دیا گيا تھا تووہ حلال ہوگئے اوران کے لیے یہ عمرہ شمار کرلیا گیا ۔
اوردوسرا عمرہ ذي القعدہ سات ھجری میں عمرہ قضاء تھا ، اورتیسرا عمرہ ذي القعدہ آٹھ ھجری میں جسے عام الفتح کہا جاتا ہے میں کیا ، اورچوتھا عمرہ آپ صلی اللہ وسلم نے اپنے حج کےساتھ کیا اوراس کا احرام ذی القعدہ میں تھا اور عمل ذی الحجہ میں کیا۔
لہذا کوئی شخص بغیر حج کی نیت کے عمرہ ادا کرسکتا ہے ، چاہے تو متعدد بار بھی ادا کرسکتا ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور اہل علم کے مابین بھی اس سلسلے میں اختلاف نہیں پایا جاتا ۔

واللہ اعلم
 
Top